ملک چلانے کوئی باہر سے نہیں آئیگا حکومت نام کی چیز ہو تو لٹیرے سلاخوں کے پیچھے ہوں چیف جسٹس
نوآبادیاتی دورختم ہوچکا،حکمراں اس سوچ سے نکل آئیں،جہاں ہاتھ ڈالتے ہیں تباہی ہے،ملک کی ایک ایک انچ زمین کاتحفظ کرینگے
سرکاری زمین پرقبضوں کی جو ریت چلی ہے10 سال بعداسلام آبادمیں ایک درخت بھی نہیں ہوگا،گن کلب کیس میں ریمارکس۔ فوٹو: آن لائن/ فائل
لاہور:
سپریم کورٹ ملک کی ایک ایک انچ زمین کا تحفظ کرے گی۔نو آبادیاتی دورختم ہوچکا، حکمراں بھی اس سوچ سے نکل آئیں ، ملک چلانے کیلیے باہرسے کوئی نہیں آئے گا ملک ہم نے خودچلاناہے،اگرحکومت نام کی کوئی چیز موجود ہوتوملک لوٹنے والے یہ تمام افراد سلاخوں کے پیچھے ہوں گے،
یہ آبزرویشن چیف جسٹس نے گن اینڈکنٹری کلب کو سرکاری زمین کی الاٹمنٹ کیخلاف ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران دی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے کلب کے بارے میں فیصلے کو محفوظ کرتے ہوئے آبزرویشن دی کہ بادی النظرمیںکلب کا قیام غیرقانونی ہے اگراس کی توثیق کردی تو کل کلب کی جگہ بڑے بڑے پلازے بن جائیں گے۔چیف جسٹس کاکہنا تھا لگتا ہے سی ڈی اے ایلیٹ کلاس کونوازنے کیلیے بنی ہے، سرکاری زمین بانٹی جارہی ہے،چیف جسٹس نے کہا ہم اس قوم کی ایک ایک انچ زمین کی حفاظت کریں گے۔ سی ڈی اے کے وکیل منیر پراچہ اور ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بھی گن اینڈکنٹری کلب کادفاع کیا، منیرپراچہ نے کہاکلب ختم ہوا تولوگ اپنے پیسے واپس لینے کاتقاضا کریں گے،ڈپٹی اٹارنی جنرل شفیع چانڈیونے کہا کلب کی ممبرشپ رکھنے والوںکاکوئی قصور نہیںکہ ان کانقصان ہو۔
چیف جسٹس نے کہا کلب کے ممبران نے جس کوپیسے دیے ان سے لیں، پاکستان اس ملک کے عوام کاہے، صرف کلبوںکی ممبرشپ لینے کیلیے چھ چھ لاکھ دینے والوں کا نہیں، چیف جسٹس نے کہاخداکیلیے نوآبادیاتی سوچ کوختم کردیا جائے، کلبوں میں بیٹھ کرملک کی قسمت کا فیصلہ کرنے کی اس روایت کوتبدیل کردیا جائے،یہ ہمارا ملک ہے کوئی کالونی نہیں کہ کلبوں میں بیٹھ کرمباحثے ہوں گے اور پالیسیاں بنیں گی،ہر چیزکو اوپن کردیا جائے ،ہرآدمی کو رسائی دی جائے، ترقی کرنا ہر شخص کا حق ہے۔جسٹس گلزار نے مزیدکہاکہ سرکاری زمین پرقبضوں اور ہائوسنگ سوسائٹیوںکی جو ریت چلی ہے اس کے نتیجے میں10 سال بعداسلام آباد میں ایک درخت بھی نہیں ہوگا ہرجگہ قبضہ ہوگا۔
چیف جسٹس نے کہاجہاں ہاتھ ڈالتے ہیں وہاں تباہی ہے، چاہے وہ سرسید میموریل سوسائٹی ہو یا نظریہ پاکستان کونسل،ہرطرف بدعنوانی اور لوٹ مارہے،چیف جسٹس نے کہا اتنا بتادوں ملک چلانے کیلیے باہر سے کوئی نہیں آئیگا ۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا ریاست کی زمین پر ریاست کے پیسوں سے جو بھی بنے گا وہ ریاست کی ملکیت ہے ،کسی شخص کی ملکیت نہیں ہو سکتی ، اگرکسی نے عیاشی کرنی ہے تو اپنے پیسوں سے کرے ،ریاست کے پیسوں سے نہ کرے،چیف جسٹس نے کہا وقت آگیا ہے کہ نوآبادیاتی دورکی ان یادگاروںکو ختم کردیا جائے۔
