پاکستانی پورٹ سیکٹر کی سستی سے بھارت کو فائدہ

گوادر بندرگاہ غیرفعال اورڈیپ سی پورٹ میں تاخیر، بھارت ہینڈلنگ گنجائش بڑھانے کیلیے سرگرم

نئی دہلی پورٹس پر 42 پراجیکٹس شروع کریگا،17کے ٹینڈر ایوارڈ، باقی پر کام جاری ہے، ذرائع فوٹو: فائل

پاکستانی پورٹ سیکٹر کی سستی کے باعث بھارت نے فائدہ اٹھانے کیلیے بندرگاہوں پر کارگو ہینڈلنگ کی گنجائش2020 تک 3200 ملین ٹن تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے جس کیلیے نئے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔

پورٹ انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق گوادر کی بندرگاہ غیرفعال ہونے اور کراچی پورٹ پر گہرے پانی کی بندرگاہ کی تعمیر میں تاخیر سے بھارتی پورٹ انڈسٹری کو فائدہ پہنچ رہا ہے، بھارت نے رواں سال پورٹ سیکٹر میں 42 پراجیکٹس کے ٹینڈر جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کے تحت پورٹ سیکٹر میں150 ارب بھارتی روپے کی سرمایہ کاری کی جائیگی۔




اس سرمایہ کاری سے بھارتی بندرگاہوں کی گنجائش میں 250ملین ٹن کا اضافہ ہو گا، بھارت نے 2016-17 تک مجموعی گنجائش2600 ملین اور 2020 تک 3200 ملین ٹن تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے، اس سال شروع ہونے والے 42 پراجیکٹس میں سے 17 پراجیکٹس کے ٹینڈر پہلے ہی ایوارڈ کیے جاچکے ہیں جبکہ باقی پراجیکٹس کیلیے ٹینڈرنگ کا عمل مارچ 2013 کے آخر تک مکمل کر لیا جائے گا۔
Load Next Story