نائب صدر بنتے ہی مصطفی کمال نے آنکھیں پھیر لیں

کبھی ٹیم کو پاکستان بھیجنے کی غیرمشروط یقین دہانی نہیں کرائی، سابق بنگلہ آفیشل

ہمیشہ ٹور کو آئی سی سی کی رضا مندی سے مشروط رکھا، مصطفیٰ کمال فوٹو: اے ایف پی/فائل

آئی سی سی کا نائب صدر بنتے ہی بنگلہ دیشی مصطفیٰ کمال نے آنکھیں پھیر لیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کبھی ٹیم کو غیرمشروط طور پر پاکستان بھیجنے کی یقین دہانی نہیں کرائی، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی کسی دستاویز میں ایسی کوئی بات درج نہیں، ہمیشہ ٹور کو آئی سی سی کی رضا مندی سے مشروط رکھا۔ تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سابق صدر مصطفیٰ کمال نے پاکستان کو اپنی ٹیم ٹور پر بھیجنے کے سبز باغ دکھا کر آئی سی سی کی نائب صدارت پکی کی تھی۔

مگر جب انھوں نے ہائی لیول پوسٹ سنبھال لی تو سب قول اب بھولنے لگے ہیں۔ انھوں نے بی سی بی کے نئے صدر نظم الحسن کی اس بات کی تردید کی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ مصطفیٰ کمال نے آئی سی سی کو پاکستان ٹیم بھیجنے کی تحریری یقین دہانی کرائی ہے جس پر ہمیں عملدرآمد کرنا ہوگا۔




مصطفیٰ کمال نے کہا کہ غیرمشروط یقین دہانی والی بات آئی سی سی کی کسی میٹنگ دستاویز میں شامل نہیں ہے، جب سے میں بورڈ کا صدر بنا میں نے باقاعدگی سے آئی سی سی کی میٹنگز میںشرکت کی، کبھی یہ چیز تحریری طور پر درج نہیں کی گئی، میں اس دعوے کو مسترد کرتا ہوں، میں نے ہر بار یہی کہا کہ اگر بنگلہ دیشی ٹیم پاکستان کا دورہ کریگی تو آئی سی سی کو بھی کسی نہ کسی حیثیت میں اس میں شریک رہنا ہوگا۔

وہ اپنے آفیشلز بھیجنے کیلیے سیکیورٹی ماہرین سے حالات کا تجزیہ کرائے گی، یہ بات درست ہے کہ کونسل چاہتی ہے کہ بنگلہ دیش پاکستان جائے مگر یہ باتیں اس کی دستاویزات کا حصہ نہیں ہیں۔ مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ میں ٹیم پاکستان بھیجنے کے آئیڈیے سے الگ نہیں ہورہا، بنگال ٹائیگرز کو وہاں جانا چاہیے، میں نے ہی اس کی حامی بھری تھی اور اس سے پیچھے نہیں ہٹ رہا۔
Load Next Story