سیلف ریگولیشن
برصغیر کی صحافت کی تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ بہت سے اخبارات میں ایڈیٹر کا ادارہ مضبوط رہا۔
tauceeph@gmail.com
ایک طرف دہشت گرد تباہی مچارہے ہیں تو دوسری طرف ٹی وی چینلز افواہوں کو بریکنگ نیوز کے نام پر نشر کرکے خوف و ہراس میں اضافہ کررہے ہیں۔ دہشت گردوں کے تدارک کے لیے آپریشن ردالفساد شروع ہوگیا ہے۔ میڈیا کے کردار کو بہتر بنانے کے لیے سخت ضوابط اور سیلف ریگولیشن نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ لاہور میں گلبرگ میں دھماکے کی افواہ بہت سے چینلز پر نشر ہوئی۔ ملک میں اطلاعات کی فراہمی کا فریضہ تاریخی طور پر اخبارات نے ادا کیا ہے۔ برصغیر کی صحافت کی تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ بہت سے اخبارات میں ایڈیٹر کا ادارہ مضبوط رہا۔ اس ادارے نے خبر کی معروضیت کے اصول کو اپنایا اور معروضیت پر مبنی خبر کے سوا کسی اور مواد کو خبر قرار دینے سے گریز کیا۔
یہی وجہ ہے کہ حقیقت پر مبنی خبر کے علاوہ افواہ اور ذاتی خیالات کو کبھی بھی خبر کی حیثیت نہیں دی گئی۔ جب تک ریڈیو اور ٹیلی وژن ریاست کے کنٹرول میں تھے تو برسراقتدار حکومتیں ریڈیو اور ٹیلی وژن کو آمریت کو تقویت دینے کے لیے استعمال کرتی تھیں۔ ریڈیو اور ٹیلی وژن سے نشر ہونے والے خبرنامے صدرنامے مشہور ہوئے۔ اگرچہ سرکاری ابلاغیاتی اداروں میں خبروں کو ترتیب دیتے، الفاظ کے استعمال اور تلفظ کی ادائیگی پر خصوصی توجہ دی جاتی مگر پھر بھی اس میں مواد کی اہمیت پر توجہ نہیں دی جاتی تھی۔ اس زمانے میں غیر ملکی ذرایع ابلاغ خاص طور پر برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اور امریکی ادارے وائس آف امریکا کی خبروں کو خاص اہمیت دی جاتی تھی۔
بی بی سی کی اردو سروس کا نام ملک کے کونے کونے تک پہنچ گیا تھا۔ معروف براڈکاسٹر رضا علی عابدی جو گزشتہ 40 برسوں سے لندن میں مقیم ہیں، لکھتے ہیں کہ وہ ٹھٹہ کے دیہی علاقے میں گئے تو انھیں یہ خوشگوار حیرت ہوئی کہ دیہاتیوں نے انھیں پہچان لیا۔ یہ شہرت بی بی سی کے حصے میں اس لیے آئی تھی کہ یہ ادارہ خبر کی معروضیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں تھا۔ بی بی سی کے ایڈیٹر ایک سے زیادہ ذرایع سے خبر کی تصدیق کے بعد خبر نشر کرنے کا فیصلہ کرتے تھے اور یہ راویت آج بھی قائم ہے۔
اگرچہ دیگر غیر ملکی نشریاتی ادارے اس اصول پر قائم تھے اور ہیں، مگر بی بی سی کی معروضیت کے معیار اور کسی دباؤ کے بغیر خبر نشر کرنے کی روایت کا کوئی اور ادارہ مقابلہ نہیں کرسکا۔ 1977 میں پاکستان قومی اتحاد (P.N.A) سے قریبی تعلق رکھنے والے پروفیسر سعید عثمانی کہتے ہیں کہ پی این اے میں 9 جماعتیں شامل تھیں جنھیں 9 ستارے کہا جاتا تھا مگر بی بی سی کی حزب اختلاف کی خبروں کو نمایاں جگہ دینے کی بنا پر اس کو دسواں ستارہ کا نام دیا گیا۔
