قبضہ مافیا سے ہزاروں ایکڑ اراضی واگزار سندھ حکومت کو 10روپے کی آمدنی

2010 سے 2012 ء کے مجموعی طور پر 3271 ایکڑ اراضی اور 9 کلو میٹر ریلوے ٹریک واگزار کرایا گیا۔

سندھ حکوعمت نےقابضین سے 9 کلومیٹر ریلوے ٹریک بھی واگزار کرالیا۔

سندھ حکومت نے گذشتہ ڈھائی سال کے دوران اربوں روپے مالیت کی مجموعی طور پر 9 ہزار 683 ایکڑ اراضی قبضہ مافیا سے واگذار کرالی ہے۔

جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر یکم جولائی 2011 ء سے 31 دسمبر 2012 ء تک 3ہزار 693 ایکڑ زمین قبضہ گیروں سے چھڑائی، اس عرصے میں 9 کلومیٹر ریلوے ٹریک بھی خالی کرالیا گیاہے۔ اس امر کا انکشاف اینٹی انکروچمنٹ سیل سندھ کی رپورٹ میں کیا گیا ہے جو سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو سندھ کو ارسال کی گئی ہے ۔ دریں اثنا بورڈ آف ریونیو سندھ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ واگزار کرائی گئی زمین کا کچھ حصہ فروخت کرکے حکومت سندھ کو 10 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوا ہے ۔ اینٹی انکروچمنٹ سیل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مزید سرکاری اراضی کو قبضہ مافیا سے واگزار کرانے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں ۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس ضمن میں 143 مقدمات درج اور 246 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ 229 ملزمان فرار ہوچکے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق اینٹی انکروچمنٹ سیل جون 2010 ء میں قائم ہوا تھا ۔ یکم جون 2010 ء سے 31 دسمبر 2010 ء تک 2130 ایکڑ اراضی واگزار کرائی گئی اور 37 مقدمات درج کرکے61 افراد کو گرفتار کیا گیا ۔ یکم جنوری 2011 ء سے 31 دسمبر 2011 ء تک کراچی اور حیدرآباد کی 2661 ایکڑ اراضی واگزار کرائی گئی اور 59 مقدمات درج کرکے 110 افراد کو گرفتار کیا گیا ۔ 24 جون 2012 ء سے 31 دسمبر 2012 ء تک کراچی اور حیدرآباد میں 1621 ایکڑ اراضی اور 5132 ء مربع گز رہائشی پلاٹس واگزارکرائے گئے اور 47 مقدمات درج کرکے75 افراد کوگرفتارکیاگیا ۔

2010 سے 2012 ء تک 3 سال میں عدالت کے حکم پر ایف آئی آر کے بغیر کارروائی کی گئی اور مجموعی طور پر 3271 ء ایکڑ اراضی اور 9 کلو میٹر ریلوے ٹریک واگزار کرایا گیا ۔ واگزار کرائی گئی اراضی میں ڈالمیا کراچی میں فٹ بال گراؤنڈ کی15ایکڑ انتہائی قیمتی اراضی ، شاہ فیصل پل کے قریب ملیر ندی کی5 ایکڑ اراضی سمیت گلشن اقبال، گل بائی پل، بن قاسم ٹاؤن ، اسکیم 33 کراچی اور ناردرن بائی پاس کی قیمتی زمینیں شامل ہیں ۔ دریں اثنا بورڈ آف ریونیو سندھ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ واگزار کرائی گئی اراضی میں سے کچھ حصہ مارکیٹ ویلیو کے حساب سے الاٹ کیا گیا ہے جس سے 10 ارب روپے کی آمدنی ہوئی جبکہ مزید 30 ارب روپے کی آمدنی متوقع ہے ۔




یاد رہے کہ موجودہ حکومت سے قبل 1975 ء کی لینڈ الاٹمنٹ پالیسی کے تحت ایک روپے گز اور 4840 روپے ایکڑ کے حساب سے زمین الاٹ کرکے سندھ صوبے کے ریونیو کو شدید نقصان پہنچایا جاتا تھا ۔ بعدازاں جنرل (ر) پرویز مشرف کے حکومت سنھبالنے کے بعد 1999 ء میں 100 روپے گز یعنی ڈیڑہ لاکھ روپے ایکڑ کے حساب سے زمین الاٹ کی جاتی رہی جبکہ ڈی ایچ اے کو سابق گورنر محمد میاں سومرو کے دور اقتدار میں ایک روپے گز کے حساب سے زمین الاٹ کی گئی تھی۔ بعدازاں سابق وزیراعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کے دور 2006ء میں مارکیٹ ویلیو پر زمین فروخت کرنے کی پالیسی مرتب کی گئی جس کے تحت 8 لاکھ روپے سے 3 کروڑ روپے تک سرکاری اراضی کی قیمت مقرر کی گئی ۔

پالیسی کے تحت صنعتوں کے فروغ، غریب افراد کے لیے انکریمینٹل سوسائٹیوں کے قیام اور کم آمدنی والے افراد کو 120 گز کے سستے پلاٹ فراہم کرنے کے حوالے سے مارکیٹ ویلیو کے مطابق 25, 50, اور 75 فیصد رعایت دینے کا فیصلہ کیا گیا اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو اسکروٹنی کمیٹی کا چیئرمین مقرر کرتے ہوئے ممبر لینڈ یوٹیلائزیشن کو کمیٹی کا سیکریٹری مقرر کیا گیا ۔ ممبران میں سیکریٹری خزانہ ، سیکریٹری صنعت ، چیمبر آف کامرس کے نمائندے سراج قاسم تیلی اور ہارون فاروقی کے علاوہ متعلقہ ای ڈی او (ریونیو ) جو کہ اب ڈپٹی کمشنرز ہیں اور جس محکمے سے متعلق زمین الاٹ ہوگی اس کا سیکریٹری بھی کمیٹی کے ممبران میں شامل تھے ۔

بعدازاں موجودہ حکومت کے قیام کے بعد سابق وزیراعلیٰ سندھ کی پالیسی کو مثبت قرار دیتے ہوئے جاری رکھا گیا جس سے سندھ حکومت کی آمدنی میں اربوں روپے کا اضافہ ہوا ۔ سندھ حکومت نے صنعتوں کے فروغ ، لیبر کالونیوں کے قیام ، سانپ ، کتے اور دیگر زہریلے جانوروں کے کاٹنے سے بچاؤ کے انجیکشن تیار کرنے کے لیے لیبارٹریز کے قیام ، ونڈ پاور ، میڈیکل یونیورسٹیز کے قیام ، کم آمدنی والے افراد کو 2006 ء کی پالیسی کے تحت اراضی کی الاٹمنٹ جاری رکھی ۔
Load Next Story