آئی پی پیز نے حکومت کو 48 ارب کی ادائیگی کیلیے 10 دن کا نوٹس دیدیا

پاکستان میں اس سے قبل بھی آئی پی پیز کی جانب سے ساورن گارنٹی طلب کی جاچکی ہے۔

اب مقررہ مدت میں واجبات نہ دینے پر کمپنیاں گارنٹی کیش کرانے کی مجاز ہوں گی،ذرائع۔ فوٹو: فائل

پاکستان میں بجلی پیدا کرنے والے 13آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) نے وفاقی حکومت کو 48ارب روپے کے واجبات کی ادائیگی کے لیے ساورن گارنٹی طلب کرلی ہے۔

پاور سیکٹر کے ذرائع کے مطابق آئی پی پیز کی جانب سے حکومت پاکستان کو ساورن گارنٹی پوری کرنے کے لیے حتمی نوٹس ارسال کردیا ہے بین الاقوامی قوانین کے مطابق اس نوٹس کے دیے جانے کے بعد حکومت پاکستان جس نے سرمایہ کاری کے وقت ساورن گارنٹی فراہم کی تھی اپنی گارنٹی پوری کرتے ہوئے 10روز کے اندر ادائیگی کی پابند ہوگی، اس سے قبل آئی پی پیز کی جانب سے این ٹی ڈی سی اور حکومت پاکستان کو عبوری نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا تاہم نوٹس کی 30روز کی مدت پوری ہونے کے باوجود حکومت کی جانب سے ادائیگیاں نہیں کی گئیں۔

علاوہ ازیں جن آئی پی پیز کی جانب سے حتمی نوٹس جاری کیے گئے ہیں ان میں 1994کی پاور پالیسی کے تحت لگنے والے پاور پلانٹس لال پیر، پاک جن پاور، کوہ نور انرجی جبکہ 2002کی پاور پالیسی کے تحت لگنے والے لبرٹی پاور، نشاط پاور، اٹک جن لمیٹڈ، اٹلس پاور، نشاط چنیاں پاور، حبکو نارووال، سفائر الیکٹرک، اورینٹ پاور اور ہالمور پاور جی سی ایل شامل ہیں۔


وفاقی حکومت ایک جانب نئے سرمایہ کاروں کو پاور سیکٹر میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کررہی ہے تو دوسری جانب پہلے سے سرمایہ لگاکر بجلی فراہم کرنے والے سرمایہ کاروں کو اپنے واجبات کی وصولی میں سخت مشکلات کا سامنا ہے جو حکومت صارفین سے وصول کرچکی ہے۔

پاکستان میں اس سے قبل بھی آئی پی پیز کی جانب سے ساورن گارنٹی طلب کی جاچکی ہے، حکومت نے فائنل نوٹس کی 10روزہ مدت میں ادائیگیاں نہ کیں تو آئی پی پیز پاور پرچیز ایگری منٹ کے مطابق ساورن گارنٹی کیش کرانے کی مجاز ہوں گی جس سے دنیا میں پاکستان کی ساکھ متاثر ہونے کے ساتھ پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ پر بھی منفی اثر پڑے گا اور نئے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی ہو گی۔

واضح رہے کہ ملک میں بجلی پیدا کرنے والے 57 آئی پی پیز کے مجموعی واجبات کی مالیت 15فروری تک 439 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔
Load Next Story