پی اے سی کا اجلاس ایڈمنسٹریٹر بلدیہ کو مالیاتی ریکارڈجمع کرانے کیلیے ایک ہفتے کی مہلت

اجلاس میں کے ایم سی ، کے ڈی اے اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (کے ڈبلیو ایس بی) کے حسابات کا جائزہ لیا گیا

اجلاس میں کے ایم سی ، کے ڈی اے اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (کے ڈبلیو ایس بی) کے حسابات کا جائزہ لیا گیا،فوٹو: فائل

ایڈمنسٹریٹر کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) محمد حسین سید نے کہا ہے کہ جام صادق برج کسی بھی وقت گرسکتا ہے۔


میں نے اس حوالے سے گورنر سندھ اور وزیر اعلیٰ سندھ کو آگاہ کردیا ، یہ بات انھوں نے جمعرات کو سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ( پی اے سی)کے اجلاس میں بتائی ، جو کمیٹی کے چیئرمین سردار جام تماچی انڑ کی صدارت میں سندھ اسمبلی بلڈنگ میں منعقد ہوا ،اجلاس میں کے ایم سی ، کے ڈی اے اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (کے ڈبلیو ایس بی) کے حسابات کا جائزہ لیا گیا، محمد حسین سید نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کراچی کے بعض اہم منصوبوں کے لیے 2 ارب 40 ،کروڑ روپے مختص کیے ہیں ، لیکن مرکز نے ابھی تک فنڈز جاری نہیں کیے ہیں ، یہ سندھ کے ساتھ زیادتی ہے۔

پی اے سی کے ارکان کے استفسار پر ایم ڈی کے ڈبلیو ایس بی مصباح الدین فرید نے بتایا کہ اس وقت شہر میں 400 ملین گیلن روزانہ پانی کی قلت ہے ، انھوں نے انکشاف کیا کہ واٹر ٹینکرز سروس میں بے قاعدگیوں ، اقربا پروری اور کرپشن کی وجہ سے ٹینکرز کی تعداد 14000سے کم کرکے 6000کردی گئی ہے ،قبل ازیں پی اے سی نے ورکنگ پیپرز بروقت نہ ملنے پر کے ایم سی ،کے ڈی اے اور کے ڈبلیو ایس بی کے حسابات کی چھان بین ملتوی کردی اور انہیں ایک ہفتے کی مہلت دی تاکہ وہ فوری دستاویزات پیش کرسکیں ۔
Load Next Story