عدلیہ دہری شہریت کے فیصلے پر نظرثانی کرے قائداعظم نے بھی مجبوراً برطانیہ سے وفاداری کا حلف اٹھایا تھا
پی پی کواردوبولنے والے سندھیوںکی ناراضی کاکیوںخیال نہیں؟بلدیاتی اداروں کے بغیرجمہوریت فراڈہے
کراچی: ایم کیو ایم کے رہنما اور کارکن لال قلعہ گرائونڈ میں متحدہ کے قائد الطاف حسین کا ٹیلی فونک خطاب سن رہے ہیں۔ فوٹو: ان لائن
ایم کیوایم کے قائدالطاف حسین نے جمعرات کولال قلعہ گرائونڈمیں اپنے خطاب کے دوران قیام پاکستان کے گم گشتہ تارٰیخی حقائق پیش کیے۔
انھوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے وقت قائداعظم محمدعلی جناح نے انڈین آزادی ایکٹ کے تحت مجبوراًبحیثیت گورنرجنرل برطانیہ کے شہنشاہ کی وفاداری کاحلف اٹھایاتھا ، اگروہ ایسانہ کرتے تو پاکستان آزاد نہ ہوتا، بھارت کے گورنرجنرل لارڈ مائونٹ بیٹن نے بھی تاج برطانیہ سے وفاداری کا حلف اٹھایا،قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے بعدخواجہ ناظم الدین،ملک غلام محمد اوراسکندر مرزانے بھی صرف نام کی تبدیلی کے ساتھ گورنرجنرل کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا،یہ تاریخ کا ایساسچ ہے جس سے انکارکرناممکن نہیں ہے۔
تاریخی حقائق کی روشنی میں14، اگست1947کوپاکستان اور15، اگست1947کوبھارت نے جو آزادی حاصل کی تھی وہ آزادی کسی بھی طرح مکمل آزادی نہیں تھی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ادھوری آزادی تھی کیونکہ آزادی کے بعدبھی دونوں مملکتوں کے سربراہوں نے برطانوی بادشاہ سے وفاداری کاحلف لیاتھا،اگر قائد اعظم محمدعلی جناحؒ،بانی پاکستان ہونے کے باوجودتاج برطانیہ سے وفاداری کاحلف اٹھاسکتے ہیں توپاکستان کے کسی شہری کااپنی رضایاحالات کے جبرکے تحت پاکستان کی شہریت رکھنے کے ساتھ ساتھ برطانیہ ،کینیڈا یادولت مشترکہ کے کسی بھی ملک کی شہریت اختیارکرنے پراعتراض کیوں کیاجاتا ہے،وہی قومیں مضبوط ہوتی ہیں جن کی تاریخ سچائی پرمبنی ہوتی ہیں،پاکستان اوربھارت دو نئے ممالک دنیاکے نقشے پر ابھ کرسامنے آئے تھے ،محض25 سال بعد1971میں پاکستان دولخت ہوگیااور برصغیر3علیحدہ علیحدہ ممالک میں تقسیم ہوگیا۔
اب اگر برصغیر کے تین حصوں میں تقسیم ہونے کی وجوہات تاریخ دانوں، دانشوروں اورسیاسی تجزیہ نگاروں سے معلوم کی جائیں تو تقریباً سب کا یا پھر اکثریت کا تجزیہ ایک دوسرے سے مختلف ہوگااورنئی نسل بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش بننے کی اصل تاریخ اورحقائق سے ہمیشہ ناواقف رہے گی،جو لوگ تاریخی حقائق کو بدلنے یا مسخ کرنے یا نئی نسل کو گمراہ کرنے کامجرمانہ فعل وعمل کرتے ہیں وہ صرف تاریخ کوہی مسخ نہیں کرتے بلکہ دراصل اپنے اپنے ممالک کے جغرافیہ کوتبدیل اور مسخ کرنے کاعمل کرتے ہیں۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جن مذہبی جماعتوں یا دیگر سیاسی جماعتوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی وہ پاکستان کے قیام کے بعدآج پاکستان کی سب سے بڑی محب وطن جماعتیں بن گئیں اورجو پاکستان کے قیام کی جدوجہدکرنے والے اکابرین وعوام تھے وہ غدار یا پھر ان کی حب الوطنی کو مشکوک قراردیدیاگیا،کیایہ بات درست اور حقیقت پر مبنی نہیں کہ جو نواب ،سردار،جاگیرداراور وڈیرے پاکستان کے بدترین مخالف تھے آج ان ہی خاندانوں کی اکثریت خاندان درخاندان ، نسل درنسل پاکستان پر حکمرانی کی حق دار قراردی جاتی ہے،میں یہاں یہ سوال کرنا چاہوں گا کہ وہ میری رہنمائی کی جائے کہ14، اگست 1947 کوکیا واقعی پاکستان کا قیام ایک مکمل آزاد اورخودمختار ملک کی حیثیت سے عمل میں آیاتھا؟
