سندھ میں بچوں کوخراب خسرہ ویکسین لگائی گئی حلیم عادل
سرکاری ڈاکٹر نوکریاں بچانے کیلیے متاثرہ بچوں کے کیس رجسٹرڈ نہیں کرتے،پریس کانفرنس
چوہدری مظہرالحَق اور ناصر بلوچ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حلیم عادل نے کہا کہ بچہ چاہے غریب کا ہویا امیر کا سب کی حیثیت برابر ہوتی ہے۔ فوٹو: فائل
وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے ریلیف و مسلم لیگ ق سندھ کے جنرل سیکریٹری حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ لوڈشیڈنگ کے باعث خراب خسرہ ویکسین ہی سندھ میں بچوں کو لگادی گئی جبکہ خسرہ کے نتیجے میں جاں بحق بچوں کی تعداد سرکاری تعداد سے دگنی ہے۔
چوہدری مظہرالحَق اور ناصر بلوچ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حلیم عادل نے کہا کہ بچہ چاہے غریب کا ہویا امیر کا سب کی حیثیت برابر ہوتی ہے جبکہ سندھ میں خسرہ سے بچاؤکیلیے تاخیر سے اقدامات کیے گئے، خسرہ سے اموات کی اصل تعداد سامنے نہ آنے کی وجہ یہ ہے کہ سرکاری ڈاکٹروں نے نوکریاں بچانے کے لیے متاثرہ بچوں کے کیسوں کو رجسٹرڈ نہیں کیا۔
بچوں کی اموات کی بڑی وجہ خسرہ ہے اور اسکے ساتھ ساتھ نمونیا اور ڈائریا بھی ہے، بجلی کی لوڈشیڈنگ سے مخصوص درجہ حرارت فراہم نہ کرنے سے خسرہ ویکسین خراب ہوگئی جو بچوں کو لگا دی گئی ، محکمہ ریلیف نے سرکاری اسپتالوں کو بچوں کے علاج کیلیے ادویہ، کمبل اورایمبولینسوںکو پیٹرول تک فراہم کیاہے۔
چوہدری مظہرالحَق اور ناصر بلوچ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حلیم عادل نے کہا کہ بچہ چاہے غریب کا ہویا امیر کا سب کی حیثیت برابر ہوتی ہے جبکہ سندھ میں خسرہ سے بچاؤکیلیے تاخیر سے اقدامات کیے گئے، خسرہ سے اموات کی اصل تعداد سامنے نہ آنے کی وجہ یہ ہے کہ سرکاری ڈاکٹروں نے نوکریاں بچانے کے لیے متاثرہ بچوں کے کیسوں کو رجسٹرڈ نہیں کیا۔
بچوں کی اموات کی بڑی وجہ خسرہ ہے اور اسکے ساتھ ساتھ نمونیا اور ڈائریا بھی ہے، بجلی کی لوڈشیڈنگ سے مخصوص درجہ حرارت فراہم نہ کرنے سے خسرہ ویکسین خراب ہوگئی جو بچوں کو لگا دی گئی ، محکمہ ریلیف نے سرکاری اسپتالوں کو بچوں کے علاج کیلیے ادویہ، کمبل اورایمبولینسوںکو پیٹرول تک فراہم کیاہے۔