ناسا اور اسرو چند حقائق

امریکا کے ناسا کی طرز پر بھارت میں جو خلائی تجربے کا ادارہ ہے اس کا نام ’’اسرو‘‘ ہے۔

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

PARIS:
دنیا کی ہر قوم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی قوم کو دنیا کی برتر اور ترقی یافتہ قوم کہے، لیکن مشکل یہ ہے کہ صرف اپنی قوم کو برتر کہنے سے کوئی قوم برتر نہیں ہوجاتی بلکہ اسے برتر ہونے کی بنیادی شرائط پوری کرنا پڑتی ہے۔ ماضی میں عالمی برتری کا اعزاز ان بادشاہوں یا قوموں کو ملتا تھا جو حربی حوالوں سے برتر ہوتی تھیں اور فاتح عالم کہلاتی تھیں۔ سکندر اعظم جیسے طاقتور حکمران کی حکومت کا دائرہ اس قدر وسیع ہوتا تھا کہ انھیں فاتح عالم جیسے القابات سے نوازا جاتا تھا۔ اس قسم کے اعزازات عموماً فوجی برتری اور جنگی مہارت کی وجہ سے بادشاہوں کو ملا کرتے تھے۔

وقت کے ساتھ ساتھ اس کلچر میں تبدیلی آتی گئی اور فوجی طاقت کے ساتھ ساتھ اقتصادی طاقت کا ہونا بھی عالمی برتری کی شرط اول بن گیا۔ اس حوالے سے امریکا اپنی فوجی اور اقتصادی طاقت کے حوالے سے سب سے برتر یعنی سپر طاقت بن گیا، جب روس میں انقلاب آیا تو بہت کم عرصے میں روس دنیا کی دوسری سپر طاقت بن گیا، فرق یہ تھا کہ امریکا کو اس اعزاز تک پہنچنے کے لیے سرمایہ دارانہ نظام کا سہارا لینا پڑا اور روس نے یہ اعزاز سوشلزم کے حوالے سے حاصل کیا اور امریکا کو یہ اعزاز حاصل کرنے کے لیے جتنا طویل عرصہ لگا روس نے یہ اعزاز امریکا کے مقابلے میں ایک چوتھائی کم عرصے میں حاصل کیا۔ روس اور امریکا دونوں اب اس اعزاز سے محروم ہوگئے ہیں۔ کیونکہ اس حوالے سے دنیا کا کلچر اب بدل گیا ہے، اب دنیا یونی پولر کے بجائے ملٹی پولر بن گئی ہے، یعنی طاقت کا مرکز اب ایک نہیں رہا بلکہ بٹ گیا ہے۔

بیسویں صدی کی دوسری نصف کے بعد دنیا میں برتری کا اصل مرکز اور محرک سائنس اور ٹیکنالوجی آئی ٹی سمیت زندگی کے مختلف شعبوں میں فنی مہارت میںجو آگے ہیں،ٹھہرے۔ فنی مہارت کسی مخصوص شعبے سے وابستہ نہیں بلکہ اس میں زندگی کے مختلف شعبے شامل ہیں۔

ان ہی شعبوں میں ایک شعبہ ''خلا'' کا ہے، خلائی سائنس بہت کم عرصے میں اعلیٰ مقام پر پہنچ گئی ہے۔ انسان چاند پر ہو آیا، اب مریخ پر جانے کی تیاری کررہا ہے۔ کائنات میں ایسے سیاروں کو دریافت کررہا ہے جو روایتی سیاروں کی ساخت سے مختلف ساخت کے حامل ہیں۔ امریکا کے خلائی سائنس کے ادارے ناسا نے ایک ایسا سیارہ دریافت کیا ہے جو روایتی ساخت کے سیاروں سے مختلف یعنی صرف دھات سے بنا ہوا ہے۔


