حصص مارکیٹ میں تیزی 143 پوائنٹس ریکور
انڈیکس 16646 ہو گیا، 74 فیصد شیئر پرائسز، مارکیٹ سرمائے میں 36 ارب 20 کروڑ کا اضافہ
حصص کی مالیت میں 36 ارب20 کروڑ61 لاکھ76 ہزار439 روپے کا اضافہ ہوا۔ فوٹو : محمد عظیم / ایکسپریس
KARACHI:
کراچی اسٹاک ایکس چینج میں منگل کو کاروباری صورتحال بہتر رہی اور سیاسی افق پر درجہ حرارت قدرے کم ہونے کے مثبت اثرات تیزی کی صورت میں رونما ہوئے جس سے انڈیکس کی 16600 کی حد بحال ہوگئی۔
تیزی کے سبب74.29 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں 36 ارب20 کروڑ61 لاکھ76 ہزار439 روپے کا اضافہ ہوا۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ قادری لانگ مارچ کی وجہ سے تاحال اسٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کار مضطرب ہیں اور وہ مارکیٹ میں کھل کر سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیںجس کی وجہ سے کاروبار کا حجم بھی گھٹ گیا ہے۔
کراچی اسٹاک ایکس چینج کے سابق صدر عارف حبیب نے بتایا کہ سرمایہ کار اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ لانگ مارچ میں کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو جائے کیونکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے طویل دورانیے تک اثرات رہیں گے، لانگ مارچ کی وجہ سے سرمایہ کاروں نے محتاط طرز عمل اختیار کیا ہوا ہے اور وہ صرف ان اسٹاکس میں سرمایہ کاری کررہے ہیں جن کا ریٹرن اچھا ہے۔
عارف حبیب کا کہنا تھا کہ اسٹاک مارکیٹ میں 14 جنوری کے بعد صورتحال بہتر ہونے کے امکانات ہیں، ٹریڈنگ کے دوران بعض بلیوچپس میں سرمایہ کاری بڑھنے کے مثبت اثرات مرتب ہوئے اور مارکیٹ میں تیزی کے اثرات غالب رہے،کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 143.11 پوائنٹس کے اضافے سے 16645.76 ہو گیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 117.81 پوائنٹس کے اضافے سے13601.52 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس 214.15 پوائنٹس کے اضافے سے 28715.22 ہوگیا۔
کاروباری حجم پیر کی نسبت 9.44 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر8 کروڑ67 لاکھ 87 ہزار250 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 319 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں237 کے بھائو میں اضافہ، 58 کے داموں میں کمی اور24 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
کراچی اسٹاک ایکس چینج میں منگل کو کاروباری صورتحال بہتر رہی اور سیاسی افق پر درجہ حرارت قدرے کم ہونے کے مثبت اثرات تیزی کی صورت میں رونما ہوئے جس سے انڈیکس کی 16600 کی حد بحال ہوگئی۔
تیزی کے سبب74.29 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں 36 ارب20 کروڑ61 لاکھ76 ہزار439 روپے کا اضافہ ہوا۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ قادری لانگ مارچ کی وجہ سے تاحال اسٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کار مضطرب ہیں اور وہ مارکیٹ میں کھل کر سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیںجس کی وجہ سے کاروبار کا حجم بھی گھٹ گیا ہے۔
کراچی اسٹاک ایکس چینج کے سابق صدر عارف حبیب نے بتایا کہ سرمایہ کار اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ لانگ مارچ میں کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو جائے کیونکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے طویل دورانیے تک اثرات رہیں گے، لانگ مارچ کی وجہ سے سرمایہ کاروں نے محتاط طرز عمل اختیار کیا ہوا ہے اور وہ صرف ان اسٹاکس میں سرمایہ کاری کررہے ہیں جن کا ریٹرن اچھا ہے۔
عارف حبیب کا کہنا تھا کہ اسٹاک مارکیٹ میں 14 جنوری کے بعد صورتحال بہتر ہونے کے امکانات ہیں، ٹریڈنگ کے دوران بعض بلیوچپس میں سرمایہ کاری بڑھنے کے مثبت اثرات مرتب ہوئے اور مارکیٹ میں تیزی کے اثرات غالب رہے،کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 143.11 پوائنٹس کے اضافے سے 16645.76 ہو گیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 117.81 پوائنٹس کے اضافے سے13601.52 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس 214.15 پوائنٹس کے اضافے سے 28715.22 ہوگیا۔
کاروباری حجم پیر کی نسبت 9.44 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر8 کروڑ67 لاکھ 87 ہزار250 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 319 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں237 کے بھائو میں اضافہ، 58 کے داموں میں کمی اور24 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