سی ایس ایس کا امتحان
21 فروری کو پاکستان سمیت دنیا بھر کی مادری زبانوں کا دن منایا گیا۔
tauceeph@gmail.com
RAWALPINDI/ISLAMABAD:
لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ سینٹرل سپیریئر سروسز (C.S.S) کا امتحان اردو میں لیا جائے۔ اس سال فوری طور پر اردو میں امتحان لینے کے انتظامات نہیں ہیں، امکان ہے کہ اگلے سال ملک کا انتظام چلانے والے اس ادارے میں شامل ہونے کے خواہاں اردو میں امتحان دے سکیں گے۔ لاہور ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے دو سال قبل کیے گئے فیصلے کے تناظر میں کیا جس میں کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت انگریزی کی جگہ اردو کو نافذ کرکے اور تمام وزارتیں اور وفاق کے خودمختار ادارے اردو میں دفتری کام انجام دیں۔
21 فروری کو پاکستان سمیت دنیا بھر کی مادری زبانوں کا دن منایا گیا۔ یونیسکو نے 21 فروری 1959 کو ڈھاکا میں بنگالی زبان کو قومی زبان کا درجہ دلانے کے لیے جدوجہد کرنے والے طلبا پر پولیس کی فائرنگ کے شہداء کی یاد میں یہ دن منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اخبارات میں یہ خبریں بھی شایع ہوئیں کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے ملک کی سرکاری یونیورسٹیوں کو خط بھیجا ہے جس میں معلوم کیا گیا ہے کہ یونیورسٹیوں نے مختلف مضامین کی کتنی کتابیں اردو میں شایع کی ہیں۔ اردو برصغیر کی مقبول ترین زبانوں میں سے ایک ہے۔ اگرچہ پاکستان میں اکثریتی آبادی کی مادری زبان اردو نہیں ہے مگر اردو ہر شہر اور گاؤں میں بولی اور لکھی جاتی ہے۔ پاکستان کے قیام کے مطالبے میں ایک اہم معاملہ اردو کو سرکاری زبان قرار دینے کا بھی تھا۔
اگرچہ ملک کے بانی محمد علی جناح کی مادری زبان گجراتی تھی اور انھوں نے ساری زندگی انگریزی کو ابلاغ کا ذریعہ بنایا تھا مگر جناح صاحب نے ڈھاکا میں اعلان کیا تھا کہ اردو ملک کی قومی زبان ہوگی۔ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں اردو ہندی تنازعہ کی بنا پر مسلم لیگ اور کانگریس میں خلیج پیدا ہوئی اور مسلمانوں کو یہ محسوس ہوا کہ کانگریس اقتدار میں آ کر ہندی کو سرکاری زبان کا درجہ دے گی، اس لیے وہ شدت کے ساتھ پاکستان کے نعرے کی کشش کا شکار ہوئے۔ مگر بیوروکریسی نے کبھی اردو کی ترویج کو اہمیت نہیں دی بلکہ چاروں صوبوں کی مادری زبانوں کو پسماندہ رکھنے کے لیے اردو کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔
50 کی دہائی کے آخری برسوں میں اردو کو سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں بطور میڈیم اپنانے کا فیصلہ ہوا۔ اس فیصلے کا صرف سرکاری اسکولوں میں عملدرآمد ہوا۔ امراء کے اسکولوں اور کالجوں میں ہر سطح پر انگریزی کی تدریس کو برقرار رکھا گیا۔ مولوی عبدالحق جنھوں نے اپنی زندگی اردو کے لیے وقف کردی تھی، نے 1949 میں کراچی میں اردو کالج قائم کیا اور اس کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کا عزم کیا مگر ان کی زندگی میں ان کا یہ خواب پورا نہ ہوا۔ 50، 60 اور 70 کی دہائیوں تک اردو کالج سے فارغ التحصیل ہونے والوں میں سے کئی سی ایس پی افسر، اعلیٰ عدالتوں کے جج، معروف وکلا، صحافی اور اساتذہ بنے مگر یہ ادارہ نچلے متوسط طبقے تک محدود رہا۔ یہی صورتحال ان تمام تعلیمی اداروں کی ہوئی جہاں اردو میں تدریس اور امتحان دینے کی اجازت تھی۔