جب سوویت یونین ختم ہوا تو سرد جنگ اختتام کو پہنچی تو اس دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی نے جغرافیائی سرحدوں کو مخدوش کردیا۔ اس نئی ٹیکنالوجی نے ابلاغ عامہ کی ہیئت کو تبدیل کردیا۔ ڈش انٹینا ٹیکنالوجی کی بنا پر مختلف ممالک کے ٹی وی چینلز ملک میں نظر آنے لگے۔ پہلے ڈش انٹینا کی قیمت 80 ہزار روپے کے قریب تھی، پھر یہ قیمت کم ہو کر 3 ہزار تک پہنچ گئی۔ نچلے متوسط طبقے کے لیے ڈش انٹینا خریدنا آسان ہوگیا۔ 90 کی دہائی کے آخری عشرے کے آخری برسوں میں کئی غیر ملکی چینلز جن کی نشریات اردو یا ہندی میں تھیں، ڈش انٹینا کے ذریعے ٹی وی اسکرین پر نمودار ہوگئے۔ یہ چینلز انڈین فلموں اور ڈراموں کے علاوہ خبروں اور حالاتِ حاضرہ کے پروگرام بھی نشر کرتے تھے۔
1999 میں جنرل پرویز مشرف اقتدار میں آئے تو نجی شعبے کو ریڈیو اور ٹی وی چینلز قائم کرنے کی اجازت دی گئی۔ یہی وہ وقت تھا جب نائن الیون کی دہشت گردی کے اثرات ملک میں داخل ہوگئے۔ کابل میں لڑی جانے والی جنگ پشاور اور کوئٹہ کے راستے کراچی تک پہنچ گئی۔ دہشت گردوں نے مخالف فرقوں اور مخالفانہ خیالات رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ مذہبی عبادت گاہوں، عوامی مقامات اور فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا۔ ملک ایک غیر علانیہ جنگ کا شکار ہوگیا۔
اس جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ہر فرد اور ادارے کا کردار اہم ہوگیا۔ مگر بعض میڈیا ہاؤسز نے صورتحال کی سنجیدگی کو محسوس نہیں کیا۔ فوجی تنصیبات اور مختلف مقامات پر دہشت گردوں کے حملوں کی براہ راست کوریج شروع کردی گئی۔ اس صورتحال سے دہشت گردوں کی کمان کرنے والوں نے فائدہ اٹھایا۔ پھر افواہوں کو خبر کی صورت میں نشرکرنا شروع کردیا گیا۔
گزشتہ5 برسوںکے دوران سوشل میڈیا ایک متبادل ذریعے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ عوام کو بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی رائے پیش کرنے کا موقع ملا، مگر سوشل میڈیا پر کسی بھی نوعیت کا ادارتی کنٹرول نہیں ہے۔ اس بنا پر ہر نوعیت کا مواد سوشل میڈیا پر نظر آنے لگا۔ بعض میڈیا چینلز نے سوشل میڈیا پر پیش کیا جانے والا مواد نشر کرنا شروع کیا۔ اخبارات اور دہشت گردی کے موضوع پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر عرفان عزیز کا کہنا ہے کہ ٹی وی چینلز پر ایڈیٹر کا ادارہ نہ ہونے کی بنا پر صورتحال زیادہ خراب ہوئی۔ بم دھماکے کی افواہ کو بریکنگ نیوز بنا کر پیش کرنا معمول بن گیا۔ پھر دھماکے کی افواہ کی تردید پر معذرت بھی نہیں کی جاتی ۔
