امریکی معافی کے باوجود پاکستانی مطالبات حل طلب ہیںنیویارک ٹائمز
پاکستان و امریکا میں بریک تھرواعلیٰ سفارتی کوششوں کے باعث ممکن ہوا، رپورٹ
پاکستان و امریکا میں بریک تھرواعلیٰ سفارتی کوششوں کے باعث ممکن ہوا، رپورٹ۔ فوٹو ای ایف پی
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ سلالہ حملے پر امریکی معافی کے باوجود پاکستان کے کئی مطالبات حل طلب ہیں۔اخبارکی رپورٹ کے مطابق تین روز قبل پاکستانی کابینہ نے دس صفحات پر مبنی دستاویز کی منظوری دی جس میں نیٹو ٹرانزٹ ٹریفک کے لیے شرائط رکھی گئی ہیں ۔
امریکی اور پاکستانی حکام کے مطابق یہ بریک تھرونہ صرف اعلیٰ سفارتی کوششوں کے باعث ممکن ہوا بلکہ اس سلسلے میں غیرروایتی بیک چینل رابطے بھی جاری رہے جنہیں وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے نائب تھامس آرنائیڈز اور پاکستا نی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ آگے بڑھاتے رہے۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفیرکی رہائش پر جون کے آخر میں ایک تقریب کے دوران قومی سلامتی کے مشیر تھامس ای ڈونیلن شیری رحمن کوعندیہ دیاکہ وائٹ ہائوس آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے،وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے نائیڈز اور امریکی ٹیم کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور یکم جولائی کو دونوں جانب کے حکام اسلام آباد میں حنا ربانی کھر کے گھر جمع ہوئے جہاں ان کی پانچ گھنٹے کی ملاقات ہوئی اور معافی نامے کے ٹیکسٹ پر کام کیا گیا۔
دو دن بعد ہلیری نے وزیر خارجہ حنا ربانی کو فون کیا اور کہا کہ ''سوری فاردی ڈیتھ آف دی 24سولجرز '' ۔ جس کے چند دن بعد کراچی بندرگاہ سے ٹرکوں کا پہلا قافلہ افغانستان کے لیے روانہ ہوا ۔رپورٹ کے مطابق تمام تربات چیت کے باوجود پاکستان کے متعدد مطالبات حل نہیں ہوئے جن میں ڈرون حملوں کی بندش ، فوجی امداد کی بحالی شامل ہیں۔
امریکی اور پاکستانی حکام کے مطابق یہ بریک تھرونہ صرف اعلیٰ سفارتی کوششوں کے باعث ممکن ہوا بلکہ اس سلسلے میں غیرروایتی بیک چینل رابطے بھی جاری رہے جنہیں وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے نائب تھامس آرنائیڈز اور پاکستا نی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ آگے بڑھاتے رہے۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفیرکی رہائش پر جون کے آخر میں ایک تقریب کے دوران قومی سلامتی کے مشیر تھامس ای ڈونیلن شیری رحمن کوعندیہ دیاکہ وائٹ ہائوس آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے،وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے نائیڈز اور امریکی ٹیم کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور یکم جولائی کو دونوں جانب کے حکام اسلام آباد میں حنا ربانی کھر کے گھر جمع ہوئے جہاں ان کی پانچ گھنٹے کی ملاقات ہوئی اور معافی نامے کے ٹیکسٹ پر کام کیا گیا۔
دو دن بعد ہلیری نے وزیر خارجہ حنا ربانی کو فون کیا اور کہا کہ ''سوری فاردی ڈیتھ آف دی 24سولجرز '' ۔ جس کے چند دن بعد کراچی بندرگاہ سے ٹرکوں کا پہلا قافلہ افغانستان کے لیے روانہ ہوا ۔رپورٹ کے مطابق تمام تربات چیت کے باوجود پاکستان کے متعدد مطالبات حل نہیں ہوئے جن میں ڈرون حملوں کی بندش ، فوجی امداد کی بحالی شامل ہیں۔