ڈاکٹر محمد علی صدیقی بھی چل بسے

مرحوم کو اردو، فرانسیسی، انگلش، فارسی، پنجابی، سندھی اور سرائیکی زبان پر عبور حاصل تھا

ان کی زندگی میں مختلف موضوعات پر 14 سے زائد کتابیں منظرعام پر آئیں جب کہ 100 سے زائد تحقیقی مقالے لکھے۔ فوٹو: فائل

گزشتہ روز معروف محقق اور نقاد ڈاکٹر محمد علی صدیقی طویل علالت کے باعث 75 سال کی عمر میں انتقال کرگئے، ڈاکٹر محمد علی صدیقی گردے کے عارضے میں مبتلا ہونے کے باعث مقامی اسپتال میں زیر علاج تھے۔ مرحوم نے اپنی زندگی میں اردو زبان کی ترقی کے لیے بے شمار کام کیا اور ان کا شمار پاکستان کے چند نامور نقادوں میں ہوتا ہے۔ ڈاکٹر محمد علی صدیقی 7 مارچ 1938 کو بھارت کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے اور قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے پاکستان آگئے جس کے بعد شاعری اور تحقیق پر بے پناہ کام کیا۔

ان کی زندگی میں مختلف موضوعات پر 14 سے زائد کتابیں منظرعام پر آئیں جب کہ 100 سے زائد تحقیقی مقالے لکھے۔ مرحوم کو اردو، فرانسیسی، انگلش، فارسی، پنجابی، سندھی اور سرائیکی زبان پر عبور حاصل تھا جب کہ متعدد انٹرنیشنل تنظیموں کے اعزازی رکن کے طور پر بھی دنیا بھر میں اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ پاکستان میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے کئی بار اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے، ڈاکٹر محمد علی صدیقی کوان کی ادبی اور ثقافتی خدمات کی بنا پر حکومت پاکستان نے 2003 میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ دیا، اس کے علاوہ متعدد اعزازات سے بھی نوازا۔


انھوں نے مطالعہ پاکستان پر 1992 میں پی ایچ ڈی اور 2003 میں ڈی لٹ کیا۔ وہ پاکستان رائٹرزگلڈ، ایسوسی ایشن ڈی لٹریئرکریٹکس انٹرنیشنل، پیرس، فرانس، یورپی یونین کی انجمن برائے رائٹرز اینڈ سائنٹسٹس، روم، انٹر نیشنل ایسوسی ایشن آف لٹریری کرٹکس اسٹائونجر، ناروے اور مجلس فروغ اردو ادب، دوہا قطر کے رکن تھے۔ انھوں نے برطانیہ، کینیڈا اور ناروے کی یونیورسٹیوں میں لیکچربھی دیے۔ ڈاکٹر محمد علی صدیقی نے کراچی یونیورسٹی میں طویل عرصے تک تدریسی خدمات انجام دیں، ہمدرد یونیورسٹی میں 6 سال ڈین فیکلٹی جب کہ اور آخری ایام میں انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ ٹیکنالوجی (بزٹیک) میں ڈین فیلکٹی رہے۔ بلاشبہ ڈاکٹر محمد علی صدیقی کا انتقال ادبی دنیا کا ایک بڑا نقصان ہے۔

علاوہ ازیں گزشتہ روز ہی ادبی دنیا سے تعلق رکھنے والے خورشید قائم خانی بھی 80 سال کی عمر میں جہان فانی سے کوچ کرگئے۔ وہ خانہ بدوش قبائل کے نسلیاتی پس منظر، بود و باش اور کلچر پر تحقیق میں منفرد حیثیت کے حامل تھے، خورشید قائم خانی 4 کتابوں کے مصنف تھے جن میں سیپیاں اور پتھر، بھٹکتی نسلیں، سپنوں کا دیس اور امیدوں کی فصل شامل ہیں۔ مرحوم نے متعدد کالم و مقالے سندھی، اردو اور انگریزی زبان میں تحریر کیے، انھوں نے ٹنڈو الہیار میں ہاریوں کے لیے لائبریری اور جوگیوں کے لیے ایک اسکول بھی تعمیر کیا جب کہ کولہی اور بھیل قبیلے کو تین ایکڑ اراضی بھی عطیہ کی تھی۔ وہ جاگیردارانہ کلچر اور سرمایہ دارانہ نظام کے نقاد تھے، اپنی آپ بیتی میں انھوں نے جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو جھوٹے نعروں سے عوام کو ورغلانے پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔ ادب اور علم البشر کے طالب علم ان کی موت پر سوگوار ہیں۔
Load Next Story