کرکٹرز کے معاوضوں میں رواں برس بھی اضافے کا امکان
قومی سلیکٹرز سینٹرل کنٹریکٹ کیلیے ابتدائی فہرست آج بورڈ کے سپرد کریں گے۔
آئندہ چند روز میں معاوضوں سے متعلق اضافے کا فیصلہ کر لیا جائے گا۔ فوٹو : فائل
قومی کرکٹرز کے معاوضوں میں رواں برس بھی اضافے کا امکان روشن ہوگیا۔
قومی سلیکٹرز سینٹرل کنٹریکٹ کیلیے کھلاڑیوں کی ابتدائی فہرست جمعرات کو پی سی بی کے سپرد کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ برس پاکستان کرکٹ بورڈ نے تمام کیٹیگریز کی ماہانہ تنخواہوں میں25 اور میچ فیس میں 10 فیصد اضافہ کیا تھا، تین برس بعد اس انکریمنٹ کو ناکافی خیال کرتے ہوئے پلیئرز نے ناخوشی ظاہر کی، تاہم بورڈ کے آنکھیں دکھانے پر بادل نخواستہ دستخط کرنا پڑے تھے، اب بھارت کو سیریز میں شکست دینے پر کھلاڑی ہوائوں میں اڑ رہے جبکہ پی سی بی بھی ٹیم سے خوش ہے، ذرائع نے نمائندہ ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ اس برس بھی اضافے کا امکان روشن مگر ابھی فارمولہ طے نہیں کیا گیا۔
آئندہ چند روز میں اس حوالے سے فیصلہ کر لیا جائے گا، بورڈ نے چند روز قبل سلیکشن کمیٹی کو سینٹرل کنٹریکٹ کیلیے پلیئرز کی فہرست تیار کرنے کا کہا تھا، ذرائع نے بتایا کہ جمعرات کو یہ لسٹ حکام کے حوالے کر دی جائے گی، اس کے بعد ایک خصوصی کمیٹی اسے حتمی شکل دیتے ہوئے کیٹیگریز کا بھی تعین کرے گی۔ گذشتہ برس پی سی بی نے تقریباً 5 ماہ کی تاخیر سے26 مئی کو سینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان کیا تھا، اس میں کئی سنگین غلطیاں بھی کی گئیں،اسکواڈ میں موجود محمد سمیع کو شامل نہیں کیا گیا جبکہ ڈراپ شدہ وہاب ریاض کا انتخاب ہوا، اسی طرح پابندی کا شکار بسم اﷲ خان بھی ماہانہ مشاہرہ پانے والوں میں شامل ہوگئے۔
شدید تنقید کے بعد بورڈ نے کچھ عرصے بعد سمیع سمیت چند پلیئرز کو کنٹریکٹ سے نواز دیا تھا۔31 دسمبر کو ختم ہونے والا کنٹریکٹ پانے والے کھلاڑیوں میں کامران اکمل اور عبدالرزاق شامل نہیں تھے، وکٹ کیپر کو رواں برس بی کیٹیگری میں جگہ مل سکتی ہے البتہ آل رائونڈ کے ستارے بدستور گردش میں نظر آتے ہیں۔
مسلسل عمدہ کھیل پیش کرنے والے اوپنر ناصر جمشید سی سے بی کیٹیگری میں شامل ہو جائیں گے، متواتر غلطیاں دہرانے والے عمر اکمل کو اے سے بی میں بھیجا جا سکتا ہے، ون ڈے اسکواڈ سے باہر شاہد آفریدی کے بارے میں ابھی صورتحال واضح نہیں ہے، گذشتہ کنٹریکٹ میں وہ اے کیٹیگری میں شامل تھے۔
قومی سلیکٹرز سینٹرل کنٹریکٹ کیلیے کھلاڑیوں کی ابتدائی فہرست جمعرات کو پی سی بی کے سپرد کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ برس پاکستان کرکٹ بورڈ نے تمام کیٹیگریز کی ماہانہ تنخواہوں میں25 اور میچ فیس میں 10 فیصد اضافہ کیا تھا، تین برس بعد اس انکریمنٹ کو ناکافی خیال کرتے ہوئے پلیئرز نے ناخوشی ظاہر کی، تاہم بورڈ کے آنکھیں دکھانے پر بادل نخواستہ دستخط کرنا پڑے تھے، اب بھارت کو سیریز میں شکست دینے پر کھلاڑی ہوائوں میں اڑ رہے جبکہ پی سی بی بھی ٹیم سے خوش ہے، ذرائع نے نمائندہ ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ اس برس بھی اضافے کا امکان روشن مگر ابھی فارمولہ طے نہیں کیا گیا۔
آئندہ چند روز میں اس حوالے سے فیصلہ کر لیا جائے گا، بورڈ نے چند روز قبل سلیکشن کمیٹی کو سینٹرل کنٹریکٹ کیلیے پلیئرز کی فہرست تیار کرنے کا کہا تھا، ذرائع نے بتایا کہ جمعرات کو یہ لسٹ حکام کے حوالے کر دی جائے گی، اس کے بعد ایک خصوصی کمیٹی اسے حتمی شکل دیتے ہوئے کیٹیگریز کا بھی تعین کرے گی۔ گذشتہ برس پی سی بی نے تقریباً 5 ماہ کی تاخیر سے26 مئی کو سینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان کیا تھا، اس میں کئی سنگین غلطیاں بھی کی گئیں،اسکواڈ میں موجود محمد سمیع کو شامل نہیں کیا گیا جبکہ ڈراپ شدہ وہاب ریاض کا انتخاب ہوا، اسی طرح پابندی کا شکار بسم اﷲ خان بھی ماہانہ مشاہرہ پانے والوں میں شامل ہوگئے۔
شدید تنقید کے بعد بورڈ نے کچھ عرصے بعد سمیع سمیت چند پلیئرز کو کنٹریکٹ سے نواز دیا تھا۔31 دسمبر کو ختم ہونے والا کنٹریکٹ پانے والے کھلاڑیوں میں کامران اکمل اور عبدالرزاق شامل نہیں تھے، وکٹ کیپر کو رواں برس بی کیٹیگری میں جگہ مل سکتی ہے البتہ آل رائونڈ کے ستارے بدستور گردش میں نظر آتے ہیں۔
مسلسل عمدہ کھیل پیش کرنے والے اوپنر ناصر جمشید سی سے بی کیٹیگری میں شامل ہو جائیں گے، متواتر غلطیاں دہرانے والے عمر اکمل کو اے سے بی میں بھیجا جا سکتا ہے، ون ڈے اسکواڈ سے باہر شاہد آفریدی کے بارے میں ابھی صورتحال واضح نہیں ہے، گذشتہ کنٹریکٹ میں وہ اے کیٹیگری میں شامل تھے۔