سندھ میں خسرہ کی وبا سے مزید 12بچے زندگی ہار گئے
صوبائی وزیر کی ہدایات کے باوجود اب تک صحرائی اور کچے کے علاقوں میں ویکسی نیشن کا کام شروع نہیں کیا جا سکا
سندھ حکومت نے خسرہ سے 250 بچوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی۔ فوٹو : اے ایف پی
ISLAMABAD:
سندھ میں خسرہ کی وباء کو روکنے کیلیے حکومت کی تمام تر کوششیں ناکام ہو گئیں، مختلف شہروں میں مزید 12بچے زندگی ہار گئے۔
نجی ٹی وی کے مطابق منگل کو سندھ کے ضلع شکارپور کے مختلف علاقوں میں 4 بچے انتقال کر گئے۔ کوٹ شاہو کے ایک سالہ ناصر، دو سالہ زاہد اور جمعہ گوٹھ کی ایک سالہ خالق اور ایک سالہ حسنین زندگی ہار گئے۔ گھوٹکی کے علاقے ڈھرکی میں دو سالہ جابر، سکھر کی تحصیل صالح بٹ میں چار سالہ سپنا اور پانچ سالہ رابعہ دم توڑ گئے۔ سکھر میں چوالیس دنوں میں خسرہ سے ستتر بچے جان گنوا چکے ہیں۔
صوبائی وزیر ڈاکٹر صغیر احمد کی سخت ہدایات کے باوجود اب تک سندھ کے صحرائی اور کچے کے علاقوں میں ویکسی نیشن کا کام شروع نہیں کیا جا سکا ہے۔ محکمہ صحت نے صحرائی علاقوں میں ویکسینیشن عملے کی حفاظت کیلیے رینجرز طلب کر لی ہے۔ خبر ایجنسیوں کے مطابق ملک بھر میں خسرہ سے جاں بحق ہونیوالے بچوں کی تعداد 327تک پہنچ گئی، محکمہ صحت نے صرف صوبہ سندھ میں ڈھائی سو ہلاکتوں کی تصدیق کر دی۔
سندھ میں خسرہ کی وباء کو روکنے کیلیے حکومت کی تمام تر کوششیں ناکام ہو گئیں، مختلف شہروں میں مزید 12بچے زندگی ہار گئے۔
نجی ٹی وی کے مطابق منگل کو سندھ کے ضلع شکارپور کے مختلف علاقوں میں 4 بچے انتقال کر گئے۔ کوٹ شاہو کے ایک سالہ ناصر، دو سالہ زاہد اور جمعہ گوٹھ کی ایک سالہ خالق اور ایک سالہ حسنین زندگی ہار گئے۔ گھوٹکی کے علاقے ڈھرکی میں دو سالہ جابر، سکھر کی تحصیل صالح بٹ میں چار سالہ سپنا اور پانچ سالہ رابعہ دم توڑ گئے۔ سکھر میں چوالیس دنوں میں خسرہ سے ستتر بچے جان گنوا چکے ہیں۔
صوبائی وزیر ڈاکٹر صغیر احمد کی سخت ہدایات کے باوجود اب تک سندھ کے صحرائی اور کچے کے علاقوں میں ویکسی نیشن کا کام شروع نہیں کیا جا سکا ہے۔ محکمہ صحت نے صحرائی علاقوں میں ویکسینیشن عملے کی حفاظت کیلیے رینجرز طلب کر لی ہے۔ خبر ایجنسیوں کے مطابق ملک بھر میں خسرہ سے جاں بحق ہونیوالے بچوں کی تعداد 327تک پہنچ گئی، محکمہ صحت نے صرف صوبہ سندھ میں ڈھائی سو ہلاکتوں کی تصدیق کر دی۔