صدرممنون حسین کی جرأت مندانہ تقریر
میرے کہنے پر بھی بجلی کمپنیوں سے بدعنوان نہیں ہٹائے گئے
tauceeph@gmail.com
میرے کہنے پر بھی بجلی کمپنیوں سے بدعنوان نہیں ہٹائے گئے۔ صدر پاکستان ممنون حسین نے ایوانِ صدر میں ایک تقریب میں اپنی زیر نگرانی حکومت کی زبوں حالی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے۔ انھوں نے کہا کہ میری تجاویز پرکوئی خاص عملدرآمد نہیں نظر آیا، بہت سی تجاویز پر ہمارے بہت سے سرکاری ملازمین عملدرآمد نہیں کرتے۔ کرپٹ لوگ ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ بنے ہوئے ہیں۔
وزیراعظم نواز شریف کی حکومت اور ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی حکومت میں مماثلت نظرآتی ہے۔ وزیراعظم لیاقت علی خان یوں تو مرد آہن تھے، انھیں عوام کی حمایت حاصل تھی مگرکابینہ میں سینئر بیوروکریٹ اور وزیرخزانہ غلام محمد ایک مضبوط گروپ کی نمایندگی کرتے تھے۔ بیوروکریسی کے ایک اور مضبوط ستون چوہدری محمدعلی، غلام محمد کی پشت پر تھے۔ چوہدری محمد علی اور غلام محمد مشرقی پاکستان کی اکثریت کو کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں تھے۔
چوہدری محمدعلی کی ہدایت پر پہلے گورنرجنرل محمدعلی جناح کی 11 اگست 1948ء کی آئین ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس کی پالیسی تقریرکو نشر نہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ وزیر تعلیم فضل الرحمن مشرقی پاکستان کی نمایندگی کرتے تھے، ان گروپوں کی کشمکش کی بنا پر ملک کی پہلی کابینہ آئین بنانے اور بنیادی پالیسیاں بنانے میں ناکام رہی۔ لیاقت علی خان سوویت یونین کی حکومت کی دعوت پر ماسکو نہیں گئے اور امریکا کے دورے پر چلے گئے تھے۔ یہ کابینہ ملک کا آئین بنانے میں ناکام رہی تھی۔ وزیراعظم نواز شریف کی کابینہ میں مختلف گروپ نظر آتے ہیں۔
وزیردفاع خواجہ آصف ایک گروپ کی نمایندگی کرتے ہیں تو وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان ایک اور گروپ کے سربراہ ہیں۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف وفاق کے معاملات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کا بھی وفاق اور پنجاب کے معاملات میں ایک اہم کردار ہے۔ نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز بھی ایک اہم حیثیت اختیار کرچکی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم ان سے اہم معاملات میں مشورہ کرتے ہیں۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار واحد متفقہ وزیر ہیں۔ اس صورتحال میں بیوروکریٹس نے مختلف اہم شخصیتوں کی سرپرستی حاصل کی ہوئی ہے۔
سپریم کورٹ نے گزشتہ سال یہ معرکۃ الآراء فیصلہ دیا تھا کہ کابینہ کی منظوری کے بغیر مالیاتی قوانین کا اطلاق غیر قانونی ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ کابینہ کے اجلاس نہ ہونے اور اہم فیصلے کابینہ میں نہ ہونے کے تناظر میں تھا۔ یہ خبریں اخبارات میں شایع ہوئی تھیں کہ وزیراعظم اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں مگر یہ ارادہ ملتوی کردیا گیا۔ پھر ایوان صدر کا بھی عجب حال ہے۔ ایوان صدر کی نگرانی میں وفاقی یونیورسٹیاں کام کررہی ہیں۔ بیشتر یونیورسٹیاں بحرانوں کا شکار ہیں۔ وفاق کے اعلیٰ تعلیم کے سب سے بڑے ادارے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرپرسن کا تقرر وزیراعظم خود کرتے ہیں۔ صدر اور وزیراعظم کی جانب سے ایچ ای سی فیصلے کرتا ہے۔
