پنجاب حکومت کی معذرت مائننگ کمپنیوں پر5 فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کا امکان
وفاق نے نان فائلرمائنرز پر5فیصدٹیکس لگایا، صوبوں نے قانون کے برخلاف قرار دیکرودہولڈنگ ایجنٹ بننے سے انکار کردیا،ذرائع
مختلف معدنی ذخائر کی ویلیوایشن نہ رولزبنائے گئے،اسٹاف بھی نہیں، ایف بی آرخودوصولی کرلے، پنجاب حکومت کاخط۔ فوٹو: فائل
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں معدنی ذخائر تلاش کرنے والے نان فائلرز پر عائد کردہ 5 فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبوں نے معدنی ذخائر تلاش کرنے والی کمپنیوں سے وفاق کے لیے 5 فیصد ایڈوانس وصول کرنے سے انکار کردیا ہے اور وفاق کو تجویز دی ہے کہ صوبوں سے معدنی ذخائر تلاش کرنے والے نان فائلرز پر ایف بی آر کی جانب سے عائد کردہ 5 فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کردیا جائے اور اگر اس ٹیکس کی وصولی ضروری ہے تو ایف بی آر یہ ٹیکس خود اکٹھا کرے۔
ذرائع کے مطابق صوبوں کے ذریعے مذکورہ ٹیکس اکٹھا کرنے میں شدید مشکلات اور پیچیدگیوں کا سامنا ہے جس کے باعث ایف بی آر نے معدنی ذخائر تلاش کرنے والی کمپنیوں سے 5 فیصد ایڈوانس ٹیکس کی وصولی کا فیصلہ واپس لینے کی تجویز کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے جس کے لیے آئندہ فنانس ایکٹ کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی سیکشن 236 وی میں ترمیم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ ٹیکس لگانے کے بعد ایف بی آر کو مختلف معدنی ذخائر کی ویلیوایشن کرنا تھی جو نہیں کی جاسکی اسی طرح رولز تیار کیے جاسکے نہ صوبوں کے ساتھ معدنیات کے حوالے سے ڈیٹا شیئرنگ اور ڈیٹا سافٹ ویئر فراہم کرنے کا کوئی انتظام ہوسکا جس کے باعث صوبوں نے وفاق کے لیے یہ ٹیکس اکٹھا کرنے سے انکار کر دیا ہے اور اس بارے میں ایف بی آر کو باقاعدہ تحریری طور پر آگاہ بھی کیا گیا ہے۔
حکومت پنجاب نے ایف بی آر کو لیٹر کے ذریعے نان فائلرز کی معدنی دریافت پر5 فیصد ایڈوانس ٹیکس لینے سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ وفاقی حکومت نے معدنی ذخائرکی دریافت اور رائلٹی پر بطور کلکٹنگ ایجنٹ 5فیصد ایڈوانس ٹیکس اکھٹے کرنے کا کہا ہے لیکن قانون کے مطابق صوبائی حکومت ودہولڈنگ ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کی مجاز نہیں، ساتھ ہی معدنی ذخائر تلاش کرنے والے لوگوں و کنسیشنریز کے ساتھ تنازع کی صورت میں انہیں حل کرنے کے لیے کسی قسم کے گورننگ رولز بھی موجود نہیں۔
دوسری جانب خط میں کہا گیا کہ وفاق نے صوبوں سے مشاورت اور رضامندی کے بغیر انہیں ودہولڈنگ ایجنٹ قراردیا جبکہ متعلقہ صوبائی ڈپارٹمنٹ کے پاس انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں (فائلرز) اور نان فائلرز کا کوئی ڈیٹا بیس بھی موجود نہیں جس کی بنیاد پر فائلر و نان فائلر کا فرق کر کے نان فائلرز سے کٹوتیاں کرسکیں۔ اس کے علاوہ وفاق کی طرف سے ان کٹوتیوں کے لیے معدنی ذخائر کی مختلف اقسام کی ویلیو ہی متعین نہیں کی۔
خط کے مطابق پنجاب کے محکمہ مائنز ومنرل کا فنانس ڈپارٹمنٹ معدنی ذخائر تلاش کی لیز حاصل کرنے والے لیز ہولڈرز سے براہ راست رائلٹی وصول نہیں کرتا، معدنی ذخائر کی لیز بذریعہ آکشن ہوتی ہے اور سیکشن 236 اے کے تحت تمام بڑے اور اہم معدنیات کے رائلٹی کنٹریکٹر کی طرف سے ہر قسط کے ساتھ 10فیصد ایڈوانس ٹیکس جمع کرایا جارہا ہے جبکہ ریت، سلٹ اسٹون، سینڈ اسٹون اور دیگر چھوٹے موٹے اور مائنر معدنیات نکالنے کے رائٹس کی اوپن آکشن ہوتی ہے اور ان پر فی میٹرک ٹن رائلٹی کے نفاذ کا کوئی تصور نہیں البتہ رائلٹی کنٹریکٹر کی جانب سے اقساط کی ادائیگی کے موقع پر مجموعی رقم کا10 فیصد انکم ٹیکس دیاجاتا ہے، اس کے علاوہ محکمہ مائنز اینڈ منرل کے پاس پہلے ہی کام کا بوجھ بہت زیادہ ہے۔ اسٹاف کی بھی قلت ہے اس لیے یہ ڈیپارٹمنٹ ایف بی آر کے لیے مائنرز سے 5 فیصد ایڈوانس ٹیکس نہیں لے سکتا، اگر وفاق یہ ٹیکس اکٹھا کرنا چاہتا ہے تو ایف بی آر خود کرے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے آئندہ بجٹ میں معدنی ذخائر تلاش کرنے والے نان فائلرز پر عائد کردہ 5فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی تجویز کا جائزہ لے اجارہا ہے تاہم حتمی فیصلہ وزارت خزانہ کی منظوری سے ہوگا۔
ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبوں نے معدنی ذخائر تلاش کرنے والی کمپنیوں سے وفاق کے لیے 5 فیصد ایڈوانس وصول کرنے سے انکار کردیا ہے اور وفاق کو تجویز دی ہے کہ صوبوں سے معدنی ذخائر تلاش کرنے والے نان فائلرز پر ایف بی آر کی جانب سے عائد کردہ 5 فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کردیا جائے اور اگر اس ٹیکس کی وصولی ضروری ہے تو ایف بی آر یہ ٹیکس خود اکٹھا کرے۔
ذرائع کے مطابق صوبوں کے ذریعے مذکورہ ٹیکس اکٹھا کرنے میں شدید مشکلات اور پیچیدگیوں کا سامنا ہے جس کے باعث ایف بی آر نے معدنی ذخائر تلاش کرنے والی کمپنیوں سے 5 فیصد ایڈوانس ٹیکس کی وصولی کا فیصلہ واپس لینے کی تجویز کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے جس کے لیے آئندہ فنانس ایکٹ کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی سیکشن 236 وی میں ترمیم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ ٹیکس لگانے کے بعد ایف بی آر کو مختلف معدنی ذخائر کی ویلیوایشن کرنا تھی جو نہیں کی جاسکی اسی طرح رولز تیار کیے جاسکے نہ صوبوں کے ساتھ معدنیات کے حوالے سے ڈیٹا شیئرنگ اور ڈیٹا سافٹ ویئر فراہم کرنے کا کوئی انتظام ہوسکا جس کے باعث صوبوں نے وفاق کے لیے یہ ٹیکس اکٹھا کرنے سے انکار کر دیا ہے اور اس بارے میں ایف بی آر کو باقاعدہ تحریری طور پر آگاہ بھی کیا گیا ہے۔
حکومت پنجاب نے ایف بی آر کو لیٹر کے ذریعے نان فائلرز کی معدنی دریافت پر5 فیصد ایڈوانس ٹیکس لینے سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ وفاقی حکومت نے معدنی ذخائرکی دریافت اور رائلٹی پر بطور کلکٹنگ ایجنٹ 5فیصد ایڈوانس ٹیکس اکھٹے کرنے کا کہا ہے لیکن قانون کے مطابق صوبائی حکومت ودہولڈنگ ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کی مجاز نہیں، ساتھ ہی معدنی ذخائر تلاش کرنے والے لوگوں و کنسیشنریز کے ساتھ تنازع کی صورت میں انہیں حل کرنے کے لیے کسی قسم کے گورننگ رولز بھی موجود نہیں۔
دوسری جانب خط میں کہا گیا کہ وفاق نے صوبوں سے مشاورت اور رضامندی کے بغیر انہیں ودہولڈنگ ایجنٹ قراردیا جبکہ متعلقہ صوبائی ڈپارٹمنٹ کے پاس انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں (فائلرز) اور نان فائلرز کا کوئی ڈیٹا بیس بھی موجود نہیں جس کی بنیاد پر فائلر و نان فائلر کا فرق کر کے نان فائلرز سے کٹوتیاں کرسکیں۔ اس کے علاوہ وفاق کی طرف سے ان کٹوتیوں کے لیے معدنی ذخائر کی مختلف اقسام کی ویلیو ہی متعین نہیں کی۔
خط کے مطابق پنجاب کے محکمہ مائنز ومنرل کا فنانس ڈپارٹمنٹ معدنی ذخائر تلاش کی لیز حاصل کرنے والے لیز ہولڈرز سے براہ راست رائلٹی وصول نہیں کرتا، معدنی ذخائر کی لیز بذریعہ آکشن ہوتی ہے اور سیکشن 236 اے کے تحت تمام بڑے اور اہم معدنیات کے رائلٹی کنٹریکٹر کی طرف سے ہر قسط کے ساتھ 10فیصد ایڈوانس ٹیکس جمع کرایا جارہا ہے جبکہ ریت، سلٹ اسٹون، سینڈ اسٹون اور دیگر چھوٹے موٹے اور مائنر معدنیات نکالنے کے رائٹس کی اوپن آکشن ہوتی ہے اور ان پر فی میٹرک ٹن رائلٹی کے نفاذ کا کوئی تصور نہیں البتہ رائلٹی کنٹریکٹر کی جانب سے اقساط کی ادائیگی کے موقع پر مجموعی رقم کا10 فیصد انکم ٹیکس دیاجاتا ہے، اس کے علاوہ محکمہ مائنز اینڈ منرل کے پاس پہلے ہی کام کا بوجھ بہت زیادہ ہے۔ اسٹاف کی بھی قلت ہے اس لیے یہ ڈیپارٹمنٹ ایف بی آر کے لیے مائنرز سے 5 فیصد ایڈوانس ٹیکس نہیں لے سکتا، اگر وفاق یہ ٹیکس اکٹھا کرنا چاہتا ہے تو ایف بی آر خود کرے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے آئندہ بجٹ میں معدنی ذخائر تلاش کرنے والے نان فائلرز پر عائد کردہ 5فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی تجویز کا جائزہ لے اجارہا ہے تاہم حتمی فیصلہ وزارت خزانہ کی منظوری سے ہوگا۔