فوجی عدالتوں کا ایشو اور حالات کا تقاضا

دہشت گردی کا خاتمہ کیے بغیر ملک میں امن قائم نہیں ہو سکتا

فوٹو : فائل

ISLAMABAD:
فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے حوالے سے سیاسی جماعتوں میں اختلاف رائے نظر آرہا ہے' ایک جانب حکومت یہ دعویٰ کرتی چلی آ رہی ہے کہ پارلیمانی جماعتیں فوجی عدالتوں کو 2سال توسیع دینے پر رضامند ہو چکی ہیں اور حالات کی نزاکت کو تسلیم کرتے ہوئے تمام جماعتوں کے شکوے شکایات اور تحفظات کے باوجود فوجی عدالتوں کی توسیع کے حوالے سے جلد ہی کسی مثبت نتیجے پر پہنچ جائیں گے لیکن ہفتے کو زرداری ہاؤس اسلام آباد میں پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف زرداری کی زیرصدارت ہونے والی کثیرالجماعتی کانفرنس میں پیپلز پارٹی نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے حوالے سے مخالفت کرتے ہوئے یہ موقف اپنایا کہ اگر عدالتوں کی بحالی ضروری ہوئی تو اس کے لیے وہ اپنا بل لے کر آئے گی۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ کانفرنس میں 13سیاسی جماعتوں نے شرکت کی' اس موقع پر فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع' فاٹا اصلاحات اور نیشنل ایکشن پلان سمیت تین نکاتی ایجنڈا زیرغور لایا گیا' پیپلز پارٹی فوجی عدالتوں کی مخالف ہے' حکومت فوجی عدالتوں کے متبادل اصلاحات کے نفاذ میں بھی ناکام رہی ہے۔

گزشتہ ماہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے معاملے پر پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس ہوا تھا جس میں پیپلز پارٹی شریک نہیں ہوئی تھی۔ اس اجلاس کے بعد وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ یہ فوجی عدالتوں میں توسیع کے حوالے سے 8واں اجلاس تھا جس میں سب کا متفقہ فیصلہ ہے کہ فوجی عدالتوں کی مدت میں دو سال کی توسیع ہونی چاہیے جس کے لیے ایک نگران پارلیمانی کمیٹی بھی بنائی جائے گی۔

اس موقع پر تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے اپنا نقطہ نظر واضح کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ آج غیر معمولی حالات میں ساری سیاسی جماعتیں متفق ہیں کہ فوجی عدالتوں میں توسیع کی جائے تاہم سوال یہ ہے کہ پچھلی مرتبہ کی قباحتوں کو کیسے دور کیا جائے' دنیا میں موثر لیگل سسٹم کے ذریعے دہشت گردی کا مقابلہ کیا جا رہا ہے' ان دو سال کے بعد جتنے کیسز ہوں گے یہ واپس نارمل انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں منتقل کیے جائیں گے' فوجی عدالتوں کا قیام 7جنوری 2017ء سے متصور ہو گا۔


عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے بھی کہا تھا کہ فوجی عدالتوں کے معاملے پر حکومت کے ساتھ ہیں۔ پارلیمانی رہنماؤں کے اس اجلاس کے موقع پر اسحاق ڈار نے یہ امید ظاہر کی تھی کہ پیپلز پارٹی 4مارچ کو ہونے والی اے پی سی میں حکومت کا ساتھ دے گی مگر پیپلز پارٹی نے واضح طور پر اعلان کر دیا ہے کہ وہ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی مخالفت کرے گی، اس طرح اس معاملے میں حکومت اور پیپلز پارٹی کی راہیں جدا جدا ہو گئی ہیں جس سے فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے متفقہ فیصلے کا معاملہ معلق ہونے کا خدشہ ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس سلسلے میں کیا پیش رفت کرتی ہے تاکہ پیپلز پارٹی کو بھی راضی کیا جائے۔نظر یہی آتا ہے کہ پیپلز پارٹی بھی فوجی عدالتوں کے معاملے پر راضی ہوجائے گی لیکن اس میں تاخیر کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو اس امر کا بخوبی ادراک ہے کہ ملک اس وقت نازک حالات سے گزر رہا ہے اور اپنی نوعیت کے حوالے سے یہ غیرمعمولی اقدامات کے متقاضی ہیں۔

دہشت گردی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ملکی سلامتی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کا نفاذ اسی میں ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو کر جدوجہد کریں۔ حیرت انگیز امر ہے کہ تمام جماعتیں اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہیں کہ دہشت گردی کا خاتمہ کیے بغیر ملک میں امن قائم نہیں ہو سکتا لیکن جب اس حوالے سے عمل کی بات آتی ہے تو وہ اگر مگر چونکہ چنانچہ کی گردان سے تاخیری حربے استعمال کرتے ہوئے معاملات کو کسی منطقی انجام تک پہنچانے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔

فوجی عدالتوں نے اپنے دو سالہ قیام کے دوران متعدد دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا۔اب فوجی عدالتوں کی توسیع کے حوالے سے ہونے والی تاخیر سے دہشت گردوں کو تقویت مل رہی ہے۔ پاکستان کے داخلی اور خارجی انتشار کے خاتمے کے لیے ناگزیر ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مفادات اور تعصبات بالائے طاق رکھتے ہوئے متفقہ ایجنڈا اختیار کریں' دہشت گردی کے حوالے سے جنم لینے والے ان کے اختلافات امن و امان کے قیام کی راہ میں اصل رکاوٹ ہیں' لسانیت یا قومیت کے نعروں کا مقصد اگر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کو سبوتاژ کرنا ہو تو یہ طرز عمل انتہائی خطرناک ہے جس کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔

 
Load Next Story