میاں نواز شریف کی کابینہ اب تک مستقل وزیر خارجہ سے محروم ہے۔ وزارت خارجہ کی نگرانی کا فریضہ دو سینئر بیوروکریٹس کے سپرد ہے۔ گزشتہ 3 برسوں سے یہ خبریں شایع ہورہی ہیں کہ دونوں مشیروں میں ہم آہنگی نہ ہونے کی بنا پر وزارت خارجہ کا کام متاثر ہورہا ہے۔ پاکستان میں فوج نے 30 سال سے زائد عرصے تک حکمرانی کی ہے اور سول، ملٹری بیوروکریسی کا جمہوری حکومتوں میں ایک کردار رہا ہے۔
1988ء کے انتخابات کے بعد جب پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو نے حکومت قائم کی تو انھوں نے بابائے بیوروکریسی غلام اسحاق خان اورفوج کے سربراہ جنرل اسلم بیگ سے معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کے تحت غلام اسحاق خان کو صدر مقرر کرکے خارجہ اور خزانہ کی وزارتیں بیوروکریٹس کے سپرد کردی گئیں۔ اس کے بعد آصف علی زرداری کا کردار ابھر کر سامنے آیا۔ پنجاب میں میاں نواز شریف نے حکومت بنائی جو وفاقی حکومت سے لڑنے پر آمادہ رہے۔ اس بنا پر بے نظیر حکومت کمزور ثابت ہوئی۔ دوسری حکومت میں پیپلزپارٹی اپنے پارٹی رہنما فاروق لغاری کو صدر بنانے میں کامیاب ہوئی مگر صدر لغاری سے جھگڑے اور آصف علی زرداری کے کرپشن قصے کی بنا پر حکومت کمزور ثابت ہوئی اور مرتضیٰ بھٹو کے قتل پر رخصت ہوگئی۔
جب میاں نواز شریف پہلے وزیراعظم بنے تو انھوں نے غلام اسحاق خان کی بالادستی کو قبول نہیں کیا۔ اس بنا پر بیوروکریسی تقسیم ہوگئی، مگر پنجاب کی بیوروکریسی نے میاں صاحب کا ساتھ دیا۔ میاں صاحب نے کچھ منصوبے شروع کیے اورکچھ ادھورے رہ گئے۔ میاں نواز شریف نے دوسری حکومت میں فاروق لغاری اور چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو رخصت کیا۔
پیپلزپارٹی کی حمایت سے آرٹیکل میں کی گئی ترمیم 58(2)B کو ختم کیا گیا۔ اس طرح صدرکا اسمبلی توڑنے کا اختیار ختم ہوا۔ اگرچہ میاں صاحب کے لیے کوئی بڑا چیلنج نہیں تھا اور سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل جہانگیر کرامت کے مستعفیٰ ہونے سے ان کی حکومت مضبوط ہوگئی مگر اپنے مشیروں کے غلط فیصلے کی بنا پر ایک جونیئر افسر لیفٹیننٹ جنرل پرویز مشرف کو چیف آف آرمی اسٹاف بنایا، جنھوں نے میاں صاحب کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ میاں نواز شریف کی حکومت اس وقت حق پر تھی ۔ اس کی خارجہ پالیسی کے نتیجے میں خطے میں استحکام ہوا تھا اور پاکستان کا امیج بہتر ہوا مگر ان کی پالیسیاں غریب عوام کے حق میں نہیں تھیں۔
2007ء میں پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹوکی شہادت کے بعد نہ صرف سیاسی قوتیں کمزور ہوئیں بلکہ پیپلز پارٹی کو اس کا زبردست نقصان پہنچا۔ 2008ء میں جب پیپلز پارٹی پھر سے برسر اقتدار آئی تو یوسف رضا گیلانی وزیراعظم بنے، پرویز مشرف اس وقت صدر تھے۔ پھر پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت بنی، اگرچہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن اور عوامی نیشنل پارٹی وغیرہ اتحادی تھے مگر بیوروکریسی بااختیار صدر پرویز مشرف سے توانائی حاصل کرتی تھی۔ پرویز مشرف رخصت ہوئے اور آصف علی زرداری صدر مملکت بن گئے تو بظاہر اقتدارکا سرچشمہ آصف زرداری تھے مگر بیوروکریسی جی ایچ کیو کی طرف دیکھتی تھی۔