اوراگران معزز شخصیات ک جواب''ہاں'' میں ہوگاتوپھر میں بہت احترام کے ساتھ یہ سوال بھی پوچھنے کی جسارت کروں گاکہ بانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح ؒ نے گورنر جنرل کی حیثیت سے سلطنت برطانیہ کے بادشاہ جارج ششم،ان کے ولی عہدوں اورجانشینوں کی وفاداری کا حلف کیوں اٹھایاتھا؟ اب یقینا تاریخ سے واقف چندزعماتاریخی حقائق کی روشنی میں یہی جواب دیں گے کہ اس وقت پاکستان کاکوئی آئین نہیں بناتھا،بھارت میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن،گورنر جنرل بناتھا اور پاکستان میں قائداعظم محمد علی جناح ؒ گورنر جنرل بنے تھے اور دونوں ممالک کو جو آزادی دی گئی تھی وہ سلطنت برطانیہ کے جاری کردہ انڈین انڈی پینڈنس ایکٹ1947 کے تحت دی گئی تھی ۔
یہ ایکٹ برطانیہ کی پارلیمنٹ سے منظور کیا گیا تھااور اس ایکٹ کی منظوری 18 جولائی 1947کوشہنشاہ برطانیہ جارج ششم سے لی گئی تھی،اس ایکٹ کے بنیادی نکات میں یہ کہاگیاتھا کہ دونوں نئے ممالک کے گورنر جنرل تاج برطانیہ کے نمائندے ہونگے۔اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس وقت دونوںممالک (بھارت اورپاکستان) کی حکومتوں کے پاس کوئی دوسراراستہ نہیں تھاسوائے اس کے کہ وہ سلطنت برطانیہ کے جاری کردہ انڈین انڈی پینڈنس ایکٹ 1947 کے تحت ہی حلف اٹھائیں ورنہ انکارکی صورت میں یہ آزادی بھی نہ مل پاتی ،یعنی ایسا کرنے کے علاوہ نہ تو بھارت کے پاس کوئی راستہ تھا اور نہ ہی قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے پاس کوئی دوسرا راستہ تھا۔
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کیلیے تاج برطانیہ سے وفاداری کا حلف اٹھانا ان کی قانونی مجبوری تھی اسی طرح اگر کوئی پاکستانی شہری پاکستانی شہریت رکھنے کے ساتھ ساتھ حالات کے جبرکے تحت برطانیہ یا دولت مشترکہ کے کسی ملک کی شہریت اختیار کرتا ہے اور ملکہ برطانیہ سے وفاداری کاحلف اٹھاتاہے تو اس کا یہ عمل اس کی قانونی مجبوری ہے، پاکستان میں دہری شہریت کے بارے میں ہر جگہ بحث چل رہی ہے،دہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کو نہ صرف یہ کہ طرح طرح کے طعنے دیے جاتے ہیں،جب ذوالفقارعلی بھٹوشہید کوپھانسی دی گئی تو صر ف پیپلزپارٹی کے رہنما ہی نہیں بلکہ بہت بڑی تعدادمیں پیپلزپارٹی کے کارکنان کوبھی بیرون ملک ہجرت کرنی پڑی کیونکہ اس وقت کی آمر حکومت کی جانب سے پیپلزپارٹی کے رہنماؤں اورکارکنوں کا پاکستان میں جینا ناممکن بنادیا گیاتھا۔
1999 میں جب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف نے اپنی حکومت گر جانے کے بعدمختلف ممالک میں ہجرت کی تو ان کے ساتھ ساتھ ان کی جماعت کے بہت سے رہنماؤں اورکارکنوں نے بھی بیرون ممالک ہجرت کی اورآج دونوں جماعتوں کے بعض رہنمااور کارکنان دیگر ممالک کی شہریت اختیارکی ۔جب 1992 میں ایم کیوایم کے خلاف ریاستی آپریشن کیا گیا، جب انصاف کے حصول کیلیے کہیں سے کوئی توقع اور امیدباقی نہ رہی تو بہت بڑی تعداد میں ایم کیوایم کے کارکنوں کو دنیاکے مختلف ممالک میں جانے کاموقع ملا، انھوں نے وہاں ہجرت کرکے رہائش اختیارکی اور آج کے دن تک بھی ہزاروں کارکنان دنیاکے مختلف ممالک میں حالات کے جبر کے تحت جلاوطنی کی کربناک زندگی گزاررہے ہیں۔
