اربوں کے تیل کی چوری قائمہ کمیٹی کا اجلاس پی ایس او اوپار کو کے ایم ڈیز کے وارنٹ جاری
دونوںعہدیداروں کوتھانے بندکرنیکاحکم،جمہوریت خود کو ذبح کررہی ہے یہی وجہ ہے لوگ لانگ مارچ کررہے ہیں، چیئرمین.
قائمہ کمیٹی تجارت کاتجارتی تنظیموں کے بل کاجائزہ لینے کیلیے پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹیزبرائے کامرس کا اجلاس 23 جنوری کو بلانیکا فیصلہ. فوٹو: اے پی پی/ فائل
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم وقدرتی وسائل کی ذیلی کمیٹی نے مینجنگ ڈائریکٹر پاکستان اسٹیٹ آئل نعیم یحییٰ میراورمینجنگ ڈائریکٹرپارکوکے متعددبار طلب کرنے کے باوجوداجلاس میںنہ آنے پروارنٹ جاری کردیے ہیںاورپولیس کودونوںافسران کو گرفتارکرکے کمیٹی کے اجلاس میںپیش کرنیکاحکم دیدیاہے۔
کمیٹی کااجلاس کنوینرورکن قومی اسمبلی جمشیددستی کے زیرصدارت ہوا، سیکریٹری پٹرولیم ڈاکٹروقارمسعودکی عدم شرکت پرشدید برہمی کااظہارکیاگیااورکمیٹی نے ایڈیشنل سیکریٹری عابد سعید کو ہدایت کی کہ سیکریٹری پٹرولیم کوٹیلی فون کرکے بُلایاجائے،کال کے آدھے گھنٹے بعدوہ کمیٹی اجلاس میںآگئے،جمشیددستی نے کہاکہ محمودکوٹ میںتیل چوری کے واقعے کی تحقیقات پنجاب پولیس ہی کرے اورایڈیشنل آئی جی پنجاب کوہدایت کی کہ وہ دونوںکو گرفتار کر کے کمیٹی میںپیش کریں۔
ایڈیشنل آئی جی پولیس پنجاب نے محمودکوٹ ضلع مظفر گڑھ میںپی ایس او کی پائپ لائن سے40 ارب روپے کاتیل چوری ہونے کے حوالے سے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایاکہ تیل چوری کے 8 مقدمات میں85 لاکھ روپے مالیت کا تیل برآمدہواہے جبکہ باقی مقدمات کے حوالے سے تفتیش جاری ہے۔آن لائن کیمطابق جمشیددستی نے ایڈیشنل آئی جی پنجاب پولیس کوہدایت کی کہ وہ دونوں عہدیداروں کوگرفتار کرکے محمودکوٹ تھانے میںبندکردیں،انھوں نے کہاکہ دونوںعہدیدارتیل چوری میںملوث ہیںاوران کیخلاف تحقیقات کی جائیں،کمیٹی نے ایڈیشنل آئی جی پنجاب پولیس کو20دن میںرپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
جمشیددستی نے کہاکہ مشیر پٹرولیم ڈاکٹرعاصم حسین نے اپنی وزارت میںنااہل لوگوںکواہم عہدوں پرتعینات کیا،اسی بناپرڈاکٹرعاصم بھی تیل چوری کے معاملات میں ملوث ہیں،انھوں نے مزیدکہاکہ وزارت پٹرولیم کوڈاکٹر عاصم نے یرغمال بنارکھاہے اور اس کی نااہلی کے باعث مسائل پیداہورہے ہیں،کمیٹی نے ایڈیشنل آئی جی پنجاب پولیس کوتھانہ سراں والاکے ایس ایچ اوکوبرطرف کرنیکی بھی ہدایت کی ہے،کمیٹی نے اجلاس میںعدم حاضری کی وضاحت کیلیے ایس پی انوسٹی گیشن ڈیرہ غازی خان کوبھی طلب کیاہے۔ ثنانیوزکے مطابق جمشید دستی کاکہناتھا کہ جمہوریت اپنے آپ کوخودذبح کررہی ہے۔
یہی وجہ ہے طاہر القادری جیسے لوگ لانگ مارچ کرنے آ رہے ہیں ، جمشیددستی نے کہاکہ وزارت پٹرولیم نے ایکشن نہ لیاتوکمیٹی اس سلسلے میںچیف جسٹس کوسفارشات بھیجے گی،سپریم کورٹ نے جرنیلوں،سیاستدانوںاوربیوروکریٹس کوسیدھاکیا،سپریم کورٹ نہ ہوتی توآج ملک فروخت ہوچکاہوتا۔ادھرسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کااجلاس قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر حاجی غلام علی کی زیرصدارت ہواجس میں تجارتی تنظیم کے بل برائے 2012 کا تفصیلی جائزہ لیاگیا،کمیٹی نے متفقہ طور پر خواہش ظاہرکی کہ اس تجارتی بل کودرپیش مشکلات یاخامیوں کو دور کر کے تاجر برادری کیلیے اگرچیمبربناناچاہتی ہے توآسانیاں پیداکی جائیںاورایساقانون بنایاجائے جسکے تحت تاجر برادری کومشکلات کاسامنا نہ کرنا پڑے۔
