شہر میں پانی کا بحران واٹر بورڈ فراہمی آب میں ناکام
ایم ڈی کی زیر صدارت اجلاس میں افسران کی ایک دوسرے پر سنگین الزام تراشیاں،اجلاس ہڑبونگ کا شکار.
سرد موسم میں پانی کی فراہمی کا بدترین عالم ،گرمی میں بحران شدید ہوجائے گا. فوٹو: رائٹرز/فائل
KARACHI:
کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کراچی کے شہریوں کو سردی میں بھی ضرورت کے مطابق پانی فراہم کرنے میں ناکام ہوگیا جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ شہری گرمی میں بدترین عذاب کا سامنا کرینگے۔
واٹر بورڈ کے افسران شہر میں فراہمی آب کی ابتر صورتحال کا الزام ایک دوسرے پر عائد کررہے ہیں، جبکہ بعض افسران نے واٹربورڈ کے ایم ڈی سے کہہ دیا ہے کہ وہ موجودہ حالات میں کام نہیں کرسکتے ہیں ان کو ان کے عہدوں سے ہٹادیا جائے، باخبر ذرائع نے اس امر کا انکشاف کرتے ہوئے ایکسپریس کو بتایا کہ گزشتہ روز واٹربورڈ کے افسران کا اجلاس کشیدگی اور تنائو کا شکار ہوگیا جب شہر میں جاری پانی کی بحرانی کیفیت پر افسران نے ایک دوسرے پر سنگین نوعیت کی الزام تراشی شروع کردی، ادارے کے چیف انجینئر بلک افتخار احمد اور چیف انجینئر الیکٹریکل اینڈ میکینکل ظہیر عباس نے اجلاس میں ایک دوسرے کو شہر میں پانی کے بحران کا ذمے دار قرار دیا۔
اجلاس میں یہ بات واضح طور پر محسوس کی گئی کہ واٹربورڈ کے افسران میں آپس میں باہمی تعاون نہ ہونے کے باعث شہر میں پانی کا بحران پیدا ہوا ہے کیونکہ الزام تراشی کرنے والے افسران کا کہنا تھا کہ اگر دوسرا شعبہ معاملات درست کرلے تو شہر میں پانی کی فراہمی معمول پر آسکتی ہے، اجلاس میں شعبہ ڈسٹری بیوشن سے تعلق رکھنے افسران کا کہنا تھا کہ بلک ڈپارٹمنٹ اور الیکٹریکل اینڈمیکینکل ڈپارٹمنٹ کے افسران ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں جس کا خمیازہ کراچی کے شہری بھگت رہے ہیں۔
افسران نے واضح طور پر ادارے کے منیجنگ ڈائریکٹر سے کہا کہ وہ ان حالات میں ڈسٹری بیوشن کے شعبے سے وابستہ نہیں رہ سکتے کیونکہ جب موسم سرما میں یہ صورتحال ہے تو موسم گرما میں کراچی کے شہریوں کو پانی کے بدترین عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا، اجلاس افسران کے آپس میں ایک دوسرے پر الزام تراشی اور نوک جھونک کی نظر ہوگیا اور پانی کے بحران کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکا، واٹربورڈ کے افسران کی نااہلی سے کراچی کے شہری پانی کے حصول کے لیے مشکلات کا شکار ہیں جس کا فائدہ ٹینکر مافیا اٹھا رہی ہے ۔
پانی کا مصنوعی بحران بھی ٹینکر مافیا کو نوازنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے،پانی کی کمی سے متاثرہ علاقوں میں واٹر ہائیڈرنٹس کو پانی ملنے کے سوال پر افسران جواب دینے کو تیار نہیں ،شہر میں صدر ، کلفٹن ، اورنگی ، بلدیہ ، سائٹ ، منظور کالونی ، محمود آباد ، کورنگی ، گلشن اقبال ، لیاقت آباد، فیڈرل بی ایریا سمیت اولڈ سٹی ایریا اور دیگر علاقے پانی کی سپلائی کے حوالے سے بحرانی کیفیت کا شکار ہیں۔
کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کراچی کے شہریوں کو سردی میں بھی ضرورت کے مطابق پانی فراہم کرنے میں ناکام ہوگیا جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ شہری گرمی میں بدترین عذاب کا سامنا کرینگے۔
واٹر بورڈ کے افسران شہر میں فراہمی آب کی ابتر صورتحال کا الزام ایک دوسرے پر عائد کررہے ہیں، جبکہ بعض افسران نے واٹربورڈ کے ایم ڈی سے کہہ دیا ہے کہ وہ موجودہ حالات میں کام نہیں کرسکتے ہیں ان کو ان کے عہدوں سے ہٹادیا جائے، باخبر ذرائع نے اس امر کا انکشاف کرتے ہوئے ایکسپریس کو بتایا کہ گزشتہ روز واٹربورڈ کے افسران کا اجلاس کشیدگی اور تنائو کا شکار ہوگیا جب شہر میں جاری پانی کی بحرانی کیفیت پر افسران نے ایک دوسرے پر سنگین نوعیت کی الزام تراشی شروع کردی، ادارے کے چیف انجینئر بلک افتخار احمد اور چیف انجینئر الیکٹریکل اینڈ میکینکل ظہیر عباس نے اجلاس میں ایک دوسرے کو شہر میں پانی کے بحران کا ذمے دار قرار دیا۔
اجلاس میں یہ بات واضح طور پر محسوس کی گئی کہ واٹربورڈ کے افسران میں آپس میں باہمی تعاون نہ ہونے کے باعث شہر میں پانی کا بحران پیدا ہوا ہے کیونکہ الزام تراشی کرنے والے افسران کا کہنا تھا کہ اگر دوسرا شعبہ معاملات درست کرلے تو شہر میں پانی کی فراہمی معمول پر آسکتی ہے، اجلاس میں شعبہ ڈسٹری بیوشن سے تعلق رکھنے افسران کا کہنا تھا کہ بلک ڈپارٹمنٹ اور الیکٹریکل اینڈمیکینکل ڈپارٹمنٹ کے افسران ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں جس کا خمیازہ کراچی کے شہری بھگت رہے ہیں۔
افسران نے واضح طور پر ادارے کے منیجنگ ڈائریکٹر سے کہا کہ وہ ان حالات میں ڈسٹری بیوشن کے شعبے سے وابستہ نہیں رہ سکتے کیونکہ جب موسم سرما میں یہ صورتحال ہے تو موسم گرما میں کراچی کے شہریوں کو پانی کے بدترین عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا، اجلاس افسران کے آپس میں ایک دوسرے پر الزام تراشی اور نوک جھونک کی نظر ہوگیا اور پانی کے بحران کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکا، واٹربورڈ کے افسران کی نااہلی سے کراچی کے شہری پانی کے حصول کے لیے مشکلات کا شکار ہیں جس کا فائدہ ٹینکر مافیا اٹھا رہی ہے ۔
پانی کا مصنوعی بحران بھی ٹینکر مافیا کو نوازنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے،پانی کی کمی سے متاثرہ علاقوں میں واٹر ہائیڈرنٹس کو پانی ملنے کے سوال پر افسران جواب دینے کو تیار نہیں ،شہر میں صدر ، کلفٹن ، اورنگی ، بلدیہ ، سائٹ ، منظور کالونی ، محمود آباد ، کورنگی ، گلشن اقبال ، لیاقت آباد، فیڈرل بی ایریا سمیت اولڈ سٹی ایریا اور دیگر علاقے پانی کی سپلائی کے حوالے سے بحرانی کیفیت کا شکار ہیں۔