میں پاکستان میں تھاتو مجھ پر بے پناہ قاتلانہ حملے ہوئے ،جب21، دسمبر1991کومجھ پر ملک کا پہلا خودکش حملہ ہواجس میں اللہ کے فضل وکرم سے میں اورمیرے ساتھی محفوظ رہے جبکہ حملہ آورخود موت کا شکار ہوگیا،اس کے بعد ایم کیوایم کی مرکزی کمیٹی اورکارکنان کئی اجلاس کرکے اس نتیجے پرپہنچے کہ اب میراپاکستا ن میں رہنا کسی بھی طرح مناسب نہیں لہٰذاانھوں نے مجھ سے مطالبہ کیاکہ میں فی الفورملک سے باہر چلاجاؤں اور باہر رہ کر کارکنوں کی رہنمائی کروں،اپنے ساتھیوں کے مسلسل اور بے حد اصرار اور پرزوردرخواست پر میں یکم جنوری 1992 کو پہلے عمرہ کرنے سعودی عرب گیااور کچھ عرصے بعدوہاں سے لندن آگیا؟کیامسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف نے8 سال ملک سے باہر نہ گزارے ؟
کیا محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور صدر آصف علی زرداری نے جلاوطنی نہیں گزاری ؟ یہاں یہ سب بیان کرنے کا مقصد سوائے اس کے کچھ نہیں کہ ہماری معززعدلیہ اور مقننہ کو اس بات پرغورکرنا چاہیے کہ کوئی آدمی حصول معاش یاعلم کے حصول کیلیے ہجرت کرتاہے ،تو کسی کو ریاستی مظالم ہجرت کرنے پر مجبورکردیتے ہیں،لہٰذا ہماری معزز ومحترم عدلیہ اورمقننہ کودہری شہریت کے معاملے کے فیصلوں پرنظر ثانی کرنی چاہیے اورعلامہ ڈاکٹر طاہر القادری سمیت کسی بھی پاکستانی شہری کے دوسرے ملک کی شہریت اختیار کرنے کے عمل کوشک کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے ان حالات اورمشکلات کو پیش نظر رکھناچاہیے۔
میں ان بیان کردہ حقائق کی روشنی میں تمام دانشوروں اوراہل قلم حضرات کو دعوت فکر دیتاہوں کہ وہ میرے بیان کردہ حقائق اور پیش کردہ ثبوت وشواہد کے جواب میں مجھ پر جتنی چاہیں شوق سے تنقیدکریں میں ان کی تنقید کاخوش دلی سے خیرمقدم کروں گالیکن میری درخواست ہوگی کہ سوال جواب اوراعتراض جوبھی ہووہ دلائل اورثبوت وشواہدکی روشنی میں ہو،میں ان دعاؤںکے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ پاکستان پراپنارحم وکرم فرمائے اورعوام میرے بیان کردہ آج کے اس مقدمے کوجسے میں نے سیاسی ڈرون دھماکے سے تعبیر کیااس کے ایک ایک لفظ پر غورکرکے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کریں کہ میں کہاں تک درست ہوںاور کہاں تک غلط۔
انھوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے وقت قائداعظم محمدعلی جناح نے انڈین آزادی ایکٹ کے تحت مجبوراًبحیثیت گورنرجنرل برطانیہ کے شہنشاہ کی وفاداری کاحلف اٹھایاتھا ، اگروہ ایسانہ کرتے تو پاکستان آزاد نہ ہوتا، بھارت کے گورنرجنرل لارڈ مائونٹ بیٹن نے بھی تاج برطانیہ سے وفاداری کا حلف اٹھایا،قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے بعدخواجہ ناظم الدین،ملک غلام محمد اوراسکندر مرزانے بھی صرف نام کی تبدیلی کے ساتھ گورنرجنرل کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا،یہ تاریخ کا ایساسچ ہے جس سے انکارکرناممکن نہیں ہے۔
