ایجنسیوں کا کردار پارلیمنٹ کی زیر نگرانی لایا جائے لاپتہ افراد سے متعلق 15سفارشات منظور

ماورائے آئین گرفتاری کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف متعلقہ ادارہ قانونی کارروائی کرے، قومی سلامتی کمیٹی کی سفارش

انٹیلی جنس ایجنسیوں کاکردارقانون کے مطابق اور پارلیمنٹ کی نگرانی میں ہوگا,رضاربانی۔ فوٹو: ایکسپریس

RAWALPINDI:
پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی نے لاپتہ افرادکے معاملے پرقانون سازی کیلیے15سفارشات کی منظوری دیدی ہے جوصدر،وزیراعظم اورپارلیمنٹ کوارسال کی جائینگی۔ کمیٹی کااجلاس چیئرمین سینیٹررضا ربانی کی زیر صدارت ہوا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رضاربانی نے بتایاکہ کمیٹی نے سفارشات دی ہیںکہ کسی بھی شہری کی گرفتاری اورحراست آئین کے آرٹیکل 10اور دیگرمتعلقہ قانون کے تحت ہی ہونی چاہیے۔ قانون نافذکرنیوالے اداروںاورانٹیلی جنس ایجنسیوں کوقانون کاپابند بنایا جائے جو اہلکار یاافسرماورائے آئین گرفتار ی کامرتکب پایا جائے تو متعلقہ ادارہ اس کیخلاف قانونی کارروائی کرے۔


24گھنٹے میں گرفتارافراد کو ان کیخلاف مقدمے کی دفعات سے آگا ہ کیاجائے جواہلکارلاپتہ افرادکومجازعدالت کے روبرو پیش کریں ان کیخلاف کارروائی نہ کی جائے،حکومت رہا ہونیوالے لاپتہ افراداور ان کے خاندانوں کی بحالی کیلیے مناسب پالیسیاں وضع کرے حکومت انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت زیر حراست افرادکے کمپیوٹرائزڈ اندراج کیلیے بندوبست کرے اورتمام گرفتار اور زیرحراست افرادکا چوبیس گھنٹے کے اندراندراج کیا جانا چاہیے۔



مسلح افواج انٹیلی جنس ایجنسیوں اور پولیس کو تربیت فراہم کرنیوالے اداروں کوآئین پاکستان اور یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس کواپنے نصاب کاحصہ بنانا چاہیے۔ایک ٹی وی کے مطابق رضاربانی نے کہا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کاکردارقانون کے مطابق اور پارلیمنٹ کی نگرانی میں ہوگا،این این آئی کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے افغان طالبان کی رہائی سے متعلق وضاحت طلب کرلی ہے اور وزارت دفاع،خارجہ اورڈی جی آئی ایس آئی کوکہاگیاکہ وہ اس سلسلے میں کمیٹی کو بریفنگ دیں کہ افغان طالبان کوکس کی ضمانت اور کن شرائط پررہاکیاگیاہے اور طالبان سے مذاکرات پراعتمادمیں لیاجائے۔
Load Next Story