پاکستان میں ذرایع ابلاغ پر تحقیق کرنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ سخت قوانین و ضوابط ہوں تو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے واقعات کم ہوجائیں گے مگر کئی ماہرین اور سینئر صحافی یہ رائے دیتے ہیں کہ ریاستی اداروں کو کسی صورت میڈیا کے پیغام کو ریگولیٹ کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اس سے ماضی میں تلخ نتائج سامنے آئے ہیں۔ اصولی طور پر اخبار اور الیکٹرانک میڈیا میں ایڈیٹر کے کردار کو مستحکم ہونا چاہیے، جنھیں سیلف ریگولیشن کا فریضہ انجام دینا چاہیے۔ پھر پریس کونسل کی جگہ میڈیا خودمختار شکایتی کمیشن قائم ہونا چاہیے۔ اس کمیشن میں ججوں، وکلا، اساتذہ، خواتین اور سول سوسائٹی کے اراکین کو شامل ہونا چاہیے اور کمیشن کو زیادہ اختیارات ملنے چاہئیں۔
یہی وجہ ہے کہ حقیقت پر مبنی خبر کے علاوہ افواہ اور ذاتی خیالات کو کبھی بھی خبر کی حیثیت نہیں دی گئی۔ جب تک ریڈیو اور ٹیلی وژن ریاست کے کنٹرول میں تھے تو برسراقتدار حکومتیں ریڈیو اور ٹیلی وژن کو آمریت کو تقویت دینے کے لیے استعمال کرتی تھیں۔ ریڈیو اور ٹیلی وژن سے نشر ہونے والے خبرنامے صدرنامے مشہور ہوئے۔ اگرچہ سرکاری ابلاغیاتی اداروں میں خبروں کو ترتیب دیتے، الفاظ کے استعمال اور تلفظ کی ادائیگی پر خصوصی توجہ دی جاتی مگر پھر بھی اس میں مواد کی اہمیت پر توجہ نہیں دی جاتی تھی۔ اس زمانے میں غیر ملکی ذرایع ابلاغ خاص طور پر برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اور امریکی ادارے وائس آف امریکا کی خبروں کو خاص اہمیت دی جاتی تھی۔
بی بی سی کی اردو سروس کا نام ملک کے کونے کونے تک پہنچ گیا تھا۔ معروف براڈکاسٹر رضا علی عابدی جو گزشتہ 40 برسوں سے لندن میں مقیم ہیں، لکھتے ہیں کہ وہ ٹھٹہ کے دیہی علاقے میں گئے تو انھیں یہ خوشگوار حیرت ہوئی کہ دیہاتیوں نے انھیں پہچان لیا۔ یہ شہرت بی بی سی کے حصے میں اس لیے آئی تھی کہ یہ ادارہ خبر کی معروضیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں تھا۔ بی بی سی کے ایڈیٹر ایک سے زیادہ ذرایع سے خبر کی تصدیق کے بعد خبر نشر کرنے کا فیصلہ کرتے تھے اور یہ راویت آج بھی قائم ہے۔
اگرچہ دیگر غیر ملکی نشریاتی ادارے اس اصول پر قائم تھے اور ہیں، مگر بی بی سی کی معروضیت کے معیار اور کسی دباؤ کے بغیر خبر نشر کرنے کی روایت کا کوئی اور ادارہ مقابلہ نہیں کرسکا۔ 1977 میں پاکستان قومی اتحاد (P.N.A) سے قریبی تعلق رکھنے والے پروفیسر سعید عثمانی کہتے ہیں کہ پی این اے میں 9 جماعتیں شامل تھیں جنھیں 9 ستارے کہا جاتا تھا مگر بی بی سی کی حزب اختلاف کی خبروں کو نمایاں جگہ دینے کی بنا پر اس کو دسواں ستارہ کا نام دیا گیا۔
جب سوویت یونین ختم ہوا تو سرد جنگ اختتام کو پہنچی تو اس دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی نے جغرافیائی سرحدوں کو مخدوش کردیا۔ اس نئی ٹیکنالوجی نے ابلاغ عامہ کی ہیئت کو تبدیل کردیا۔ ڈش انٹینا ٹیکنالوجی کی بنا پر مختلف ممالک کے ٹی وی چینلز ملک میں نظر آنے لگے۔ پہلے ڈش انٹینا کی قیمت 80 ہزار روپے کے قریب تھی، پھر یہ قیمت کم ہو کر 3 ہزار تک پہنچ گئی۔ نچلے متوسط طبقے کے لیے ڈش انٹینا خریدنا آسان ہوگیا۔ 90 کی دہائی کے آخری عشرے کے آخری برسوں میں کئی غیر ملکی چینلز جن کی نشریات اردو یا ہندی میں تھیں، ڈش انٹینا کے ذریعے ٹی وی اسکرین پر نمودار ہوگئے۔ یہ چینلز انڈین فلموں اور ڈراموں کے علاوہ خبروں اور حالاتِ حاضرہ کے پروگرام بھی نشر کرتے تھے۔
