گیس قلت کنفکشنرز کو یومیہ 10 ارب روپے کا نقصان
کنفکشنری کے 10 لاکھ میں سے 60 فیصد چھوٹے کارخانوں میں کام نہ ہونے کے برابر
گیس کی عدم فراہمی کے باعث سب سے زیادہ کنفکشنری کی صنعت متاثر ہو رہی ہے، جاوید حاجی عبداللہ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
گیس کی فراہمی میں رکاوٹ کے باعث کنفکشنری کی پیداوارمیں 60 فیصد کمی سے یومیہ نقصان 10 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
نقصان کے ناقابل برداشت حد تک پہنچنے کے بعد کارخانہ داروں نے فیکٹریوں کو تالے لگا کر چابیاں صدر مملکت کو بھجوانے پر غور شروع کردیا ہے۔ کنفکشنری مینوفیکچررز اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین جاوید حاجی عبداللہ نے متاثرہ چھوٹے کارخانہ داروں اورتاجروں سے ملاقات میں گیس کی عدم فراہمی سے پیدا ہونے والی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس سلسلے میں لائحہ عمل طے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
چیئرمین جاوید حاجی عبداﷲ نے کہا کہ گیس کی عدم فراہمی کے باعث سب سے زیادہ کنفکشنری کی صنعت متاثر ہو رہی ہے جبکہ ملک بھر میں قائم کنفکشنری کے10 لاکھ میں سے 60 فیصد چھوٹے کارخانوں میں کام نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے، کام نہ ہونے کے باعث کارخانے مالکان فارغ ملازمین کا بوجھ اٹھانے سے گریز کررہے ہیں جس سے 48لاکھ خاندانوں کے بے روزگارہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی فراہمی میں تعطل برقرار رہنے سے لاکھوں گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو جائیں گے جس کے بعد بیروزگار افراد کے کرپشن اور جرائم میں ملوث ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس صنعت سے وابستہ بڑی تعداد انتہائی پسماندہ اور معذور افراد کی ہے، اگر اس صورتحال پر جلد ہی قابو نہ پایا گیا تو اس سے مسائل میں مزید اضافہ ہوگا۔ جاوید حاجی عبداللہ نے صدر مملکت سے اپیل کی ہے کہ اس صورتحال پر فوری نوٹس لیا جائے ۔
اس موقع پر ایسوی ایشن کے نائب صدر حسین قریشی، پریس سیکریٹری احمد قادری، حب کے صدر اشوک اور عمر کوٹ کے صدر شنکر لال بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے کنفکشنرز کیلیے کاروبار جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے جس کی وجہ سے 70 فیصد کارخانے اور دکانیں بند ہونے کا خطرہ ہے۔
گیس کی فراہمی میں رکاوٹ کے باعث کنفکشنری کی پیداوارمیں 60 فیصد کمی سے یومیہ نقصان 10 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
نقصان کے ناقابل برداشت حد تک پہنچنے کے بعد کارخانہ داروں نے فیکٹریوں کو تالے لگا کر چابیاں صدر مملکت کو بھجوانے پر غور شروع کردیا ہے۔ کنفکشنری مینوفیکچررز اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین جاوید حاجی عبداللہ نے متاثرہ چھوٹے کارخانہ داروں اورتاجروں سے ملاقات میں گیس کی عدم فراہمی سے پیدا ہونے والی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس سلسلے میں لائحہ عمل طے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
چیئرمین جاوید حاجی عبداﷲ نے کہا کہ گیس کی عدم فراہمی کے باعث سب سے زیادہ کنفکشنری کی صنعت متاثر ہو رہی ہے جبکہ ملک بھر میں قائم کنفکشنری کے10 لاکھ میں سے 60 فیصد چھوٹے کارخانوں میں کام نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے، کام نہ ہونے کے باعث کارخانے مالکان فارغ ملازمین کا بوجھ اٹھانے سے گریز کررہے ہیں جس سے 48لاکھ خاندانوں کے بے روزگارہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی فراہمی میں تعطل برقرار رہنے سے لاکھوں گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو جائیں گے جس کے بعد بیروزگار افراد کے کرپشن اور جرائم میں ملوث ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس صنعت سے وابستہ بڑی تعداد انتہائی پسماندہ اور معذور افراد کی ہے، اگر اس صورتحال پر جلد ہی قابو نہ پایا گیا تو اس سے مسائل میں مزید اضافہ ہوگا۔ جاوید حاجی عبداللہ نے صدر مملکت سے اپیل کی ہے کہ اس صورتحال پر فوری نوٹس لیا جائے ۔
اس موقع پر ایسوی ایشن کے نائب صدر حسین قریشی، پریس سیکریٹری احمد قادری، حب کے صدر اشوک اور عمر کوٹ کے صدر شنکر لال بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے کنفکشنرز کیلیے کاروبار جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے جس کی وجہ سے 70 فیصد کارخانے اور دکانیں بند ہونے کا خطرہ ہے۔