تاریخی حقائق کی روشنی میں14، اگست1947کوپاکستان اور15، اگست1947کوبھارت نے جو آزادی حاصل کی تھی وہ آزادی کسی بھی طرح مکمل آزادی نہیں تھی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ادھوری آزادی تھی کیونکہ آزادی کے بعدبھی دونوں مملکتوں کے سربراہوں نے برطانوی بادشاہ سے وفاداری کاحلف لیاتھا،اگر قائد اعظم محمدعلی جناحؒ،بانی پاکستان ہونے کے باوجودتاج برطانیہ سے وفاداری کاحلف اٹھاسکتے ہیں توپاکستان کے کسی شہری کااپنی رضایاحالات کے جبرکے تحت پاکستان کی شہریت رکھنے کے ساتھ ساتھ برطانیہ ،کینیڈا یادولت مشترکہ کے کسی بھی ملک کی شہریت اختیارکرنے پراعتراض کیوں کیاجاتا ہے،وہی قومیں مضبوط ہوتی ہیں جن کی تاریخ سچائی پرمبنی ہوتی ہیں،پاکستان اوربھارت دو نئے ممالک دنیاکے نقشے پر ابھ کرسامنے آئے تھے ،محض25 سال بعد1971میں پاکستان دولخت ہوگیااور برصغیر3علیحدہ علیحدہ ممالک میں تقسیم ہوگیا۔
اب اگر برصغیر کے تین حصوں میں تقسیم ہونے کی وجوہات تاریخ دانوں، دانشوروں اورسیاسی تجزیہ نگاروں سے معلوم کی جائیں تو تقریباً سب کا یا پھر اکثریت کا تجزیہ ایک دوسرے سے مختلف ہوگااورنئی نسل بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش بننے کی اصل تاریخ اورحقائق سے ہمیشہ ناواقف رہے گی،جو لوگ تاریخی حقائق کو بدلنے یا مسخ کرنے یا نئی نسل کو گمراہ کرنے کامجرمانہ فعل وعمل کرتے ہیں وہ صرف تاریخ کوہی مسخ نہیں کرتے بلکہ دراصل اپنے اپنے ممالک کے جغرافیہ کوتبدیل اور مسخ کرنے کاعمل کرتے ہیں۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جن مذہبی جماعتوں یا دیگر سیاسی جماعتوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی وہ پاکستان کے قیام کے بعدآج پاکستان کی سب سے بڑی محب وطن جماعتیں بن گئیں اورجو پاکستان کے قیام کی جدوجہدکرنے والے اکابرین وعوام تھے وہ غدار یا پھر ان کی حب الوطنی کو مشکوک قراردیدیاگیا،کیایہ بات درست اور حقیقت پر مبنی نہیں کہ جو نواب ،سردار،جاگیرداراور وڈیرے پاکستان کے بدترین مخالف تھے آج ان ہی خاندانوں کی اکثریت خاندان درخاندان ، نسل درنسل پاکستان پر حکمرانی کی حق دار قراردی جاتی ہے،میں یہاں یہ سوال کرنا چاہوں گا کہ وہ میری رہنمائی کی جائے کہ14، اگست 1947 کوکیا واقعی پاکستان کا قیام ایک مکمل آزاد اورخودمختار ملک کی حیثیت سے عمل میں آیاتھا؟
اوراگران معزز شخصیات ک جواب''ہاں'' میں ہوگاتوپھر میں بہت احترام کے ساتھ یہ سوال بھی پوچھنے کی جسارت کروں گاکہ بانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح ؒ نے گورنر جنرل کی حیثیت سے سلطنت برطانیہ کے بادشاہ جارج ششم،ان کے ولی عہدوں اورجانشینوں کی وفاداری کا حلف کیوں اٹھایاتھا؟ اب یقینا تاریخ سے واقف چندزعماتاریخی حقائق کی روشنی میں یہی جواب دیں گے کہ اس وقت پاکستان کاکوئی آئین نہیں بناتھا،بھارت میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن،گورنر جنرل بناتھا اور پاکستان میں قائداعظم محمد علی جناح ؒ گورنر جنرل بنے تھے اور دونوں ممالک کو جو آزادی دی گئی تھی وہ سلطنت برطانیہ کے جاری کردہ انڈین انڈی پینڈنس ایکٹ1947 کے تحت دی گئی تھی ۔
