مقبوضہ کشمیرجیل بھروتحریک کا دوسرا مرحلہشبیرشاہ سمیت 33گرفتار

گرفتارشدگان میں شہید مقبول بٹ کی عمررسیدہ والدہ بھی شامل، تحریک میں یاسین ملک سمیت 100افراد گرفتارہوچکے

سرکاری ملازمین کی بھی کام چھوڑ ہڑتال، سرینگر و جموں سمیت ریاست کے تمام اضلاع میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے. فوٹو : فائل

مقبوضہ کشمیر میں کشمیری نوجوانوں کی عمرقید کی سزائیں منسوخ کرانے کیلیے جموںوکشمیر لبریشن فرنٹ کی طرف سے شروع کی جانیوالی جیل بھروتحریک کے تیسرے مرحلے میں بدھ کوتنظیم کے32 رہنمائوں اور کارکنوں نے گرفتاری پیش کی جن میںمعروف حریت رہنما شہید محمد مقبول بٹ کی عمر رسیدہ والدہ ، تین بہنوں سمیت دس خواتین بھی شامل ہیں۔

4 جنوری کو شروع ہونے والی جیل بھرو تحریک کے دوران چیئر مین یاسین ملک سمیت اب تک لبریشن فرنٹ کے 100سے زائد رہنماء اور کارکن گرفتاری پیش کر چکے ہیںجو کہ سرینگر سینٹرل جیل میں بند ہیں۔ادھر فریڈم پارٹی کے چیئرمین شبیر احمد شاہ کو سری نگر سے اسلام آباد جاتے ہوئے سنگم کے مقام پر حراست میں لیا۔ اس دوران فریڈم ترجمان نے پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ موصوف تعزیت کے لیے جا رہے تھے، جبکہ مقبوضہ کشمیر کے سرکاری ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں ایک ہفتے کی کام چھوڑ ہڑتال شروع کردی ہے ۔




اس دوران جے سی سی کال پر ریاست بھر میں ملازمین نے کام چھوڑہڑتال کی اور سرینگر و جموں سمیت ریاست کے تمام اضلاع میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ ملازمین عمر کی حد میں اضافہ ،ڈیلی ویجروں کی مستقلی اور تنخواہوں میں تفاوت کو دور کرنے سمیت کئی مطالبات پر ہوئے معاہدوں پرعملدرآمد کے لیے تحریک چلا رہے ہیں۔
Load Next Story