ریٹائرڈ ملازمین کا دکھڑا
کے ایم سی کا محکمہ اب ایڈمنسٹریٹروں کی گرفت سے نکل کر منتخب میئروں اور چیئرمینوں کی تحویل میں آگیا ہے
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
وفاقی حکومت نے 10 فروری کو تمام وزارتوں اور ڈویژنوں کو ریٹائر ہونے والے اور دوران سروس وفات پانے والے ملازمین کے لواحقین اور ورثا کو ایک ماہ کے اندر پنشن اورگریجویٹی کی ادائیگی کے احکامات جاری کیے۔ نیزہدایت کی کہ پنشن وگریجویٹی رقوم کے تعین میں تاخیر ہوتی ہے تو ایسی صورت میں مجاز اتھارٹی کی منظوری لے کر ریٹائرڈ ملازمین کے ورثا اور لواحقین کو عبوری پیشگی گریجویٹی ادا کی جائے اور انھیں عبوری پنشن بھی فراہم کی جائے تاکہ ریٹائرڈ ملازمین کے لواحقین کو گریجویٹی اور پنشن کے حصول میں مشکلات پیش نہ آسکیں۔
اس حوالے سے وزارت خزانہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزارت کے ریگولیشن ونگ کی جانب سے تمام وزارتوں اور ڈویژنوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیںکہ وہ ریٹائر ہونے والے ملازمین اور دوران سروس وفات پانے والے ملازمین کے ورثا کو پنشن اور گریجویٹی کی ادائیگی کے لیے دستاویزات کے مکمل ہونے اور این او سی کے اجرا کا انتظار نہ کریں۔ پنشن و گریجویٹی کا کوئی کیس کسی بہانے سے نہ روکا جائے۔ وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ ہدایات پر عملدرآمد نہ کرنے والے مجاز افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
وفاقی حکومت کی ہدایات واضح ہیں ان میں کوئی ابہام موجود نہیں لیکن ہمارے ملک میں سرکاری محکموں کی کارکردگی کا جو حال ہے اس کے پیش نظر یقین نہیں آتا کہ متعلقہ افسران اور اہلکار ان ہدایات پر ذمے داری سے عملدرآمد کریں گے۔ عملدرآمد نہ کرنے والے مجاز افسران کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان بھی کیا گیا ہے، لیکن ہمارے حکام اس حوالے سے ایسے چکنے گھڑے بن گئے ہیں کہ ان پر ہدایات اوراحکامات کی کوئی بوند بھی نہیں ٹھہر سکتی۔ ہمارے ملک میں دودھ کی قیمتوں کے حوالے سے اعلیٰ عدالتوں نے کئی باراحکامات جاری کیے لیکن ڈیری مافیا نے انھیں ہوا میں اڑادیا اور آج تک دودھ اپنی مرضی کی قیمتوں پر فروخت کر رہے ہیں۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سرکاری اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی کیا صورت حال ہے۔
ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور گریجویٹی کا مسئلہ اس قدر حساس ہے کہ ان کی ادائیگی میں تاخیر کا مطلب ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو فاقہ کشی میں مبتلا کرنا ہے اس تناظر میں وفاقی حکومت کی ہدایات بلاشبہ قابل تحسین ہیں لیکن اصل مسئلہ یہی ہے کہ ان ہدایات پر عملدرآمد کی رفتار کیا ہوگی۔
ریٹائرڈ اور وفات پا جانے والے سرکاری ملازمین کے لواحقین کو ممکنہ مشکلات سے بچانے کے لیے وفاقی حکومت نے یہ ہدایات دی ہیں کہ پنشن اور گریجویٹی کی ادائیگی میں تاخیر ہوتی ہے تو اس صورت میں مجاز اتھارٹی کی منظوری سے ریٹائرڈ ملازمین کے لواحقین کو عبوری پیشگی گریجویٹی ادا کی جائے اور اس حوالے سے متعلقہ دستاویزات کے مکمل ہونے اور این او سی کے اجرا کا انتظار نہ کیا جائے۔ ان ہدایات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت ریٹائرڈ اور دوران سروس وفات پا جانے والے ملازمین کے ورثا کی مشکلات سے نہ صرف پوری طرح واقف ہے بلکہ انھیں ختم کرنے میں کس قدر سنجیدہ ہے۔
وفاقی حکومت کی ہدایات کا دائرہ کار وفاقی حکومت کے ملازمین تک محدود ہے حالانکہ ملک میں ایسے کئی محکمے ہیں جو وفاقی حکومت کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔ ان ہی محکموں میں سے ایک محکمہ کے ایم سی کا ہے۔ اس کے ریٹائرڈ ملازمین اپنی پنشن اور گریجویٹی کے حوالے سے برسوں سے خوار ہو رہے ہیں، یہ ایک ایسا باب ہے جس کی تفصیلات میں جانے سے آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق میئر کراچی ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن اور واجبات کی ادائیگی کے لیے کچھ اقدامات کر رہے ہیں جو حوصلہ افزا ہیں بشرطیکہ یہ اقدامات بیانات تک محدود نہ ہوں۔
