گورنر سندھ کی خسرے کی وبا پر قابو پانے کیلیے اقدامات کی ہدایت

حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام پر عدم اطمینان،ٹیکوں کی کوریج یقینی بنائی جائے،عشرت العباد

گزشتہ سال خسرہ کے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے،خسرے اور دیگر بیماریوں سے اموات ہوئیں،ڈاکٹر صغیر نے سفارشات پیش کیں۔ فوٹو: فائل

گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد خان نے صوبے کے مختلف اضلاع میں خسرہ پھیلنے کی رپورٹس پر تشویش ظاہرکرتے ہوئے اس کی روک تھام کے لیے فوری، موثر اورخصوصی اقدامات پر زوردیا ہے اورکراچی سمیت صوبے میں بچوں میں حفاظتی ٹیکہ جات کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ فوری طورپربچوں کو بچانے کیلیے حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کی شرح میں 100 فیصد کوریج کو یقینی بنایا جائے۔

وہ گورنر ہائوس میں منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں خسرہ پر قابو پانے کے اقدامات کا جائزہ لے رہے تھے، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد نے اس ضمن میں جاری صورتحال اور اس پر قابو پانے کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا، پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر نوشاد شیخ، صوبائی سیکریٹری صحت آفتاب احمد کھتری اور دیگر حکام بھی اجلاس میں موجود تھے، گورنر ڈاکٹر عشرت العباد نے خسرہ پر قابو پانے کے لیے ٹھوس کوششوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبے بھر میں ضلع وار سیمپلنگ کی جائے تاکہ اصل وجوہات کا پتہ چلے اور ان کا تدارک کیا جاسکے، گورنر نے ویکسی نیشن کے بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے اہل، فرض شناس افسران اور عملے کی تعیناتی پر بھی زور دیا،صوبائی وزیر نے متعدد سفارشات بھی پیش کیں۔

گورنر نے انھیں ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا، اجلاس میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال بھر صوبے کے مختلف اضلاع سے خسرہ کے کیس رپورٹ ہوئے لیکن دسمبر میں ان میں اضافہ ہوا، خاص طور پر گھوٹکی، سکھر، خیر پور، شکار پور، جیکب آباد، کشمور، لاڑکانہ اور قمبر سے زیادہ رپورٹس ملیں، وجوہات میں ابتدائی طبی مراکز میں معمول کی امیونائزیشن میں کمی رہی، احتیاطی اقدامات کی نسبت علاج معالجہ کی سہوتوں کی فراہمی پر زیادہ زور دیاگیا۔




خسرے سے پیدا ہونیوالی بیماریاں نمونیہ، اسہال اور غذائی کمی کی وجہ اموات کا زیادہ سبب رہیں، لوگوں کے علاج کی بجائے نام نہاد روحانی معالجوں سے رجوع کرنا بھی نقصان کا سبب رہا،دریں اثنا ڈبلیو ایچ او کے مطابق 2012 میں خسرہ کے 7274 کیسز رپورٹ کیے گئے جن میں 212 اموات ہوئیں، دسمبر میں1879 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ اس دوران 93 اموات ہوئیں محکمہ صحت کے مطابق دسمبر میں 2125کیسز رپورٹ ہوئے اور 100اموات ہوئیں۔

خسرہ پر قابو پانے کے لیے حساس علاقوں میں کریش پروگرام شروع کیا گیا ہے،7جنوری تک 2329812 بچوں کو ویکسین کیا گیا جبکہ 8 اضلاع میں انسداد خسرہ کے لیے3111080 ویکسین فراہم کی گئی ہے،ڈی جی ہیلتھ کے دفتر میں صوبائی کنٹرول روم کے علاوہ ضلعی سطح پر بھی کنٹرول رومز قائم کردیے گئے ہیں تاکہ بہتر مانیٹرنگ ہوسکے،مانیٹرنگ کے لیے ضلع اور تعلقہ کی سطح پر فوکل پرسن کا تقرر بھی کیا گیا ہے۔
Load Next Story