یہی وجہ تھی کہ میاں نواز شریف نے لاہور سے جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کے لیے لانگ مارچ شروع کیا تو پولیس اور بیوروکریسی ان کے ساتھ تھی۔ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں صدر آصف زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے درمیان افسران چکر لگاتے رہے۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ازخود نوٹسوں نے زرداری کے قریب آنے والی بیوروکریسی کو خوفزدہ رکھا۔ پنجاب میں بیوروکریسی ن لیگ کے ساتھ رہی، یوں ایک کمزور حکومت کا تصور عام ہوا۔ بلوچستان میں صورتحال زیادہ خراب ہوئی، یوں زرداری نے ایک کمزور حکومت کے ذریعے اپنی آئینی میعاد پوری کی۔ اس بات کی توقع تھی کہ میاں نواز شریف ایک مستحکم حکومت کا ماڈل قائم کریں گے۔
ان کے ساتھ 1980ء سے اب تک کے تجربات کا پس منظر تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ان کی حکومت کی کمزوریاں عیاں ہوگئیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اس حکومت کو کمزور کرنے والے عناصر کا تعلق حکومت کی اندرونی ساخت سے ہے۔ اگرچہ صدر کا عہدہ رسمی ہے مگر آئین کے تحت وہ صدر کو وفاقی حکومت کو مشورہ دینے کا حق رکھتے ہیں ۔
آئین کے تحت کابینہ کے اجلاس کی کارروائی کی روداد صدر کے ملاحظہ کے لیے پیش کرنا ضروری ہے۔ صدر صاحب نے 2015ء میں کراچی کے گیسٹ ہاؤس میں صحافیوں سے ظہرانہ پر ملاقات میں تسلیم کیا تھا کہ کابینہ کی کارروائی کی روداد سے انھیں آگاہ نہیں کیا گیا ہے، مگر اب انھیں اس جانب توجہ دینی چاہیے۔ صدر پارلیمانی سال کے آغاز پر اپنی تقریر میں اپنے تجزیہ اور مشاہدہ کو بیان کرسکتے ہیں۔ صدر صاحب نے اپنی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کر کے اپنی آزادانہ حیثیت قائم کی ہے۔ وہ اپنی حکومت کا محاسبہ کرکے حکومت کی کارکردگی کو بہتر بناسکتے ہیں اور غیرجمہوری عناصر کے عزائم کو ناکام بناسکتے ہیں۔
وزیراعظم نواز شریف کی حکومت اور ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی حکومت میں مماثلت نظرآتی ہے۔ وزیراعظم لیاقت علی خان یوں تو مرد آہن تھے، انھیں عوام کی حمایت حاصل تھی مگرکابینہ میں سینئر بیوروکریٹ اور وزیرخزانہ غلام محمد ایک مضبوط گروپ کی نمایندگی کرتے تھے۔ بیوروکریسی کے ایک اور مضبوط ستون چوہدری محمدعلی، غلام محمد کی پشت پر تھے۔ چوہدری محمد علی اور غلام محمد مشرقی پاکستان کی اکثریت کو کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں تھے۔
چوہدری محمدعلی کی ہدایت پر پہلے گورنرجنرل محمدعلی جناح کی 11 اگست 1948ء کی آئین ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس کی پالیسی تقریرکو نشر نہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ وزیر تعلیم فضل الرحمن مشرقی پاکستان کی نمایندگی کرتے تھے، ان گروپوں کی کشمکش کی بنا پر ملک کی پہلی کابینہ آئین بنانے اور بنیادی پالیسیاں بنانے میں ناکام رہی۔ لیاقت علی خان سوویت یونین کی حکومت کی دعوت پر ماسکو نہیں گئے اور امریکا کے دورے پر چلے گئے تھے۔ یہ کابینہ ملک کا آئین بنانے میں ناکام رہی تھی۔ وزیراعظم نواز شریف کی کابینہ میں مختلف گروپ نظر آتے ہیں۔
