ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر کے ایم سی سے جواب طلب
32 ہزار ملازمین تنخواہ اور 22 ہزار ریٹائر ملازمین پنشن سے محروم، حکومت سندھ اور کے ایم سی25 جنوری کو جواب داخل کریں
رقم افسران کمیشن کے عوض ٹھیکیداروں کو دے دیتے ہیں،وکلا ملازمین،حکومت سے رقم کی فراہمی کی صورتحال معلوم کی جائے ،کے ایم سی۔ فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ نے کے ایم سی کے50 ہزار سے زائد حاضر سروس و ریٹائرڈ ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف دائردرخواست پر سیکریٹری فنانس سندھ اور ڈائریکٹر فنانس کے ایم سی کو25جنوری تک جواب داخل کرنے کا حکم دیاہے۔
ندیم شیخ ایڈووکیٹ اور سجن یونین کی جانب سے دائردرخواست میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے32 ہزار حاضر سروس و 22 ہزار ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن گذشتہ2 ماہ سے جاری نہیں کی جاسکی ہیں، کے ایم سی کی جانب سے خورشید نعیم ایڈووکیٹ نے موقف اختیارکیا کہ حکومت سندھ کی جانب سے مناسب فنڈز نہ ہونے کے باعث ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی مشکلات کا شکار ہے۔
جبکہ درخواست گزاروں کے وکلا نے موقف اختیارکیاکہ حکومت سندھ کی جانب سے رقم دی جارہی ہے لیکن اعلیٰ افسران کمیشن کے عوض رقم سے ٹھیکیداروں کو ادائیگی کردیتے ہیں،تاہم کے ایم سی کے وکیل نے اصرار کیا کہ صوبائی حکومت سے بھی رقم کی فراہمی کے حوالے سے درست صورتحال معلوم کی جائے ،جسٹس فیصل عرب اور جسٹس نثار اے شیخ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے فریقین کا موقف سننے کے بعد ہدایت کی کہ 25جنوری سے قبل جوابات داخل کردیے جائیں تاکہ عدالت آئندہ سماعت پر حکم جاری کرسکے۔
ندیم شیخ ایڈووکیٹ اور سجن یونین کی جانب سے دائردرخواست میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے32 ہزار حاضر سروس و 22 ہزار ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن گذشتہ2 ماہ سے جاری نہیں کی جاسکی ہیں، کے ایم سی کی جانب سے خورشید نعیم ایڈووکیٹ نے موقف اختیارکیا کہ حکومت سندھ کی جانب سے مناسب فنڈز نہ ہونے کے باعث ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی مشکلات کا شکار ہے۔
جبکہ درخواست گزاروں کے وکلا نے موقف اختیارکیاکہ حکومت سندھ کی جانب سے رقم دی جارہی ہے لیکن اعلیٰ افسران کمیشن کے عوض رقم سے ٹھیکیداروں کو ادائیگی کردیتے ہیں،تاہم کے ایم سی کے وکیل نے اصرار کیا کہ صوبائی حکومت سے بھی رقم کی فراہمی کے حوالے سے درست صورتحال معلوم کی جائے ،جسٹس فیصل عرب اور جسٹس نثار اے شیخ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے فریقین کا موقف سننے کے بعد ہدایت کی کہ 25جنوری سے قبل جوابات داخل کردیے جائیں تاکہ عدالت آئندہ سماعت پر حکم جاری کرسکے۔