جب کوئی ملازم ریٹائر ہوجاتا ہے تو اس کی تنخواہ ایک دم بند ہوجاتی ہے۔ سرکاری ملازمین کوئی ایم این اے ہوتے ہیں نہ ایم پی اے نہ سرمایہ دار کہ ریٹائر ہونے کے بعد گلشن کا کاروبار آسانی سے چلا سکیں۔ ان کی تنخواہ بند ہوتے ہی ان کے سامنے فاقہ کشی منہ کھولے کھڑی ہوتی ہے اور اس محکمے کا حال یہ ہے کہ پنشن اورگریجویٹی کے انتظار میں ریٹائر ملازمین موت کے قریب پہنچ جاتے ہیں بلکہ موت کا شکار ہوجاتے ہیں، لیکن محکمے کے متعلقہ اہلکاروں کا دل نہیں پسیجتا۔ خاص طور پر اس محکمے میں تدریسی خدمات انجام دینے والے اساتذہ ریٹائرمنٹ کے بعد جس طرح خوار ہو رہے ہیں۔
اس کا اندازہ لگانا ہو تو ہمارے وزیر اعظم کو ایک کمیٹی قائم کرنا چاہیے جو ریٹائرڈ ملازمین سے مل کر ان کی مشکلات اور خواری کا جائزہ لے۔کہا جاتا ہے کہ ایک ایک ٹیبل پر ریٹائر ملازمین کی فائلیں مہینوں پڑی رہتی ہیں اور افسران بالا کے ایک سائن کے لیے بھی مہینوں فائلیں صاحب کے ٹیبل کی زینت بنی رہتی ہیں۔
کے ایم سی کا محکمہ اب ایڈمنسٹریٹروں کی گرفت سے نکل کر منتخب میئروں اور چیئرمینوں کی تحویل میں آگیا ہے۔ ہمارے میئرکراچی وسیم اختر عوام کے مسائل حل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، سندھ کے وزیر اعلیٰ بھی متحرک ہیں۔کیا ان ذمے دار حضرات کے علم میں کے ایم سی کے ریٹائرڈ ملازمین کی حالت زار نہیں ہے؟ وفاقی حکومت نے اپنی تمام وزارتوں اور ڈویژنوں کو یہ دو ٹوک ہدایات دے دی ہیں کہ ہر حال میں ریٹائرڈ اور فوت پا جانے والے ملازمین کو ایک ماہ کے اندر پنشن اورگریجویٹی جاری کردی جائے ورنہ متعلقہ اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ کے ایم سی کے ہزاروں ریٹائرڈ ملازمین مہینوں نہیں برسوں سے اپنی پنشن اورگریجویٹی کے لیے خواب دیکھ رہے ہیں۔ کیا میئر کراچی اور وزیر اعلیٰ سندھ متعلقہ اہلکاروں کو حکم نہیں دے سکتے کہ ریٹائرڈ ملازمین کو ہر حال میں ایک ماہ کے اندر پنشن اورگریجویٹی ادا کردی جائے؟
اس حوالے سے وزارت خزانہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزارت کے ریگولیشن ونگ کی جانب سے تمام وزارتوں اور ڈویژنوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیںکہ وہ ریٹائر ہونے والے ملازمین اور دوران سروس وفات پانے والے ملازمین کے ورثا کو پنشن اور گریجویٹی کی ادائیگی کے لیے دستاویزات کے مکمل ہونے اور این او سی کے اجرا کا انتظار نہ کریں۔ پنشن و گریجویٹی کا کوئی کیس کسی بہانے سے نہ روکا جائے۔ وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ ہدایات پر عملدرآمد نہ کرنے والے مجاز افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
وفاقی حکومت کی ہدایات واضح ہیں ان میں کوئی ابہام موجود نہیں لیکن ہمارے ملک میں سرکاری محکموں کی کارکردگی کا جو حال ہے اس کے پیش نظر یقین نہیں آتا کہ متعلقہ افسران اور اہلکار ان ہدایات پر ذمے داری سے عملدرآمد کریں گے۔ عملدرآمد نہ کرنے والے مجاز افسران کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان بھی کیا گیا ہے، لیکن ہمارے حکام اس حوالے سے ایسے چکنے گھڑے بن گئے ہیں کہ ان پر ہدایات اوراحکامات کی کوئی بوند بھی نہیں ٹھہر سکتی۔ ہمارے ملک میں دودھ کی قیمتوں کے حوالے سے اعلیٰ عدالتوں نے کئی باراحکامات جاری کیے لیکن ڈیری مافیا نے انھیں ہوا میں اڑادیا اور آج تک دودھ اپنی مرضی کی قیمتوں پر فروخت کر رہے ہیں۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سرکاری اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی کیا صورت حال ہے۔
ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور گریجویٹی کا مسئلہ اس قدر حساس ہے کہ ان کی ادائیگی میں تاخیر کا مطلب ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو فاقہ کشی میں مبتلا کرنا ہے اس تناظر میں وفاقی حکومت کی ہدایات بلاشبہ قابل تحسین ہیں لیکن اصل مسئلہ یہی ہے کہ ان ہدایات پر عملدرآمد کی رفتار کیا ہوگی۔
ریٹائرڈ اور وفات پا جانے والے سرکاری ملازمین کے لواحقین کو ممکنہ مشکلات سے بچانے کے لیے وفاقی حکومت نے یہ ہدایات دی ہیں کہ پنشن اور گریجویٹی کی ادائیگی میں تاخیر ہوتی ہے تو اس صورت میں مجاز اتھارٹی کی منظوری سے ریٹائرڈ ملازمین کے لواحقین کو عبوری پیشگی گریجویٹی ادا کی جائے اور اس حوالے سے متعلقہ دستاویزات کے مکمل ہونے اور این او سی کے اجرا کا انتظار نہ کیا جائے۔ ان ہدایات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت ریٹائرڈ اور دوران سروس وفات پا جانے والے ملازمین کے ورثا کی مشکلات سے نہ صرف پوری طرح واقف ہے بلکہ انھیں ختم کرنے میں کس قدر سنجیدہ ہے۔
وفاقی حکومت کی ہدایات کا دائرہ کار وفاقی حکومت کے ملازمین تک محدود ہے حالانکہ ملک میں ایسے کئی محکمے ہیں جو وفاقی حکومت کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔ ان ہی محکموں میں سے ایک محکمہ کے ایم سی کا ہے۔ اس کے ریٹائرڈ ملازمین اپنی پنشن اور گریجویٹی کے حوالے سے برسوں سے خوار ہو رہے ہیں، یہ ایک ایسا باب ہے جس کی تفصیلات میں جانے سے آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق میئر کراچی ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن اور واجبات کی ادائیگی کے لیے کچھ اقدامات کر رہے ہیں جو حوصلہ افزا ہیں بشرطیکہ یہ اقدامات بیانات تک محدود نہ ہوں۔
جب کوئی ملازم ریٹائر ہوجاتا ہے تو اس کی تنخواہ ایک دم بند ہوجاتی ہے۔ سرکاری ملازمین کوئی ایم این اے ہوتے ہیں نہ ایم پی اے نہ سرمایہ دار کہ ریٹائر ہونے کے بعد گلشن کا کاروبار آسانی سے چلا سکیں۔ ان کی تنخواہ بند ہوتے ہی ان کے سامنے فاقہ کشی منہ کھولے کھڑی ہوتی ہے اور اس محکمے کا حال یہ ہے کہ پنشن اورگریجویٹی کے انتظار میں ریٹائر ملازمین موت کے قریب پہنچ جاتے ہیں بلکہ موت کا شکار ہوجاتے ہیں، لیکن محکمے کے متعلقہ اہلکاروں کا دل نہیں پسیجتا۔ خاص طور پر اس محکمے میں تدریسی خدمات انجام دینے والے اساتذہ ریٹائرمنٹ کے بعد جس طرح خوار ہو رہے ہیں۔
اس کا اندازہ لگانا ہو تو ہمارے وزیر اعظم کو ایک کمیٹی قائم کرنا چاہیے جو ریٹائرڈ ملازمین سے مل کر ان کی مشکلات اور خواری کا جائزہ لے۔کہا جاتا ہے کہ ایک ایک ٹیبل پر ریٹائر ملازمین کی فائلیں مہینوں پڑی رہتی ہیں اور افسران بالا کے ایک سائن کے لیے بھی مہینوں فائلیں صاحب کے ٹیبل کی زینت بنی رہتی ہیں۔
کے ایم سی کا محکمہ اب ایڈمنسٹریٹروں کی گرفت سے نکل کر منتخب میئروں اور چیئرمینوں کی تحویل میں آگیا ہے۔ ہمارے میئرکراچی وسیم اختر عوام کے مسائل حل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، سندھ کے وزیر اعلیٰ بھی متحرک ہیں۔کیا ان ذمے دار حضرات کے علم میں کے ایم سی کے ریٹائرڈ ملازمین کی حالت زار نہیں ہے؟ وفاقی حکومت نے اپنی تمام وزارتوں اور ڈویژنوں کو یہ دو ٹوک ہدایات دے دی ہیں کہ ہر حال میں ریٹائرڈ اور فوت پا جانے والے ملازمین کو ایک ماہ کے اندر پنشن اورگریجویٹی جاری کردی جائے ورنہ متعلقہ اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ کے ایم سی کے ہزاروں ریٹائرڈ ملازمین مہینوں نہیں برسوں سے اپنی پنشن اورگریجویٹی کے لیے خواب دیکھ رہے ہیں۔ کیا میئر کراچی اور وزیر اعلیٰ سندھ متعلقہ اہلکاروں کو حکم نہیں دے سکتے کہ ریٹائرڈ ملازمین کو ہر حال میں ایک ماہ کے اندر پنشن اورگریجویٹی ادا کردی جائے؟