وزیردفاع خواجہ آصف ایک گروپ کی نمایندگی کرتے ہیں تو وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان ایک اور گروپ کے سربراہ ہیں۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف وفاق کے معاملات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کا بھی وفاق اور پنجاب کے معاملات میں ایک اہم کردار ہے۔ نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز بھی ایک اہم حیثیت اختیار کرچکی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم ان سے اہم معاملات میں مشورہ کرتے ہیں۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار واحد متفقہ وزیر ہیں۔ اس صورتحال میں بیوروکریٹس نے مختلف اہم شخصیتوں کی سرپرستی حاصل کی ہوئی ہے۔
سپریم کورٹ نے گزشتہ سال یہ معرکۃ الآراء فیصلہ دیا تھا کہ کابینہ کی منظوری کے بغیر مالیاتی قوانین کا اطلاق غیر قانونی ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ کابینہ کے اجلاس نہ ہونے اور اہم فیصلے کابینہ میں نہ ہونے کے تناظر میں تھا۔ یہ خبریں اخبارات میں شایع ہوئی تھیں کہ وزیراعظم اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں مگر یہ ارادہ ملتوی کردیا گیا۔ پھر ایوان صدر کا بھی عجب حال ہے۔ ایوان صدر کی نگرانی میں وفاقی یونیورسٹیاں کام کررہی ہیں۔ بیشتر یونیورسٹیاں بحرانوں کا شکار ہیں۔ وفاق کے اعلیٰ تعلیم کے سب سے بڑے ادارے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرپرسن کا تقرر وزیراعظم خود کرتے ہیں۔ صدر اور وزیراعظم کی جانب سے ایچ ای سی فیصلے کرتا ہے۔
میاں نواز شریف کی کابینہ اب تک مستقل وزیر خارجہ سے محروم ہے۔ وزارت خارجہ کی نگرانی کا فریضہ دو سینئر بیوروکریٹس کے سپرد ہے۔ گزشتہ 3 برسوں سے یہ خبریں شایع ہورہی ہیں کہ دونوں مشیروں میں ہم آہنگی نہ ہونے کی بنا پر وزارت خارجہ کا کام متاثر ہورہا ہے۔ پاکستان میں فوج نے 30 سال سے زائد عرصے تک حکمرانی کی ہے اور سول، ملٹری بیوروکریسی کا جمہوری حکومتوں میں ایک کردار رہا ہے۔
1988ء کے انتخابات کے بعد جب پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو نے حکومت قائم کی تو انھوں نے بابائے بیوروکریسی غلام اسحاق خان اورفوج کے سربراہ جنرل اسلم بیگ سے معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کے تحت غلام اسحاق خان کو صدر مقرر کرکے خارجہ اور خزانہ کی وزارتیں بیوروکریٹس کے سپرد کردی گئیں۔ اس کے بعد آصف علی زرداری کا کردار ابھر کر سامنے آیا۔ پنجاب میں میاں نواز شریف نے حکومت بنائی جو وفاقی حکومت سے لڑنے پر آمادہ رہے۔ اس بنا پر بے نظیر حکومت کمزور ثابت ہوئی۔ دوسری حکومت میں پیپلزپارٹی اپنے پارٹی رہنما فاروق لغاری کو صدر بنانے میں کامیاب ہوئی مگر صدر لغاری سے جھگڑے اور آصف علی زرداری کے کرپشن قصے کی بنا پر حکومت کمزور ثابت ہوئی اور مرتضیٰ بھٹو کے قتل پر رخصت ہوگئی۔
جب میاں نواز شریف پہلے وزیراعظم بنے تو انھوں نے غلام اسحاق خان کی بالادستی کو قبول نہیں کیا۔ اس بنا پر بیوروکریسی تقسیم ہوگئی، مگر پنجاب کی بیوروکریسی نے میاں صاحب کا ساتھ دیا۔ میاں صاحب نے کچھ منصوبے شروع کیے اورکچھ ادھورے رہ گئے۔ میاں نواز شریف نے دوسری حکومت میں فاروق لغاری اور چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو رخصت کیا۔