حکمرانوں نے ایک طرف اردو کو اس کا حقیقی مقام نہیں دیا تو دوسری طرف پانچوں صوبے کی آبادی کی اکثریت کی مادری زبانوں کو پسماندہ رکھ کر اردو کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا، یوں سابقہ مشرقی پاکستان اور سندھ میں اس کے بہت برے نتائج سامنے آئے۔ قیام پاکستان کے بعد بنگالی کو قومی زبان قرار دینے سے انکار کیا گیا جس پر مشرقی پاکستان کے طلبا نے تحریک شروع کی۔ اس تحریک کو کچلنے کے لیے پولیس اور انتظامی مشینری کو استعمال کیا گیا۔ 21 فروری 1952 کو ڈھاکا میں طلبا کے جلوس پر فائرنگ کی گئی۔ اس طرح نفرت کا بیج بو دیا گیا۔
اگرچہ پھر بنگالی زبان کو اردو کے ساتھ قومی زبانوں کو درجہ دے دیا گیا مگر سرکاری زبان انگریزی ہی رہی۔ سندھ میں جب 1958 میں جنرل ایوب خان نے مارشل لاء نافذ کیا تو حیدرآباد کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بریگیڈیئر ٹکا خان نے سندھی زبان کی تدریس پر پابندی لگادی۔ انگریزی، اردو، فارسی اور عربی زبانوں کی تدریس برقرار رکھی گئی۔ اس امتیازی پالیسی کے گہرے اثرات برآمد ہوئے اور سندھیوں میں احساسِ محرومی پیدا ہوا۔ ہندوستان سے ہجرت کرکے سندھ میں آباد ہونے والے اردو بولنے والوں کے بچے اسکولوں میں سندھی سیکھ رہے تھے اور مقامی آبادی کی مہمان نوازی سے دونوں برادریوں میں مدغم ہونے کا جو عمل شروع ہونے والا تھا، وہ رک گیا۔ اس طرح سندھ میں نئے تضادات ابھر کر سامنے آگئے۔
جب 1972 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنے منشور پر عمل کرتے ہوئے سندھی کو سرکاری زبان بنانے کا قانون سندھ اسمبلی کے ذریعے نافذ کیا تو دائیں بازو کی جماعتوں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے پاکستان نے احتجاجی تحریک شروع کردی۔ اس تحریک کی قیادت کراچی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور معروف مورخ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے کی۔ ڈاکٹر قریشی اردو کے لیے احتجاج کرنے والوں کو یہ بتانا بھول گئے اردو کی سرپرستی ایسٹ انڈیا کمپنی نے کی، اس سے قبل اردو محض ایک بولی تھی۔ 1973 کے آئین میں اردو کو قومی زبان قرار دیتے ہوئے اس کی ترقی کے لیے اقدامات کا ذکر کیا گیا، یوں اردو کی ترقی کے لیے کئی ادارے قائم ہوئے۔
پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت میں اردو کالج کو وفاق نے اپنی تحویل میں لے لیا مگر عملاً اردو کی ترقی کے لیے کچھ نہ ہوا۔ لینن ایوارڈ یافتہ عالمی شاعر فیض احمد فیض پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت میں وزیراعظم کے ثقافتی امور کے مشیر رہے۔ انھوں نے امیر خسرو اور مرزا غالب صدی منانے کا فیلصہ کرایا، اس طرح امیر خسرو اور مرزا غالب پر سیمینار اور کانفرنسیں منعقد ہوئیں، اردو کو دفتری زبان قرار دینے کا فیصلہ نہیں ہوا۔ جب جنرل ضیاء الحق نے اقتدار سنبھالا تو سینٹ اسٹیفن کالج دہلی میں ان کے استاد ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کے مشورے پر مقتدرہ قومی زبان قائم ہوا، جس کا مقصد اردو کو دفتری زبان کے لیے کتابوں کی اشاعت اور دیگر پروگراموں کا انعقاد تھا۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی مقتدرہ کے صدر نشین مقرر ہوئے۔
انھوں نے اپنے پرانے ساتھی میجر آفتاب حسین کو انتظامی سربراہ مقرر کیا۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کے انتقال کے بعد بیوروکریسی نے مقتدرہ کا دفتر اسلام آباد منتقل کردیا۔ کئی ادیب اور شعراء مقتدرہ کے سربراہ مقرر ہوئے مگر مقتدرہ قومی زبان کا دائرہ محدود رہا۔ جنرل پرویز مشرف نے اردو کالج کو اپ گریڈ کرکے یونیورسٹی کا درجہ دیا۔ معروف ادیب و شاعر جمیل الدین عالی اردو یونیورسٹی کی سینیٹ کے صدر نشین مقرر ہوئے۔ اردو یونیورسٹی کے شعبہ تصنیف و تالیف کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص کیے گئے مگر اردو یونیورسٹی مسلسل بحرانوں کا شکار رہی۔
