پی ایس ایل فائنل ایک چیلنج

فائنل کے شایان شان طریقے سے انعقاد کے لیے کھلاڑیوں کو سربراہ مملکت کی سیکیورٹی دی جائے گی۔

فائنل کے شایان شان طریقے سے انعقاد کے لیے کھلاڑیوں کو سربراہ مملکت کی سیکیورٹی دی جائے گی ۔ فوٹو فائل

پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) کا فائنل 5 مارچ کو لاہور میں ہوگا جب کہ پنجاب حکومت اس کی فول پروف سیکیورٹی دے گی ۔ گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کمیٹی برائے امن وامان کا اہم اجلاس ہوا جس میں صوبائی و وفاقی سیکیورٹی اداروں کی مشاورت سے پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کرانے کے فیصلہ کی منظوری دی گئی۔

فائنل کے شایان شان طریقے سے انعقاد کے لیے کھلاڑیوں کو سربراہ مملکت کی سیکیورٹی دی جائے گی ، پارکنگ پلان ریلیز کردیا گیا ہے، ٹیمیں 4 مارچ کو لاہور پہنچیں گی، شائقین کرکٹ بے تاب ہیں،کئی انکلوژرز کی ٹکٹوں کی فروخت مکمل ہوچکی ہے، کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے کہا ہے کہ پی ایس ایل کا آیندہ فائنل کراچی میں ہوگا، بورڈ نے بنگلہ دیش کو بھی پاکستان میں مکمل سیریز کی پیشکش کی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ دہشتگردی اور سیکیورٹی خطرات کے باوجود اس اہم ایونٹ کے ذریعہ دنیا کو ایک صائب، غیر مبہم اور قومی امنگوں سے ہم آہنگ کثیر جہتی پیغام دیا جا سکے گا کہ گیمز بین الاقوامیت کا استعارہ ، عالمی خیرسگالی و استحکام کے حصول میں عصر حاضر کا انمول وسیلہ ہیں کیونکہ کھلاڑی امن کے عالمی سفیر ہیں۔ یوں یہ فیصلہ موجودہ اعصاب شکن ماحول میں ایک چیلنج سے کم نہیں اور معروضی حقائق کے تناظر میں اسے کشتیاں جلانے سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سیکیورٹی میکنزم اور عزم و استقلال کے باب میں دنیا بھی ہمیں اپنے استدلال، غیر متزلزل فیصلہ اور دہشتگردی کے خلاف ایک اور غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے دیکھے گی۔ بس ارباب اختیار ، سیاسی اکابرین اور سول سوسائٹی اس بات کو یقینی بنائے کہ پی ایس ایل کا فائنل کسی معمولی یا ڈومیسٹک ٹورنامنٹ کا فیصلہ کن دن نہیں بلکہ اس کے آئینہ میں ہم بتائیں کہ قومی اتفاق رائے، ریاستی استقامت، صوبائی حکومت کے سیکیورٹی میکنزم کے فالٹ فری ہونے ، ملکی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کی قیمتی جانوں کا کس قدر خیال رکھتے ہوئے اس ذمے داری سے عہدہ برآ ہوتے ہیں۔ اس لیے ضرورت اب اس بات کی ہے کہ فائنل کے انعقاد کے لیے قومی اتفاق رائے کے اصولی اور دلیرانہ کاز کو آگے بڑھایا جائے، عمومی و قومی اشتراک عمل سے ثابت کریں کہ پاکستانی عوام اور کرکٹ کے لاکھوں شائقین محض دہشتگردی کے خطرہ یا خوف کے باعث سرنڈر نہیں کریں گے۔


اب گیند سیاسی رہنماؤں کے کورٹ میں ہے، بظاہر فائنل کے انعقاد پر موافقت میں کافی آوازیں سنائی دیتی ہیں ، اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں کرانے کے فیصلہ کو خوش آیند قرار دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ہم دہشتگردی سے خوف زدہ ہو کر زندگی کے معمولات کو معطل نہیں کر سکتے۔ وزیر مملکت اطلاعات،نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب کے مطابق پی ایس ایل فائنل کا لاہور میں ہونا پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری ہے ، سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں ہی ہونا چاہیے اور اسی صورت میں دہشت گردوں کو موثر جواب دیا جاسکتا ہے۔

سابق کپتان رمیز راجا نے کہا کہ حالات جیسے بھی ہوں، فائنل لاہور میں ہونا اچھا اقدام ہے جب کہ معروف کرکٹر عبدالقادر نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ پاگل پن سے بھی بڑا ہے، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ رسک تو ہے مگر لوگوں کوخوشیاں ملنی چاہئیں، تاہم پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں کرانے سے اتفاق نہیں کیا ہے، عمران کے نزدیک بند سڑکوں اور سخت سیکیورٹی میں فائنل کرانے سے دنیا کو امن کا مناسب پیغام نہیں جائے گا ۔

بلاشبہ اختلاف رائے کے اظہار اور اسے تحمل سے سننا بھی اسپورٹس مین شپ کا ایک حصہ ہے، مگر عرض ہے کہ پی ایس ایل کا فائنل پاکستان کا تفخر بن سکتا ہے ، اسے دہشتگردی کے خلاف قوم کے ایک آواز ہونے کی سند کہا جا سکتا ہے، ادھر دنیا بھر میں ایسے عالمی مقابلے اور ٹورنامنٹس منعقد ہوتے رہے ہیں جنہیں بلوائیوں ، شرپسندوں اور سماج دشمن عناصر کے خوف سے موخر نہیں کیا گیا، میونخ اولمپکس کی قتل و غارت کسے یاد نہیں، فیفا کے چار چار سال بعد ہونے والے کتنے دلکش عالمی فٹبال مقابلے انتہائی سخت سیکیورٹی اور ہنگامی حالات میں منعقد ہوئے ۔

اسی طرح پی ایس ایل کے فائنل کی سیکیورٹی کوئی انوکھا واقعہ نہیں، جہاں تک دہشتگردی کے مسلسل واقعات کا تعلق ہے تو سیاسی وعسکری قیادت نے یہ فیصلہ بھی قومی جذبات و احساسات کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا ہے تاکہ وطن عزیز کو ''کرکٹ دوست '' ماحول مہیا کیا سکے ، جب 2018 ء کے روس میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کے بارے میں بی بی سی نے خبر دی تھی کہ شر پسند عناصر شائقین کے روپ میں تشدد کا جشن منائیں گے تو روسی حکام نے اس رپورٹ پر شدید احتجاج کیا ۔

لہٰذا دانشمندی کا تقاضا ہے کہ حکومت نے جس وسیع تر عوامی امنگوں اور کرکٹ شائقین کی خواہش اور خوشیوں کے پیش نظر ایک غیر روایتی فیصلہ کیا ہے تو سب کی مشترکہ کوشش ہونی چاہیے کہ پاکستانی قوم سرخرو ہو۔
Load Next Story