پیپلزپارٹی کی حمایت سے آرٹیکل میں کی گئی ترمیم 58(2)B کو ختم کیا گیا۔ اس طرح صدرکا اسمبلی توڑنے کا اختیار ختم ہوا۔ اگرچہ میاں صاحب کے لیے کوئی بڑا چیلنج نہیں تھا اور سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل جہانگیر کرامت کے مستعفیٰ ہونے سے ان کی حکومت مضبوط ہوگئی مگر اپنے مشیروں کے غلط فیصلے کی بنا پر ایک جونیئر افسر لیفٹیننٹ جنرل پرویز مشرف کو چیف آف آرمی اسٹاف بنایا، جنھوں نے میاں صاحب کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ میاں نواز شریف کی حکومت اس وقت حق پر تھی ۔ اس کی خارجہ پالیسی کے نتیجے میں خطے میں استحکام ہوا تھا اور پاکستان کا امیج بہتر ہوا مگر ان کی پالیسیاں غریب عوام کے حق میں نہیں تھیں۔
2007ء میں پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹوکی شہادت کے بعد نہ صرف سیاسی قوتیں کمزور ہوئیں بلکہ پیپلز پارٹی کو اس کا زبردست نقصان پہنچا۔ 2008ء میں جب پیپلز پارٹی پھر سے برسر اقتدار آئی تو یوسف رضا گیلانی وزیراعظم بنے، پرویز مشرف اس وقت صدر تھے۔ پھر پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت بنی، اگرچہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن اور عوامی نیشنل پارٹی وغیرہ اتحادی تھے مگر بیوروکریسی بااختیار صدر پرویز مشرف سے توانائی حاصل کرتی تھی۔ پرویز مشرف رخصت ہوئے اور آصف علی زرداری صدر مملکت بن گئے تو بظاہر اقتدارکا سرچشمہ آصف زرداری تھے مگر بیوروکریسی جی ایچ کیو کی طرف دیکھتی تھی۔
یہی وجہ تھی کہ میاں نواز شریف نے لاہور سے جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کے لیے لانگ مارچ شروع کیا تو پولیس اور بیوروکریسی ان کے ساتھ تھی۔ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں صدر آصف زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے درمیان افسران چکر لگاتے رہے۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ازخود نوٹسوں نے زرداری کے قریب آنے والی بیوروکریسی کو خوفزدہ رکھا۔ پنجاب میں بیوروکریسی ن لیگ کے ساتھ رہی، یوں ایک کمزور حکومت کا تصور عام ہوا۔ بلوچستان میں صورتحال زیادہ خراب ہوئی، یوں زرداری نے ایک کمزور حکومت کے ذریعے اپنی آئینی میعاد پوری کی۔ اس بات کی توقع تھی کہ میاں نواز شریف ایک مستحکم حکومت کا ماڈل قائم کریں گے۔
ان کے ساتھ 1980ء سے اب تک کے تجربات کا پس منظر تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ان کی حکومت کی کمزوریاں عیاں ہوگئیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اس حکومت کو کمزور کرنے والے عناصر کا تعلق حکومت کی اندرونی ساخت سے ہے۔ اگرچہ صدر کا عہدہ رسمی ہے مگر آئین کے تحت وہ صدر کو وفاقی حکومت کو مشورہ دینے کا حق رکھتے ہیں ۔
آئین کے تحت کابینہ کے اجلاس کی کارروائی کی روداد صدر کے ملاحظہ کے لیے پیش کرنا ضروری ہے۔ صدر صاحب نے 2015ء میں کراچی کے گیسٹ ہاؤس میں صحافیوں سے ظہرانہ پر ملاقات میں تسلیم کیا تھا کہ کابینہ کی کارروائی کی روداد سے انھیں آگاہ نہیں کیا گیا ہے، مگر اب انھیں اس جانب توجہ دینی چاہیے۔ صدر پارلیمانی سال کے آغاز پر اپنی تقریر میں اپنے تجزیہ اور مشاہدہ کو بیان کرسکتے ہیں۔ صدر صاحب نے اپنی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کر کے اپنی آزادانہ حیثیت قائم کی ہے۔ وہ اپنی حکومت کا محاسبہ کرکے حکومت کی کارکردگی کو بہتر بناسکتے ہیں اور غیرجمہوری عناصر کے عزائم کو ناکام بناسکتے ہیں۔