کے ای ایس سی کے اثاثوں کی فروخت پر حکم امتناع میں توسیع
وکیل کے ای ایس سی،سوئی سدرن گیس کی درخواست پر جاری حکم امتناع میں توسیع کردی گئی
بدھ کو سماعت کے موقع پرکے ای ایس سی کی جانب سے حسیب جمالی ایڈوکیٹ نے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی۔ فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عرفان سعادت خان کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے کے ای ایس سی کے اثاثوں کی فروخت اور منتقلی پرحکم امتناع میں 17جنوری تک توسیع کردی ہے۔
بدھ کو سماعت کے موقع پرکے ای ایس سی کی جانب سے حسیب جمالی ایڈوکیٹ نے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی، قبل ازیں کے ای ایس سی نے سندھ ہائیکورٹ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ عدالت کی اجازت کے بغیر کے ای ایس سی اپنے اثاثوں کو فروخت یا منتقل نہیں کرے گی،کے ای ایس سی نے دائر درخواست میں موقف اختیارکیا تھا کہ ہائی کورٹ نے 3 دسمبر کو کے ای ایس سی کو اثاثے فروخت یا منتقل کرنے سے روک دیا ہے۔
اس حکم سے ادارہ مفلوج ہوگیا ہے اورکام متاثر ہورہا ہے،سوئی سدرن گیس کمپنی کے ای ایس سی کو معاہدے کے تحت 276 ملین مکعب فٹ گیس یومیہ فراہم کرنے کی پابند ہے مگر گیس مسلسل فراہم نہیں کی جاتی، کے ای ایس سی کے مختلف اداروں پر بھاری رقوم واجب الادا ہیں جن میں سے ایک ادارے واٹر بورڈ پر19ارب روپے واجب الادا ہیں جس کے باعث سوئی سدرن کو رقم کی ادائیگی نہیں ہوپارہی ہے،سوئی سدرن گیس کمپنی نے کے ای ایس سی کے اثاثوں کی نشاندہی نہیں کی اور نہ ہی اکائونٹس کی تفصیل بتائی ہے، لہٰذا سنگل بینچ کا حکم معطل کیا جائے۔
دریں اثناسندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عرفان سعادت خان کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے محکمہ خصوصی تعلیم میں غیرقانونی اور سیاسی بنیادوں پرتقرریوںکے خلاف دائر درخواست پر مدعا علیہان کو 24 جنوری کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیے ہیں۔
سجاد حسین اور 47 درخواست گزاروں نے سیکریٹری خصوصی تعلیم،اکائونٹنٹ جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل سندھ کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ محکمہ خصوصی تعلیم میں اساتذہ اور دیگرعہدوں پر تقرری کیلیے درخواست گزاروں نے تحریری امتحان میں کامیابی حاصل کی مگر مدعاعلیہان نے میرٹ پر فیصلہ کرنے کے بجائے سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں شروع کردیںاور من پسند و بااثر افراد کو سفارش پر تقرریاں دے دی گئیں،لہذا محکمہ خصوصی تعلیم میں ہونے والی تقرریوں کی تحقیقات کرائی جائے اور غیر قانونی تقرریوں کو کالعدم قراردیا جائے، عدالت نے سماعت کے بعد مدعا علیہان کو نوٹس جاری کردیے۔
بدھ کو سماعت کے موقع پرکے ای ایس سی کی جانب سے حسیب جمالی ایڈوکیٹ نے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی، قبل ازیں کے ای ایس سی نے سندھ ہائیکورٹ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ عدالت کی اجازت کے بغیر کے ای ایس سی اپنے اثاثوں کو فروخت یا منتقل نہیں کرے گی،کے ای ایس سی نے دائر درخواست میں موقف اختیارکیا تھا کہ ہائی کورٹ نے 3 دسمبر کو کے ای ایس سی کو اثاثے فروخت یا منتقل کرنے سے روک دیا ہے۔
اس حکم سے ادارہ مفلوج ہوگیا ہے اورکام متاثر ہورہا ہے،سوئی سدرن گیس کمپنی کے ای ایس سی کو معاہدے کے تحت 276 ملین مکعب فٹ گیس یومیہ فراہم کرنے کی پابند ہے مگر گیس مسلسل فراہم نہیں کی جاتی، کے ای ایس سی کے مختلف اداروں پر بھاری رقوم واجب الادا ہیں جن میں سے ایک ادارے واٹر بورڈ پر19ارب روپے واجب الادا ہیں جس کے باعث سوئی سدرن کو رقم کی ادائیگی نہیں ہوپارہی ہے،سوئی سدرن گیس کمپنی نے کے ای ایس سی کے اثاثوں کی نشاندہی نہیں کی اور نہ ہی اکائونٹس کی تفصیل بتائی ہے، لہٰذا سنگل بینچ کا حکم معطل کیا جائے۔
دریں اثناسندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عرفان سعادت خان کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے محکمہ خصوصی تعلیم میں غیرقانونی اور سیاسی بنیادوں پرتقرریوںکے خلاف دائر درخواست پر مدعا علیہان کو 24 جنوری کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیے ہیں۔
سجاد حسین اور 47 درخواست گزاروں نے سیکریٹری خصوصی تعلیم،اکائونٹنٹ جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل سندھ کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ محکمہ خصوصی تعلیم میں اساتذہ اور دیگرعہدوں پر تقرری کیلیے درخواست گزاروں نے تحریری امتحان میں کامیابی حاصل کی مگر مدعاعلیہان نے میرٹ پر فیصلہ کرنے کے بجائے سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں شروع کردیںاور من پسند و بااثر افراد کو سفارش پر تقرریاں دے دی گئیں،لہذا محکمہ خصوصی تعلیم میں ہونے والی تقرریوں کی تحقیقات کرائی جائے اور غیر قانونی تقرریوں کو کالعدم قراردیا جائے، عدالت نے سماعت کے بعد مدعا علیہان کو نوٹس جاری کردیے۔