گزشتہ 3 برسوں سے ایڈہاک انتظامیہ اردو زبان کی ترویج کے لیے خاطرخواہ اقدامات نہیں کرسکی۔ اردو کو سرکاری زبان بنانے کے لیے مختلف شعبوں میں اردو کو دفتری زبان بنانے کی راہ میں رکاوٹیں ختم نہ ہوسکیں۔ دوسری طرف چاروں صوبوں کی زبانوں بلوچی، پشتو، پنجابی اور سندھی میں خاصی ترقی ہوئی۔ ان زبانوں سے متعلق کتابوں کی اشاعت میں خاطرخواہ اضافہ ہوا۔ لوگوں نے یہ سب کچھ اپنی مدد آپ کے اصول کے تحت کیا۔ پھر کمپیوٹر نے خاص طور پر سندھی زبان کی ہیئت کو تبدیل کردیا۔
بھارت میں ایک زبان کو قومی زبان قرار دینے کا معاملہ بہت پیچیدہ تھا۔ تمام ریاستیں اپنی زبانوں کو اہمیت دینے کا مطالبہ کرتی تھیں۔ بھارتی حکومت نے اس مطالبے کو منظور کرتے ہوئے 21 زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دیا اور انڈین سول سروس کے امتحانات میں ان زبانوں کو جوابات دینے کی فہرست میں شامل کیا، مگر یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ مقامی زبانوں میں امتحان دینے والوں کو انگریزی کا 200 نمبر کا امتحان لازمی قرار دیا۔ سی ایس ایس کا امتحان اردو میں لینے کا فیصلہ اپنی نوعیت کا انقلابی فیصلہ ہے مگر اس کو صرف اردو تک محدود کرنا مناسب نہیں۔ دوسری قومی زبانوں میں بھی امتحان دینے کی اجازت ہوئی چاہیے۔ اس کے ساتھ عدالتی نظام کی زبان تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ جب ملک کا انتظامی ڈھانچہ چلانے والوں کو اردو اور دیگر زبانیں سیکھنی پڑیں گی تو پھر مقامی زبانوں کو بالادستی حاصل ہوگی اور عوام اور اقتدار کے درمیان فاصلہ کم ہوگا۔
لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ سینٹرل سپیریئر سروسز (C.S.S) کا امتحان اردو میں لیا جائے۔ اس سال فوری طور پر اردو میں امتحان لینے کے انتظامات نہیں ہیں، امکان ہے کہ اگلے سال ملک کا انتظام چلانے والے اس ادارے میں شامل ہونے کے خواہاں اردو میں امتحان دے سکیں گے۔ لاہور ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے دو سال قبل کیے گئے فیصلے کے تناظر میں کیا جس میں کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت انگریزی کی جگہ اردو کو نافذ کرکے اور تمام وزارتیں اور وفاق کے خودمختار ادارے اردو میں دفتری کام انجام دیں۔
21 فروری کو پاکستان سمیت دنیا بھر کی مادری زبانوں کا دن منایا گیا۔ یونیسکو نے 21 فروری 1959 کو ڈھاکا میں بنگالی زبان کو قومی زبان کا درجہ دلانے کے لیے جدوجہد کرنے والے طلبا پر پولیس کی فائرنگ کے شہداء کی یاد میں یہ دن منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اخبارات میں یہ خبریں بھی شایع ہوئیں کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے ملک کی سرکاری یونیورسٹیوں کو خط بھیجا ہے جس میں معلوم کیا گیا ہے کہ یونیورسٹیوں نے مختلف مضامین کی کتنی کتابیں اردو میں شایع کی ہیں۔ اردو برصغیر کی مقبول ترین زبانوں میں سے ایک ہے۔ اگرچہ پاکستان میں اکثریتی آبادی کی مادری زبان اردو نہیں ہے مگر اردو ہر شہر اور گاؤں میں بولی اور لکھی جاتی ہے۔ پاکستان کے قیام کے مطالبے میں ایک اہم معاملہ اردو کو سرکاری زبان قرار دینے کا بھی تھا۔
