کرپشن کے عفریت سے صدر پاکستان بھی نالاں

یہ امر ایک حقیقت ہے کہ اپنے قیام کے 70 سال بعد بھی پاکستان عالمی دنیا میں ایک مستحکم حیثیت حاصل نہیں کرپایا۔

یہ امر ایک حقیقت ہے کہ اپنے قیام کے 70 سال بعد بھی پاکستان عالمی دنیا میں ایک مستحکم حیثیت حاصل نہیں کرپایا۔ فوٹو:فائل

RAWALPINDI:
کرپشن کا زہر پاکستان کے ہر ادارے کی رگوں میں اس بری طرح سرائیت کرچکا ہے کہ اس ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے بے رحم آپریشن کرنا ناگزیر ہوگیا ہے۔ معاشرے میں کرپٹ افراد کی زیادتی نے صدر پاکستان کو بھی مغموم کردیا اور ایوان صدر میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ممنون حسین نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے، ملکی ترقی اور خوشحالی کے لیے کرپٹ افراد کا بلاتفریق محاسبہ کرنا ہوگا۔

یہ امر ایک حقیقت ہے کہ اپنے قیام کے 70 سال بعد بھی پاکستان عالمی دنیا میں ایک مستحکم حیثیت حاصل نہیں کرپایا جس کے پیچھے ان گنت مسائل کے ساتھ ام المسائل ''کرپشن'' بھی کارفرما ہے، جب کہ ہمارے ساتھ اور بعد بننے والی ریاستیں ترقی کی معراج کو چھو رہی ہیں۔

پاکستان میں تمام صنعتیں زوال پذیر ہیں لیکن کرپشن کی صنعت دن دگنی رات چوگنی ترقی کررہی ہے۔ کیا عجب امر ہے کہ کرپٹ افراد کے سامنے صدر مملکت بھی خود کو بے بس محسوس کررہے ہیں۔ صدر ممنون حسین کا یہ کہنا چشم کشا ہے کہ ان کے کہنے پر بھی اداروں سے بدعنوان نہیں ہٹائے گئے۔ یعنی کرپٹ عناصر اپنے پنجے مملکت خداداد پر اس بری طرح جمائے ہوئے ہیں کہ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز حضرات بھی ان کی بیخ کنی نہیں کر پارہے۔ پھر آخر وہ کون سا مسیحا ہوگا جو جسد وطن سے بذریعہ جراحت اس ناسور کو الگ کرپائے گا؟


صدر مملکت نے قانونی اسقام پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضہ کیا جاتا ہے، جب ایکشن لیا جاتا ہے تو عدالتیں اسٹے آرڈر جاری کرتی ہیں اور کرپٹ مافیا سزاؤں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔

تمام اداروں کے اندر افسران کو کرپشن کی عادت ہوچکی ہے، ان افسران نے ایسا نیٹ ورک بنایا ہوا ہے کہ وہ نظام کو کسی صورت ٹھیک ہونے نہیں دیتے۔ یہ حقیقت ہے کہ معاشرہ اخلاقی گراوٹ کا شکار ہے، آج مجرم قابل عزت ہیں اور سفید پوش اپنی عزت کا بھرم قائم رکھنے کی تگ و دو میں ہیں۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ آج حق لینے کے لیے بھی سفارش اور رشوت کا کلچر پاچکا ہے، سرکاری اداروں میں جائز کام بھی بغیر سفارش و رشوت مکمل نہیں ہوپاتے۔

صدر پاکستان کا کہنا صائب ہے کہ بدقسمتی سے غلط کاموں میں سب ملے ہوئے ہیں لیکن ہمیں ان غلط کاموں کے سدباب اور نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ ملک ترقی کرے اور آگے بڑھے۔ کرپشن کا خاتمہ وقت کی ناگزیر ضرورت ہے۔
Load Next Story