کھیلوں پر سیاست نہ چمکائی جائے

سیاستدانوں کو سمجھنا ہوگا کہ ہر معاملہ کو سیاست کی نذر نہیں کیا جاسکتا

فوٹو: فائل

کھیل معاشرے کا صحت مندانہ رجحان ہے۔ گزشتہ دنوں دنیائے کرکٹ میں پی ایس ایل ٹو فائنل کے پاکستان میں انعقاد سے جو ہلچل مچی تھی، اس کی بازگشت اب تک سنائی دیتی ہے۔ بلاشبہ پاکستان میں ایک عرصے بعد غیر ملکی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل کے انعقاد نے ملک میں کرکٹ کو دوبارہ بحال کردیا ورنہ پاکستانی شائقین کرکٹ اس جانب سے مایوس ہوچلے تھے۔

پی ایس ایل کے شاندار اختتام اور سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے بعد آج بھی عالمی میڈیا پر اس کی ستائش ہو رہی ہے اور دوسری جانب نہ صرف مزید بین الاقوامی مقابلوں کی بات ہو رہی ہے بلکہ شنید ہے کہ قطری وزیراعظم شیخ عبداﷲ بن نصر بن خلیفہ الثانی نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات میں پاکستان آرمی کے سیکیورٹی کے حوالے سے تجربات سے استفادہ کرنے اور قطر میں آیندہ فٹبال ورلڈ کپ کے حوالے سے مدد و تعاون کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ایسا صرف پی ایس ایل کے کامیاب انعقاد کے بعد ہی ممکن ہو پایا ہے ورنہ اس سے پیشتر سیکیورٹی خدشات کے تحت عالمی میڈیا میں بھی چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں، اور غیر ملکی کھلاڑیوں کو بھی پاکستان آکر کھیلنے میں تحفظات تھے۔

اس کامیابی کے پیچھے نہ صرف حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی گراں قدر کاوشیں شامل ہیں بلکہ کرکٹ بورڈ نے بھی استقامت کا مظاہرہ کیا، جس کے بعد دنیا کو واضح پیغام گیا کہ وقتی حالات کتنے ہی کشیدہ کیوں نہ ہوں پاکستانی قوم اپنا سر بلند رکھنا جانتی ہے۔


یہاں تک کہ وہ غیر ملکی کھلاڑی جو دبئی میں کھیلنے کے بعد پاکستان آنے سے خائف تھے، ان کے بیانات بھی اب میڈیا کے ذریعے سامنے آرہے ہیں جس میں وہ فائنل کے شاندار انتظامات اور سیکیورٹی اقدامات کی تعریف کرتے نظر آتے ہیں لیکن دوسری جانب بعض سیاستدان آج بھی اس معاملے پر اپنی سیاست چمکانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، دوران ٹورنامنٹ جہاں ان کی جانب سے غیر دانشمندانہ بیانات نے پاکستان کا وقار مجروح کیا وہیں اب فائنل میں شامل بین الاقوامی کھلاڑیوں کے بارے میں رکیک اور غیر شائستہ جملے شائقین کرکٹ کے لیے صدمہ کا باعث بنے ہیں۔

سیاستدانوں کو سمجھنا ہوگا کہ ہر معاملہ کو سیاست کی نذر نہیں کیا جاسکتا، دنیا میں ملک کا امیج بہتر بنانا کسی بھی ذاتی مفاد سے برتر ہونا چاہیے، لیکن اس طرز عمل کے لیے ملک کو اولیت دینا شرط اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر سوچنا لازم ہے۔ اب چونکہ پی ایس ایل کا فائنل ہو بھی چکا تو بہتر ہوگا کہ اس معاملے میں گند نہ اچھالی جائے اور کسی بھی قسم کے بیان سے پیشتر اس کے مضمرات پر پہلے دھیان دیا جائے۔ سیاستدان ملک کی عزت کو مقدم رکھیں۔

 
Load Next Story