پرال حساس تجارتی معلومات بیچ رہا ہے شرجیل جمال

ادارے پر مخصوص گروہ کی اجارہ داری ہے،ایف بی آر کو ڈکٹیشنز بھی دیتا ہے۔

چیئرمین ایف بی آرپرال کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کے بعدوی بوک کوتوسیع دیں۔ (فوٹو : ایکسپریس)

پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پرال) مقامی تجارت کے ساتھ ملکی سیکیورٹی کیلیے بھی خطرے کا باعث بن گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ حال ہی میں وزرا، مشیران، اراکین پارلیمنٹ کے این ٹی این ڈیٹا کی تفصیلات سامنے آنے سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ پرال میں تعینات عملہ مخصوص مفادات کے عوض ٹیکس دہندگان کے علاوہ درآمدوبرآمد کنندگان کے بارے تمام میں معلومات افشا کر رہے ہیں۔ پاکستان اکانومی فورم کے وائس چیئرمین شرجیل جمال نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ پرال میں ایک مخصوص گروہ کی اجارہ داری قائم ہے جو پاکستانی درآمدات اور برآمدات کی مکمل تفصیلات مخصوص رقم کے عوض فروخت کررہا ہے۔

گروہ کے ان ہتھکنڈوں کے باعث درآمدی وبرآمدی شعبے میں صحت مند مسابقت کا ماحول ختم ہوتا جارہا ہے جبکہ ملک میں درآمد یا برآمد ہونے والے حساس نوعیت کے کنسائنمنٹس کی تفصیلات بھی پرال سے لیک ہورہی ہیں جو پاکستان کی سالمیت کیلیے خطرے کا باعث ہیں۔ شرجیل جمال نے بتایا کہ پرال اگرچہ ایک نجی ادارہ ہے لیکن یہ ادارہ اب فیڈرل بورڈ آف ریونیو پر غالب ہوگیا ہے جو ایف بی آر کو مختلف نوعیت کی ڈائریکشنز دینے لگا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پرال سے ڈیٹا کی منظم چوری طویل دورانیے سے جاری ہے لیکن متعلقہ ذمے دار حکام اس جانب توجہ نہیں دے رہے ہیں۔




بلکہ ایف بی آر نے اسکے برعکس اپنے تمام آپریشنزکی ذمے داری بھی پرال کو دیدی ہے، یہی وجہ ہے کہ آج وی بوک کلیئرنس سسٹم مکمل ناکام ہوچکا ہے، ون کسٹمز سسٹم بھی دستی چلایا جارہا ہے جبکہ سیلزٹیکس ریفنڈ کا نظام بھی خامیوں سے پر ہے جس کی وجہ سے حقداروں کو مقررہ مدت میں بلارکاوٹ ریفنڈ نہیں مل رہا اور ٹریڈ سیکٹر میں مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔

انہوں نے چیئرمین ایف بی آر سے مطالبہ کیا کہ وہ پرال کا پہلے کسی تھرڈ پارٹی کے ذریعے سسٹم آڈٹ کرانے کے احکامات جاری کریں اور بعد ازاں پرال کے ماتحت چلنے والے وی بوک کسٹمز کلیئرنس سسٹم کو تمام کسٹمز کلکٹریٹس سے منسلک کرنے کی حکمت عملی وضح کریں تاکہ انہیں اس نظام کے توسط سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوسکیں۔
Load Next Story