اگرچہ ملک کے بانی محمد علی جناح کی مادری زبان گجراتی تھی اور انھوں نے ساری زندگی انگریزی کو ابلاغ کا ذریعہ بنایا تھا مگر جناح صاحب نے ڈھاکا میں اعلان کیا تھا کہ اردو ملک کی قومی زبان ہوگی۔ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں اردو ہندی تنازعہ کی بنا پر مسلم لیگ اور کانگریس میں خلیج پیدا ہوئی اور مسلمانوں کو یہ محسوس ہوا کہ کانگریس اقتدار میں آ کر ہندی کو سرکاری زبان کا درجہ دے گی، اس لیے وہ شدت کے ساتھ پاکستان کے نعرے کی کشش کا شکار ہوئے۔ مگر بیوروکریسی نے کبھی اردو کی ترویج کو اہمیت نہیں دی بلکہ چاروں صوبوں کی مادری زبانوں کو پسماندہ رکھنے کے لیے اردو کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔
50 کی دہائی کے آخری برسوں میں اردو کو سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں بطور میڈیم اپنانے کا فیصلہ ہوا۔ اس فیصلے کا صرف سرکاری اسکولوں میں عملدرآمد ہوا۔ امراء کے اسکولوں اور کالجوں میں ہر سطح پر انگریزی کی تدریس کو برقرار رکھا گیا۔ مولوی عبدالحق جنھوں نے اپنی زندگی اردو کے لیے وقف کردی تھی، نے 1949 میں کراچی میں اردو کالج قائم کیا اور اس کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کا عزم کیا مگر ان کی زندگی میں ان کا یہ خواب پورا نہ ہوا۔ 50، 60 اور 70 کی دہائیوں تک اردو کالج سے فارغ التحصیل ہونے والوں میں سے کئی سی ایس پی افسر، اعلیٰ عدالتوں کے جج، معروف وکلا، صحافی اور اساتذہ بنے مگر یہ ادارہ نچلے متوسط طبقے تک محدود رہا۔ یہی صورتحال ان تمام تعلیمی اداروں کی ہوئی جہاں اردو میں تدریس اور امتحان دینے کی اجازت تھی۔
حکمرانوں نے ایک طرف اردو کو اس کا حقیقی مقام نہیں دیا تو دوسری طرف پانچوں صوبے کی آبادی کی اکثریت کی مادری زبانوں کو پسماندہ رکھ کر اردو کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا، یوں سابقہ مشرقی پاکستان اور سندھ میں اس کے بہت برے نتائج سامنے آئے۔ قیام پاکستان کے بعد بنگالی کو قومی زبان قرار دینے سے انکار کیا گیا جس پر مشرقی پاکستان کے طلبا نے تحریک شروع کی۔ اس تحریک کو کچلنے کے لیے پولیس اور انتظامی مشینری کو استعمال کیا گیا۔ 21 فروری 1952 کو ڈھاکا میں طلبا کے جلوس پر فائرنگ کی گئی۔ اس طرح نفرت کا بیج بو دیا گیا۔
اگرچہ پھر بنگالی زبان کو اردو کے ساتھ قومی زبانوں کو درجہ دے دیا گیا مگر سرکاری زبان انگریزی ہی رہی۔ سندھ میں جب 1958 میں جنرل ایوب خان نے مارشل لاء نافذ کیا تو حیدرآباد کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بریگیڈیئر ٹکا خان نے سندھی زبان کی تدریس پر پابندی لگادی۔ انگریزی، اردو، فارسی اور عربی زبانوں کی تدریس برقرار رکھی گئی۔ اس امتیازی پالیسی کے گہرے اثرات برآمد ہوئے اور سندھیوں میں احساسِ محرومی پیدا ہوا۔ ہندوستان سے ہجرت کرکے سندھ میں آباد ہونے والے اردو بولنے والوں کے بچے اسکولوں میں سندھی سیکھ رہے تھے اور مقامی آبادی کی مہمان نوازی سے دونوں برادریوں میں مدغم ہونے کا جو عمل شروع ہونے والا تھا، وہ رک گیا۔ اس طرح سندھ میں نئے تضادات ابھر کر سامنے آگئے۔
جب 1972 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنے منشور پر عمل کرتے ہوئے سندھی کو سرکاری زبان بنانے کا قانون سندھ اسمبلی کے ذریعے نافذ کیا تو دائیں بازو کی جماعتوں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے پاکستان نے احتجاجی تحریک شروع کردی۔ اس تحریک کی قیادت کراچی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور معروف مورخ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے کی۔ ڈاکٹر قریشی اردو کے لیے احتجاج کرنے والوں کو یہ بتانا بھول گئے اردو کی سرپرستی ایسٹ انڈیا کمپنی نے کی، اس سے قبل اردو محض ایک بولی تھی۔ 1973 کے آئین میں اردو کو قومی زبان قرار دیتے ہوئے اس کی ترقی کے لیے اقدامات کا ذکر کیا گیا، یوں اردو کی ترقی کے لیے کئی ادارے قائم ہوئے۔
پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت میں اردو کالج کو وفاق نے اپنی تحویل میں لے لیا مگر عملاً اردو کی ترقی کے لیے کچھ نہ ہوا۔ لینن ایوارڈ یافتہ عالمی شاعر فیض احمد فیض پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت میں وزیراعظم کے ثقافتی امور کے مشیر رہے۔ انھوں نے امیر خسرو اور مرزا غالب صدی منانے کا فیلصہ کرایا، اس طرح امیر خسرو اور مرزا غالب پر سیمینار اور کانفرنسیں منعقد ہوئیں، اردو کو دفتری زبان قرار دینے کا فیصلہ نہیں ہوا۔ جب جنرل ضیاء الحق نے اقتدار سنبھالا تو سینٹ اسٹیفن کالج دہلی میں ان کے استاد ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کے مشورے پر مقتدرہ قومی زبان قائم ہوا، جس کا مقصد اردو کو دفتری زبان کے لیے کتابوں کی اشاعت اور دیگر پروگراموں کا انعقاد تھا۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی مقتدرہ کے صدر نشین مقرر ہوئے۔
انھوں نے اپنے پرانے ساتھی میجر آفتاب حسین کو انتظامی سربراہ مقرر کیا۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کے انتقال کے بعد بیوروکریسی نے مقتدرہ کا دفتر اسلام آباد منتقل کردیا۔ کئی ادیب اور شعراء مقتدرہ کے سربراہ مقرر ہوئے مگر مقتدرہ قومی زبان کا دائرہ محدود رہا۔ جنرل پرویز مشرف نے اردو کالج کو اپ گریڈ کرکے یونیورسٹی کا درجہ دیا۔ معروف ادیب و شاعر جمیل الدین عالی اردو یونیورسٹی کی سینیٹ کے صدر نشین مقرر ہوئے۔ اردو یونیورسٹی کے شعبہ تصنیف و تالیف کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص کیے گئے مگر اردو یونیورسٹی مسلسل بحرانوں کا شکار رہی۔
گزشتہ 3 برسوں سے ایڈہاک انتظامیہ اردو زبان کی ترویج کے لیے خاطرخواہ اقدامات نہیں کرسکی۔ اردو کو سرکاری زبان بنانے کے لیے مختلف شعبوں میں اردو کو دفتری زبان بنانے کی راہ میں رکاوٹیں ختم نہ ہوسکیں۔ دوسری طرف چاروں صوبوں کی زبانوں بلوچی، پشتو، پنجابی اور سندھی میں خاصی ترقی ہوئی۔ ان زبانوں سے متعلق کتابوں کی اشاعت میں خاطرخواہ اضافہ ہوا۔ لوگوں نے یہ سب کچھ اپنی مدد آپ کے اصول کے تحت کیا۔ پھر کمپیوٹر نے خاص طور پر سندھی زبان کی ہیئت کو تبدیل کردیا۔
بھارت میں ایک زبان کو قومی زبان قرار دینے کا معاملہ بہت پیچیدہ تھا۔ تمام ریاستیں اپنی زبانوں کو اہمیت دینے کا مطالبہ کرتی تھیں۔ بھارتی حکومت نے اس مطالبے کو منظور کرتے ہوئے 21 زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دیا اور انڈین سول سروس کے امتحانات میں ان زبانوں کو جوابات دینے کی فہرست میں شامل کیا، مگر یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ مقامی زبانوں میں امتحان دینے والوں کو انگریزی کا 200 نمبر کا امتحان لازمی قرار دیا۔ سی ایس ایس کا امتحان اردو میں لینے کا فیصلہ اپنی نوعیت کا انقلابی فیصلہ ہے مگر اس کو صرف اردو تک محدود کرنا مناسب نہیں۔ دوسری قومی زبانوں میں بھی امتحان دینے کی اجازت ہوئی چاہیے۔ اس کے ساتھ عدالتی نظام کی زبان تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ جب ملک کا انتظامی ڈھانچہ چلانے والوں کو اردو اور دیگر زبانیں سیکھنی پڑیں گی تو پھر مقامی زبانوں کو بالادستی حاصل ہوگی اور عوام اور اقتدار کے درمیان فاصلہ کم ہوگا۔