1999 میں جنرل پرویز مشرف اقتدار میں آئے تو نجی شعبے کو ریڈیو اور ٹی وی چینلز قائم کرنے کی اجازت دی گئی۔ یہی وہ وقت تھا جب نائن الیون کی دہشت گردی کے اثرات ملک میں داخل ہوگئے۔ کابل میں لڑی جانے والی جنگ پشاور اور کوئٹہ کے راستے کراچی تک پہنچ گئی۔ دہشت گردوں نے مخالف فرقوں اور مخالفانہ خیالات رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ مذہبی عبادت گاہوں، عوامی مقامات اور فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا۔ ملک ایک غیر علانیہ جنگ کا شکار ہوگیا۔
اس جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ہر فرد اور ادارے کا کردار اہم ہوگیا۔ مگر بعض میڈیا ہاؤسز نے صورتحال کی سنجیدگی کو محسوس نہیں کیا۔ فوجی تنصیبات اور مختلف مقامات پر دہشت گردوں کے حملوں کی براہ راست کوریج شروع کردی گئی۔ اس صورتحال سے دہشت گردوں کی کمان کرنے والوں نے فائدہ اٹھایا۔ پھر افواہوں کو خبر کی صورت میں نشرکرنا شروع کردیا گیا۔
گزشتہ5 برسوںکے دوران سوشل میڈیا ایک متبادل ذریعے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ عوام کو بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی رائے پیش کرنے کا موقع ملا، مگر سوشل میڈیا پر کسی بھی نوعیت کا ادارتی کنٹرول نہیں ہے۔ اس بنا پر ہر نوعیت کا مواد سوشل میڈیا پر نظر آنے لگا۔ بعض میڈیا چینلز نے سوشل میڈیا پر پیش کیا جانے والا مواد نشر کرنا شروع کیا۔ اخبارات اور دہشت گردی کے موضوع پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر عرفان عزیز کا کہنا ہے کہ ٹی وی چینلز پر ایڈیٹر کا ادارہ نہ ہونے کی بنا پر صورتحال زیادہ خراب ہوئی۔ بم دھماکے کی افواہ کو بریکنگ نیوز بنا کر پیش کرنا معمول بن گیا۔ پھر دھماکے کی افواہ کی تردید پر معذرت بھی نہیں کی جاتی ۔
پاکستان میں ذرایع ابلاغ پر تحقیق کرنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ سخت قوانین و ضوابط ہوں تو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے واقعات کم ہوجائیں گے مگر کئی ماہرین اور سینئر صحافی یہ رائے دیتے ہیں کہ ریاستی اداروں کو کسی صورت میڈیا کے پیغام کو ریگولیٹ کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اس سے ماضی میں تلخ نتائج سامنے آئے ہیں۔ اصولی طور پر اخبار اور الیکٹرانک میڈیا میں ایڈیٹر کے کردار کو مستحکم ہونا چاہیے، جنھیں سیلف ریگولیشن کا فریضہ انجام دینا چاہیے۔ پھر پریس کونسل کی جگہ میڈیا خودمختار شکایتی کمیشن قائم ہونا چاہیے۔ اس کمیشن میں ججوں، وکلا، اساتذہ، خواتین اور سول سوسائٹی کے اراکین کو شامل ہونا چاہیے اور کمیشن کو زیادہ اختیارات ملنے چاہئیں۔