کنٹرول لائن پر کشیدگی

بھارت کی جانب سے بلاجواز فائرنگ سے دونوں ممالک کے درمیان جاری امن کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔

بھارت کی جانب سے بلاجواز فائرنگ سے دونوں ممالک کے درمیان جاری امن کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان اور بھارت کے قیام کے وقت سے ہی کشمیر ایک متنازعہ علاقہ بنا ہوا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جتنی بھی جنگیں ، ہوئیں، اس کی تہہ میں مسئلہ کشمیر ہی موجود تھا۔ پاکستان کا موقف ہے کہ کشمیریوں کی مرضی سے اس مسئلے کا حل ممکن ہے لہٰذا جموں و کشمیر میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی استصواب رائے کرایا جائے جب کہ دوسری جانب بھارت کا موقف ہے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے۔کشمیر کا ایک حصہ جو پاکستان میں ہے آزاد کشمیر اور دوسرا حصہ جو بھارت کے زیر تسلط ہے مقبوضہ کشمیر کہلاتا ہے۔

دونوں کشمیر کو کنٹرول لائن جدا کرتی ہے جہاں دونوں ممالک کے درمیان حالات اکثر کشیدہ رہتے ہیں اور وہاں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ برسوں کی کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان نومبر 2003ء میں لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کا معاہدہ ہوا جو اب تک قائم ہے مگر اس دوران دونوں ممالک کی افواج کے درمیان فائرنگ اور گولہ باری کے تبادلے کے باعث کئی نا خوشگوار واقعات پیش آ چکے ہیں۔

الیکٹرانک میڈیا پر چلنے والی خبروں کے مطابق آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ جمعرات کو بھارتی فوج نے ایک بار پھر فائرنگ کی اور بٹل سیکٹر میں چوکی کنڈی کو نشانہ بنایا جس سے ایک حوالدار محی الدین شہید ہوگیا۔اس سے قبل بھی اتوار کو بھارتی فوج نے آزاد کشمیر میں کنٹرول لائن پر حاجی پیر سیکٹر میں دراندازی کرتے ہوئے سواں پتراں پوسٹ پر بلا اشتعال فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پاک فوج کا ایک لانس نائیک شہید اور ایک جوان زخمی ہو گیا تھا۔ اس طرح بھارتی فائرنگ سے اب تک دو پاکستانی فوجی شہید ہوچکے ہیں۔ اتوار کو ہونے والے افسوسناک واقعہ کے بعد پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو وزارت خارجہ میں طلب کر کے احتجاجی مراسلہ دیا اور بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر سے کہا گیا کہ بھارتی حکومت مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے مناسب اقدامات کرے۔

بھارت کی جانب سے بلاجواز فائرنگ سے دونوں ممالک کے درمیان جاری امن کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ اس وقت جب دونوں جانب سے امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے' اس فائرنگ سے ہونے والی پاکستانی فوجیوں کی شہادت نے ماحول کو پھر سے کشیدہ کر دیا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ جب بھی دونوں ممالک کی جانب سے کشیدگی کو ختم کر کے دوستی اور امن کی بات کی جاتی ہے تو اس دوران کوئی نہ کوئی ایسا افسوسناک واقعہ رونما ہو جاتا ہے جو دوستی کی دیوار کے سامنے آگ کا دریا بن کر حائل ہو جاتا ہے اور دونوں جانب کے انتہا پسند عناصر کے ہاتھ امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا موقع آ جاتا ہے۔

کنٹرول لائن پر ہونے والے اس افسوسناک واقعہ کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارتی حکومت کے حکام سنجیدگی اور ذمے داری کا ثبوت دیتے ہوئے واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کراتے تاکہ آیندہ ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہو سکیں۔ مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ بھارتی حکومت نے روایتی چال بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کنٹرول لائن پر اپنے دو فوجیوں کی ہلاکت کا الزام پاکستان پر لگا دیا اور دلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے اس نام نہاد واقعہ پر احتجاج کیا۔


پاکستان نے بھارتی الزام کو مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ ہماری طرف سے ایسی کوئی کارروائی نہیں کی گئی، یہ محض بھارتی پراپیگنڈہ ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے اپنی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی طرف سے اس جارحیت کا مناسب جواب دیں گے۔ اسی طرح کا رویہ بھارتی وزیر دفاع اے کے انتھونی نے بھی اپناتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فورسز کی کارروائی کا مناسب جواب دیا جائے گا' ہمیں اس کا جواب دینا ہو گا اور ہم دیں گے بھی۔ بھارتی ارباب اختیار کو تو کم از کم محتاط طرز عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور کوئی ایسا بیان نہیں دینا چاہیے جس سے معاملات بگڑیں۔

