پابندی کے باوجود 5 سال پرانی کاروں کی درآمد جاری
کلیئرنس کی حتمی تاریخ گزرنے کے باوجودامپورٹرزکسٹم حکام سے مل کر5سال پرانی گاڑیاں ملک میں لارہے ہیں،26دسمبر۔۔۔، ذرائع
ای سی سی نے 22 نومبر کو اپنے فیصلے میں 5 سال پرانی استعمال شدہ کاروں کی کلیئرنس کی حتمی تاریخ 15 دسمبر 2012 مقرر کی تھی۔ فوٹو: فائل
حکومت کی طرف سے 5سال پرانی کاروں کی درآمد کی حتمی تاریخ 15 دسمبر ختم ہونے کے باجود بندر گاہ سے کسٹم حکام اب بھی 5 سال پرانی کاروں کی کلیئرنس کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کسٹم حکام کی نرمی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے 22 نومبر کے فیصلے کی سراسر خلاف ورزی ہے، امپورٹرز بعض کسٹم حکام کی ملی بھگت سے پالیسیوں سے انحراف کر کے ملک میں 5 سال پرانی گاڑیوں کو لانے میں کامیاب ہو رہے ہیں، حکومت کی طرف سے صرف 3 سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت ہے تاہم اس کی آڑ میں 5 سال تک پرانی گاڑیوں کی درآمد بھی کی جارہی ہے۔ ای سی سی نے 22 نومبر کو اپنے فیصلے میں 5 سال پرانی استعمال شدہ کاروں کی کلیئرنس کی حتمی تاریخ 15 دسمبر 2012 مقرر کی تھی۔
تاکہ پہلے سے بکنگ کی حامل درآمدی کاروں کو کلیئر کردیا جائے تاہم اب بھی 3 سال سے زائد پرانی گاڑیوں جن میں ٹویوٹا، ڈائی ہاتسو اور سوزوکی کی گاڑیاں شامل ہیں کسٹم حکام کی طرف سے کلیئر کی جارہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس کی ایک مثال 27 دسمبر کا آئی جی ایم نمبر 725 ہے جس میں ویسل نام اے پی ایل گوانگ ژو بل آف لیڈنگ بتاریخ 26 دسمبر اس بات کا مظہر ہے کہ درآمدی سیکڑوں ایسی گاڑیاں سال 2007، 2008 اور 2009 میں بنائی گئی تھیں۔
ان میں ٹیوٹا کی وٹز، بیلٹا، پاسو، سائنٹا، ایگزیئو، پریئس، کرولا، کرولا فیلڈر، پریمئو، ہائس، سوزوکی کی گاڑیوں میں آلٹو، سوئفٹ، ایوری، جمنی، ویگن آر، ہونڈا کی گاڑیوں میں سوک، ایئر ویو، کراس روڈ اور دیگر برانڈ کی مختلف گاڑیاں شامل ہیں، حکومت کی طرف سے 5 سال پرانی گاڑیوں کی درآمد پر پابندی کے باوجود یہ گاڑیاں ملک میں درآمد کی جارہی ہیں جو جلد ہی شہر کی سڑکوں پر دوڑتی نظر آئیں گی، یہ صورتحال حکومتی فیصلوں کے نفاذ پر ایک سوالیہ نشان ہے کیونکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یا تو کسٹم حکام حکومتی فیصلے سے آگاہ نہیں ہیں یا پھر امپورٹرز کسٹم حکام کی ملی بھگت سے پالیسی سے انحراف کرکے منافع سمیٹنے میں لگے ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کسٹم حکام کی نرمی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے 22 نومبر کے فیصلے کی سراسر خلاف ورزی ہے، امپورٹرز بعض کسٹم حکام کی ملی بھگت سے پالیسیوں سے انحراف کر کے ملک میں 5 سال پرانی گاڑیوں کو لانے میں کامیاب ہو رہے ہیں، حکومت کی طرف سے صرف 3 سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت ہے تاہم اس کی آڑ میں 5 سال تک پرانی گاڑیوں کی درآمد بھی کی جارہی ہے۔ ای سی سی نے 22 نومبر کو اپنے فیصلے میں 5 سال پرانی استعمال شدہ کاروں کی کلیئرنس کی حتمی تاریخ 15 دسمبر 2012 مقرر کی تھی۔
تاکہ پہلے سے بکنگ کی حامل درآمدی کاروں کو کلیئر کردیا جائے تاہم اب بھی 3 سال سے زائد پرانی گاڑیوں جن میں ٹویوٹا، ڈائی ہاتسو اور سوزوکی کی گاڑیاں شامل ہیں کسٹم حکام کی طرف سے کلیئر کی جارہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس کی ایک مثال 27 دسمبر کا آئی جی ایم نمبر 725 ہے جس میں ویسل نام اے پی ایل گوانگ ژو بل آف لیڈنگ بتاریخ 26 دسمبر اس بات کا مظہر ہے کہ درآمدی سیکڑوں ایسی گاڑیاں سال 2007، 2008 اور 2009 میں بنائی گئی تھیں۔
ان میں ٹیوٹا کی وٹز، بیلٹا، پاسو، سائنٹا، ایگزیئو، پریئس، کرولا، کرولا فیلڈر، پریمئو، ہائس، سوزوکی کی گاڑیوں میں آلٹو، سوئفٹ، ایوری، جمنی، ویگن آر، ہونڈا کی گاڑیوں میں سوک، ایئر ویو، کراس روڈ اور دیگر برانڈ کی مختلف گاڑیاں شامل ہیں، حکومت کی طرف سے 5 سال پرانی گاڑیوں کی درآمد پر پابندی کے باوجود یہ گاڑیاں ملک میں درآمد کی جارہی ہیں جو جلد ہی شہر کی سڑکوں پر دوڑتی نظر آئیں گی، یہ صورتحال حکومتی فیصلوں کے نفاذ پر ایک سوالیہ نشان ہے کیونکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یا تو کسٹم حکام حکومتی فیصلے سے آگاہ نہیں ہیں یا پھر امپورٹرز کسٹم حکام کی ملی بھگت سے پالیسی سے انحراف کرکے منافع سمیٹنے میں لگے ہوئے ہیں۔