سپریم کورٹ ملک کی ایک ایک انچ زمین کا تحفظ کرے گی۔نو آبادیاتی دورختم ہوچکا، حکمراں بھی اس سوچ سے نکل آئیں ، ملک چلانے کیلیے باہرسے کوئی نہیں آئے گا ملک ہم نے خودچلاناہے،اگرحکومت نام کی کوئی چیز موجود ہوتوملک لوٹنے والے یہ تمام افراد سلاخوں کے پیچھے ہوں گے،
یہ آبزرویشن چیف جسٹس نے گن اینڈکنٹری کلب کو سرکاری زمین کی الاٹمنٹ کیخلاف ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران دی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے کلب کے بارے میں فیصلے کو محفوظ کرتے ہوئے آبزرویشن دی کہ بادی النظرمیںکلب کا قیام غیرقانونی ہے اگراس کی توثیق کردی تو کل کلب کی جگہ بڑے بڑے پلازے بن جائیں گے۔چیف جسٹس کاکہنا تھا لگتا ہے سی ڈی اے ایلیٹ کلاس کونوازنے کیلیے بنی ہے، سرکاری زمین بانٹی جارہی ہے،چیف جسٹس نے کہا ہم اس قوم کی ایک ایک انچ زمین کی حفاظت کریں گے۔ سی ڈی اے کے وکیل منیر پراچہ اور ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بھی گن اینڈکنٹری کلب کادفاع کیا، منیرپراچہ نے کہاکلب ختم ہوا تولوگ اپنے پیسے واپس لینے کاتقاضا کریں گے،ڈپٹی اٹارنی جنرل شفیع چانڈیونے کہا کلب کی ممبرشپ رکھنے والوںکاکوئی قصور نہیںکہ ان کانقصان ہو۔
چیف جسٹس نے کہا کلب کے ممبران نے جس کوپیسے دیے ان سے لیں، پاکستان اس ملک کے عوام کاہے، صرف کلبوںکی ممبرشپ لینے کیلیے چھ چھ لاکھ دینے والوں کا نہیں، چیف جسٹس نے کہاخداکیلیے نوآبادیاتی سوچ کوختم کردیا جائے، کلبوں میں بیٹھ کرملک کی قسمت کا فیصلہ کرنے کی اس روایت کوتبدیل کردیا جائے،یہ ہمارا ملک ہے کوئی کالونی نہیں کہ کلبوں میں بیٹھ کرمباحثے ہوں گے اور پالیسیاں بنیں گی،ہر چیزکو اوپن کردیا جائے ،ہرآدمی کو رسائی دی جائے، ترقی کرنا ہر شخص کا حق ہے۔جسٹس گلزار نے مزیدکہاکہ سرکاری زمین پرقبضوں اور ہائوسنگ سوسائٹیوںکی جو ریت چلی ہے اس کے نتیجے میں10 سال بعداسلام آباد میں ایک درخت بھی نہیں ہوگا ہرجگہ قبضہ ہوگا۔
چیف جسٹس نے کہاجہاں ہاتھ ڈالتے ہیں وہاں تباہی ہے، چاہے وہ سرسید میموریل سوسائٹی ہو یا نظریہ پاکستان کونسل،ہرطرف بدعنوانی اور لوٹ مارہے،چیف جسٹس نے کہا اتنا بتادوں ملک چلانے کیلیے باہر سے کوئی نہیں آئیگا ۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا ریاست کی زمین پر ریاست کے پیسوں سے جو بھی بنے گا وہ ریاست کی ملکیت ہے ،کسی شخص کی ملکیت نہیں ہو سکتی ، اگرکسی نے عیاشی کرنی ہے تو اپنے پیسوں سے کرے ،ریاست کے پیسوں سے نہ کرے،چیف جسٹس نے کہا وقت آگیا ہے کہ نوآبادیاتی دورکی ان یادگاروںکو ختم کردیا جائے۔