اگر سرحدوں پر کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہو بھی جائے تو حکومت میں شامل ذمے داروں کو زیرکی اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس معاملے کو آگے بڑھنے سے روکنا چاہیے اور کوئی ایسا بیان نہیں دینا چاہیے جس سے یہ عیاں ہو کہ وہ انتہا پسندوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ بھارتی حکومت کے برعکس پاکستانی حکومت کا رویہ انتہائی ذمے دارانہ اور سنجیدہ ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے بھارتی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے دو ٹوک کہا کہ پاکستان تیسرے فریق سے تحقیقات کے لیے تیار ہے' لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے واقعہ میں پاکستانی فوج کا کوئی ہاتھ نہیں' پاکستان انتقامی کارروائی پر یقین نہیں رکھتا' ہمیں دشمنی کا ماحول نہیں بنانا چاہیے' پاکستان نے واقعہ کے متعلق اپنی تحقیقات مکمل کر لی ہیں' بھارتی جوانوں کی ہلاکت کا واقعہ بھارت میں ہوا' اس لیے بھارت اس کی تحقیقات خود کرے۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے یہاں تک پیشکش کی کہ پاکستان اس واقعہ کی اقوام متحدہ سے تحقیقات کرانے کے لیے تیار ہے۔ پاکستان نے خطے میں امن کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہوئے بھارت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ جس سے دونوں ممالک کے امن چاہنے والے شہریوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ایک طویل عرصے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ میچ ہوئے جس سے یہ امید بندھنے لگی کہ اس خطے میں امن کا سلسلہ چل نکلا ہے اور اب دشمنی کی باتیں پرانے دور کی یاد گار بن جائیں گی۔ پاک بھارت صحافیوں کے وفود بھی ایک دوسرے کے ممالک میں آئے اور مسکراہٹوں کے تبادلے ہوئے' امن اور ترقی کی باتیں ہوئیں۔

مگر ایسے عناصر جو دونوں ممالک میں امن کے خواہاں نہیں اور جنگی جنون کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں،انھیں یہ سب اچھا نہیں لگا کیونکہ ان عناصر کی بقا ہی جنگی ماحول میں ہے، ان کو خدشہ ہے کہ امن قائم ہونے سے وہ کمزور پڑ جائیں گے۔ لہٰذا جب بھی امن کا سفر دوچار قدم ہی آگے بڑھتا ہے، یہ امن دشمن عناصر پھر سے سرگرم ہو جاتے ہیں اور پھر کوئی نہ کوئی ایسا ناخوشگوار واقعہ رونما ہو جاتا ہے جس سے امن کا دور ایک بار پھر سے پس منظر میں چلا جاتا ہے اور دونوں ممالک میں دشمنی کی شعلہ بار ہوائیں چلنا شروع ہو جاتی ہیں۔

دونوں ممالک کے ارباب اختیار کو اس امر کا بخوبی ادراک ہے کہ یہ خطہ غربت' جہالت اور بیماریوں کا شکار ہے۔ عوام کا ایک بڑا حصہ غربت کی لکیر سے نیچے انتہائی مایوسی کی زندگی گزار رہا ہے۔ اس خطے کی ترقی کا راز دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور امن میں پنہاں ہے۔ اگر جنگ کے شعلے بھڑکے تو پھر یہاں زندگی ڈھونڈے سے بھی نہیں ملے گی کیونکہ دونوں ممالک ایٹمی قوت ہیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے پاکستان اور بھارت پر زور دیا ہے کہ کنٹرول لائن پر مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کریں۔

اطلاعات کے مطابق پاک بھارت فوجی حکام ہاٹ لائن پر رابطے میں ہیں۔اس کے باوجود بھارتی فوج کی جانب سے کنٹرول لائن پر فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک دو پاکستانی فوجیوں کی شہادت نے صورتحال کو کشیدہ بنا دیا ہے۔ ہماری دونوں ممالک کے حکام سے اپیل ہے کہ وہ سرحدی خلاف ورزیوں کو دوبارہ رونما ہونے سے روکنے کے لیے موجودہ ملٹری میکنزم کو مزید مضبوط بنائیں اور امن کی کوششوں کو دوام بخشنے کے لیے ہر ممکن مثبت اور دور رس اقدام کرتے ہوئے کسی ایسے فعل سے اجتناب کریں جس سے سرحدوں پر آگ افشانی کا سلسلہ شروع ہو جائے۔
Load Next Story