اجلاس میں پیپلز پارٹی کے اسلام الدین شیخ،اسحاق ڈار اورالیاس احمدبلور نے بل کے متعلق مثبت اوراچھی سفارشات بھی دیں،اجلاس میںمتفقہ طورپریہ فیصلہ کیاگیاکہ قومی اسمبلی اورسینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کامرس کا مشترکہ اجلاس 23جنوری کوبلایاجائیگااوراس میں دی گئی تجاویزکوبحث کے بعدمتفقہ طورپرعملی جامہ پہنایا جائیگا۔میڈیاسے گفتگومیں وفاقی سیکریٹری تجارت مُنیر قریشی نے کہاکہ وزارت تجارت رواں ماہ کے آخر تک تجارتی پالیسی 2012-13 کااعلان کرنیکی منصوبہ بندی کر رہی ہے،تجارتی پالیسی کے تحت تجارت کاتخمینہ 95 ارب ڈالرہے ۔
کمیٹی کااجلاس کنوینرورکن قومی اسمبلی جمشیددستی کے زیرصدارت ہوا، سیکریٹری پٹرولیم ڈاکٹروقارمسعودکی عدم شرکت پرشدید برہمی کااظہارکیاگیااورکمیٹی نے ایڈیشنل سیکریٹری عابد سعید کو ہدایت کی کہ سیکریٹری پٹرولیم کوٹیلی فون کرکے بُلایاجائے،کال کے آدھے گھنٹے بعدوہ کمیٹی اجلاس میںآگئے،جمشیددستی نے کہاکہ محمودکوٹ میںتیل چوری کے واقعے کی تحقیقات پنجاب پولیس ہی کرے اورایڈیشنل آئی جی پنجاب کوہدایت کی کہ وہ دونوںکو گرفتار کر کے کمیٹی میںپیش کریں۔
ایڈیشنل آئی جی پولیس پنجاب نے محمودکوٹ ضلع مظفر گڑھ میںپی ایس او کی پائپ لائن سے40 ارب روپے کاتیل چوری ہونے کے حوالے سے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایاکہ تیل چوری کے 8 مقدمات میں85 لاکھ روپے مالیت کا تیل برآمدہواہے جبکہ باقی مقدمات کے حوالے سے تفتیش جاری ہے۔آن لائن کیمطابق جمشیددستی نے ایڈیشنل آئی جی پنجاب پولیس کوہدایت کی کہ وہ دونوں عہدیداروں کوگرفتار کرکے محمودکوٹ تھانے میںبندکردیں،انھوں نے کہاکہ دونوںعہدیدارتیل چوری میںملوث ہیںاوران کیخلاف تحقیقات کی جائیں،کمیٹی نے ایڈیشنل آئی جی پنجاب پولیس کو20دن میںرپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
جمشیددستی نے کہاکہ مشیر پٹرولیم ڈاکٹرعاصم حسین نے اپنی وزارت میںنااہل لوگوںکواہم عہدوں پرتعینات کیا،اسی بناپرڈاکٹرعاصم بھی تیل چوری کے معاملات میں ملوث ہیں،انھوں نے مزیدکہاکہ وزارت پٹرولیم کوڈاکٹر عاصم نے یرغمال بنارکھاہے اور اس کی نااہلی کے باعث مسائل پیداہورہے ہیں،کمیٹی نے ایڈیشنل آئی جی پنجاب پولیس کوتھانہ سراں والاکے ایس ایچ اوکوبرطرف کرنیکی بھی ہدایت کی ہے،کمیٹی نے اجلاس میںعدم حاضری کی وضاحت کیلیے ایس پی انوسٹی گیشن ڈیرہ غازی خان کوبھی طلب کیاہے۔ ثنانیوزکے مطابق جمشید دستی کاکہناتھا کہ جمہوریت اپنے آپ کوخودذبح کررہی ہے۔
یہی وجہ ہے طاہر القادری جیسے لوگ لانگ مارچ کرنے آ رہے ہیں ، جمشیددستی نے کہاکہ وزارت پٹرولیم نے ایکشن نہ لیاتوکمیٹی اس سلسلے میںچیف جسٹس کوسفارشات بھیجے گی،سپریم کورٹ نے جرنیلوں،سیاستدانوںاوربیوروکریٹس کوسیدھاکیا،سپریم کورٹ نہ ہوتی توآج ملک فروخت ہوچکاہوتا۔ادھرسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کااجلاس قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر حاجی غلام علی کی زیرصدارت ہواجس میں تجارتی تنظیم کے بل برائے 2012 کا تفصیلی جائزہ لیاگیا،کمیٹی نے متفقہ طور پر خواہش ظاہرکی کہ اس تجارتی بل کودرپیش مشکلات یاخامیوں کو دور کر کے تاجر برادری کیلیے اگرچیمبربناناچاہتی ہے توآسانیاں پیداکی جائیںاورایساقانون بنایاجائے جسکے تحت تاجر برادری کومشکلات کاسامنا نہ کرنا پڑے۔
اجلاس میں پیپلز پارٹی کے اسلام الدین شیخ،اسحاق ڈار اورالیاس احمدبلور نے بل کے متعلق مثبت اوراچھی سفارشات بھی دیں،اجلاس میںمتفقہ طورپریہ فیصلہ کیاگیاکہ قومی اسمبلی اورسینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کامرس کا مشترکہ اجلاس 23جنوری کوبلایاجائیگااوراس میں دی گئی تجاویزکوبحث کے بعدمتفقہ طورپرعملی جامہ پہنایا جائیگا۔میڈیاسے گفتگومیں وفاقی سیکریٹری تجارت مُنیر قریشی نے کہاکہ وزارت تجارت رواں ماہ کے آخر تک تجارتی پالیسی 2012-13 کااعلان کرنیکی منصوبہ بندی کر رہی ہے،تجارتی پالیسی کے تحت تجارت کاتخمینہ 95 ارب ڈالرہے ۔