امریکا کے ناسا کی طرز پر بھارت میں جو خلائی تجربے کا ادارہ ہے اس کا نام ''اسرو'' ہے، پچھلے دنوں ''اسرو'' کے زیر اہتمام 104 سیارے (سیٹلائٹس) میں ایک راکٹ کے ذریعے بھیجے ہیں، ان 104 سیاروں میں بھارت کے صرف 3 سیارے ہیں باقی 101 سیاروں میں اسرائیل، قزاقستان، ہالینڈ، سوئٹزرلینڈ،امریکا اور عرب امارات کے سیارے یا سیارچے شامل ہیں۔ اس سے قبل خلا میں ایک وقت میں سب سے زیادہ سیارے یعنی 37 سیارے خلا میں بھیجنے کا کارنامہ روس نے انجام دیا تھا۔ بھارتی خلائی ایجنسی ''اسرو'' نے گزشتہ سال ایک وقت میں 20 مصنوعی سیارے خلا میں بھیجنے کا کارنامہ انجام دیا تھا۔

اسرو کے چیئرمین ایس ایس کمار کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک کا وزن 730 کلو گرام ہے باقی سیارچوں کا اوسط وزن 3 کلو گرام ہے۔ یہ سیارچے خلا میں مختلف خدمات انجام دیتے ہیں اور معلومات فراہم کرتے ہیں۔ بھارت کو اس مشن سے 100 کروڑ سے زیادہ کی آمدنی ہوئی ہے۔ آج کی ترقی یافتہ دنیا میں خلائی تحقیق سب سے زیادہ اہم اور بامعنی موضوع ہے۔ ماضی بعید کی دنیا کا باہمی کرۂ ارض ہی کو کل کائنات سمجھتا تھا اور اسی حوالے سے اپنے عقائد و نظریات کا تعین کرتا تھا اور بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ حال کی دنیا کا 70 فی صد انسان ابھی تک ماضی کی دنیا میں جی رہا ہے جس میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔

اس حوالے سے عالم اسلام یعنی مسلم ملکوں پر نظر ڈالیں تو شرم سے ہمارے سر جھک جاتے ہیں کہ ہم نہ صرف اب تک ماضی میں جی رہے ہیں بلکہ حال اور مستقبل کی ہر اس ترقی، تحقیق اور دریافت کو خلاف مذہب قرار دے رہے ہیں جو ہمارے عقائد و نظریات سے ہم آہنگ سمجھتے ہوئے مسلم ملکوں کی ترقی کی اندازہ ہم اس سائنس و ٹیکنالوجی سے کرسکتے ہیں جو ہمارے مجاہد خودکش حملوں اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال کررہے ہیں۔ آج کے اخبارات میرے سامنے ہیں جس کی پہلی پانچ کالمی سرخی ہے ''4خودکش دھماکے،4 اہلکاروں سمیت 7 شہید،4 ججز، 2 راہ گیر زخمی '' یہ کارنامہ لاہور کے اس کارنامے کے بعد انجام دیا گیا ہے جس میں درجن بھر سے زیادہ بے گناہ مسلمان جاں بحق ہوئے تھے۔

اس حوالے سے ہمارے سیاسی اور عسکری رہنماؤں کے مذمتی بیانات بھی اس دلخراش خبر کے ساتھ شایع ہوئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ''ہم دہشت گردوں کو دوبارہ سر اٹھانے نہیں دیںگے۔ انھیں ریاستی طاقت سے کچل دیںگے''۔ یہ صورتحال صرف پاکستان کی نہیں ہے بلکہ 57 مسلم ممالک اسی قسم کی صورت حال سے دو چار ہیں۔

اگر ہماری فنی حربی اور سیاسی طاقت دہشت گردوں کو پیدا کرنے اور انھیں کچلنے ہی میں صرف ہوجاتی ہو تو ہم سائنس ٹیکنالوجی خلائی تحقیق میںکیا حصہ ڈال سکتے ہیں؟ پاکستان کو مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہونے کا اعزاز تو حاصل ہے لیکن سائنس ٹیکنالوجی آئی ٹی اور خلائی سائنس میں جہاں ہم کھڑے ہیں کیا یہ مقام مقامِ فخر ہے یا مقام ذلت و رسوائی ہے؟ جس ملک میں مذہبی انتہا پسندی کو سیاسی ضرورتوں کی وجہ سے فروغ دیا جائے اور سائنسدانوں، محققوں اور دانشوروں کی فقہوں کے حوالے سے حمایت اور ممانعت کی جائے اور اس ملک کا مستقبل کیا ہوسکتا ہے اس کا اندازہ کرنے کے لیے زیادہ عقل و دانش کی ضرورت نہیں۔
Load Next Story