کور کمانڈر زکانفرنس کے اہم فیصلے

پاکستان کے بہادر عوام اور اس کی بہادر سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں انشاء اللہ رائیگاں نہیں جائیں گی

ا، فوٹو؛ آئی ایس پی آ

بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرصدارت جمعرات کو جی ایچ کیو میں 200ویں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس میں دشمن ایجنسیوں کے پاکستان مخالف عزائم کو پوری قوم کی حمایت سے ناکام بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ مادر وطن کے دفاع کے لیے مسلح افواج اپنی ذمے داریاں نبھاتی رہیں گی۔

پاکستان کے بہادر عوام اور اس کی بہادر سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں انشاء اللہ رائیگاں نہیں جائیں گی، دہشتگردی کے حالیہ واقعات کے ردعمل میں موثر کارروائیوں اور لاہور میں پی ایس ایل کے فائنل کے لیے انتظامات پر پولیس، انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنیوالے دیگر اداروں کی کارکردگی لائق تحسین ہے ، ملک میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے فریقین کی طرف سے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد تیز کرنے کی ضرورت ہے جب کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ آپریشن ردالفساد پورے ملک میں دہشتگردوں اور دہشتگردی کے خلاف کیا جا رہا ہے اور یہ کسی خاص نسل، فرقے یا گروپ کے خلاف نہیں ہے۔ آئی ایس پی آرکے مطابق کانفرنس کے شرکاء نے جیو اسٹرٹیجک اور سیکیورٹی صورتحال بالخصوص ملک کی اندرونی سیکیورٹی صورتحال' پاک افغان سرحد کی صورتحال اور لائن آف کنٹرول' ورکنگ باؤنڈری پر بھارت کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزیوں کاجائزہ لیا۔

چیف آف آرمی اسٹاف نے کانفرنس کے شرکاء کو متحدہ عرب امارات کے دورے اور قطری قیادت سے ملاقاتوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے یہ دورے انتہائی کامیاب رہے جن کے دوران مثبت پیشرفت ہوئی۔کور کمانڈرز کانفرنس نے جاری آپریشنز میں پاکستان ایئر فورس اور پاکستان نیوی کی شرکت اور حمایت کو سراہا، اجلاس کے دوران قومی ایکشن پلان پر پیشرفت کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاک فوج کے سربراہ نے کور کمانڈرز کو گزشتہ سیکیورٹی کانفرنس کے دوران حکومت کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا جس میں پاک افغان سرحد پر مرحلہ وار باڑ لگانے، افغان مہاجرین کی وطن واپسی، عدالتی اور پولیس اصلاحات ، مدارس ، تعلیمی اداروں کی اصلاحات اور فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ دہشتگردوں کو پھانسی دینے کے عمل کی بحالی سے متعلق بات چیت کی گئی، کانفرنس کے شرکا نے فوجی عدالتوں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں کے دوبارہ قیام کا فیصلہ بہرحال حکومت نے کرنا ہے۔


فوج داخلی اور خارجی سطح پر ملک کے دفاع کے لیے مطلوبہ تمام تر وسائل اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے فرائض بخوبی سرانجام دے رہی ہے' سرحدوں کے دفاع کو یقینی بنانے اور داخلی امن و امان کے قیام کے لیے دہشت گردی کے خلاف مہم میں اس نے جو بے مثال قربانیاں دی ہیں وہ قابل تحسین ہیں۔ کچھ قوتوں کی کوشش ہے کہ ملک کو ایک بار پھر دہشت گردی کی لپیٹ میں لے لیا جائے لیکن فوج نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان وطن دشمن ایجنسیوں کی کارروائیوں کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا۔

سب سے اہم بات جو کور کمانڈرز کانفرنس میں سامنے آئی وہ اس امر کا اظہار ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے اس وقت پاکستان کو سب سے زیادہ خطرہ افغانستان کے اندر موجود دہشت گردوں اور افغان حکومت کے ان پر قابو نہ پا سکنے کے باعث ہے لہٰذا اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے پاک افغان سرحد پر خاردار باڑ لگانے اور افغان مہاجرین کی وطن واپسی پر غور کیا گیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاک افغان سرحد پر جلد از جلد باڑ لگانے کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کے جدید آلات نصب کیے جائیں بالخصوص سیٹلائیٹ کے ذریعے سرحد کی نگرانی کی جائے تو چھپ کر حملہ کے لیے آنے والے دہشت گردوں کا سراغ لگانے میں آسانی ہو گی۔

دہشت گردوں کے خلاف شروع کیا گیا آپریشن ردالفساد نیشنل ایکشن پلان ہی کا ایک حصہ ہے' فوج تو اپنی ذمے داریاں بخوبی نبھا رہی ہے اب حکومت اور سیاسی جماعتوں کی ذمے داری ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں' فوجی عدالتوں کے دوبارہ قیام کے فیصلے کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے اس سلسلے میں جتنی تاخیر ہوتی چلی جائے گی دہشت گردوں کو اتنی ہی تقویت ملے گی۔

اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ دہشت گرد امن اور وطن کا دشمن ہوتا ہے اس کو کسی نسل فرقے یا گروپ کے پیمانے میں تولنا درست رویہ نہیں لہٰذا لسانیت اور قومیت کے تعصب سے بالاتر ہو کر تمام سیاسی جماعتوں کو مشترکہ طور پر دہشت گردی کے خلاف متفقہ ایجنڈا طے کرنا ہو گا اگر سیاسی جماعتوں نے اس سلسلے میں کوتاہی برتی تو اس کا خمیازہ مستقبل میں انھیں بھی بھگتنا پڑے گا کیونکہ دہشت گرد کسی کا دوست اور ہمدرد نہیں ہوتا۔
Load Next Story