یہ ایکٹ برطانیہ کی پارلیمنٹ سے منظور کیا گیا تھااور اس ایکٹ کی منظوری 18 جولائی 1947کوشہنشاہ برطانیہ جارج ششم سے لی گئی تھی،اس ایکٹ کے بنیادی نکات میں یہ کہاگیاتھا کہ دونوں نئے ممالک کے گورنر جنرل تاج برطانیہ کے نمائندے ہونگے۔اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس وقت دونوںممالک (بھارت اورپاکستان) کی حکومتوں کے پاس کوئی دوسراراستہ نہیں تھاسوائے اس کے کہ وہ سلطنت برطانیہ کے جاری کردہ انڈین انڈی پینڈنس ایکٹ 1947 کے تحت ہی حلف اٹھائیں ورنہ انکارکی صورت میں یہ آزادی بھی نہ مل پاتی ،یعنی ایسا کرنے کے علاوہ نہ تو بھارت کے پاس کوئی راستہ تھا اور نہ ہی قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے پاس کوئی دوسرا راستہ تھا۔
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کیلیے تاج برطانیہ سے وفاداری کا حلف اٹھانا ان کی قانونی مجبوری تھی اسی طرح اگر کوئی پاکستانی شہری پاکستانی شہریت رکھنے کے ساتھ ساتھ حالات کے جبرکے تحت برطانیہ یا دولت مشترکہ کے کسی ملک کی شہریت اختیار کرتا ہے اور ملکہ برطانیہ سے وفاداری کاحلف اٹھاتاہے تو اس کا یہ عمل اس کی قانونی مجبوری ہے، پاکستان میں دہری شہریت کے بارے میں ہر جگہ بحث چل رہی ہے،دہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کو نہ صرف یہ کہ طرح طرح کے طعنے دیے جاتے ہیں،جب ذوالفقارعلی بھٹوشہید کوپھانسی دی گئی تو صر ف پیپلزپارٹی کے رہنما ہی نہیں بلکہ بہت بڑی تعدادمیں پیپلزپارٹی کے کارکنان کوبھی بیرون ملک ہجرت کرنی پڑی کیونکہ اس وقت کی آمر حکومت کی جانب سے پیپلزپارٹی کے رہنماؤں اورکارکنوں کا پاکستان میں جینا ناممکن بنادیا گیاتھا۔
1999 میں جب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف نے اپنی حکومت گر جانے کے بعدمختلف ممالک میں ہجرت کی تو ان کے ساتھ ساتھ ان کی جماعت کے بہت سے رہنماؤں اورکارکنوں نے بھی بیرون ممالک ہجرت کی اورآج دونوں جماعتوں کے بعض رہنمااور کارکنان دیگر ممالک کی شہریت اختیارکی ۔جب 1992 میں ایم کیوایم کے خلاف ریاستی آپریشن کیا گیا، جب انصاف کے حصول کیلیے کہیں سے کوئی توقع اور امیدباقی نہ رہی تو بہت بڑی تعداد میں ایم کیوایم کے کارکنوں کو دنیاکے مختلف ممالک میں جانے کاموقع ملا، انھوں نے وہاں ہجرت کرکے رہائش اختیارکی اور آج کے دن تک بھی ہزاروں کارکنان دنیاکے مختلف ممالک میں حالات کے جبر کے تحت جلاوطنی کی کربناک زندگی گزاررہے ہیں۔
میں پاکستان میں تھاتو مجھ پر بے پناہ قاتلانہ حملے ہوئے ،جب21، دسمبر1991کومجھ پر ملک کا پہلا خودکش حملہ ہواجس میں اللہ کے فضل وکرم سے میں اورمیرے ساتھی محفوظ رہے جبکہ حملہ آورخود موت کا شکار ہوگیا،اس کے بعد ایم کیوایم کی مرکزی کمیٹی اورکارکنان کئی اجلاس کرکے اس نتیجے پرپہنچے کہ اب میراپاکستا ن میں رہنا کسی بھی طرح مناسب نہیں لہٰذاانھوں نے مجھ سے مطالبہ کیاکہ میں فی الفورملک سے باہر چلاجاؤں اور باہر رہ کر کارکنوں کی رہنمائی کروں،اپنے ساتھیوں کے مسلسل اور بے حد اصرار اور پرزوردرخواست پر میں یکم جنوری 1992 کو پہلے عمرہ کرنے سعودی عرب گیااور کچھ عرصے بعدوہاں سے لندن آگیا؟کیامسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف نے8 سال ملک سے باہر نہ گزارے ؟
کیا محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور صدر آصف علی زرداری نے جلاوطنی نہیں گزاری ؟ یہاں یہ سب بیان کرنے کا مقصد سوائے اس کے کچھ نہیں کہ ہماری معززعدلیہ اور مقننہ کو اس بات پرغورکرنا چاہیے کہ کوئی آدمی حصول معاش یاعلم کے حصول کیلیے ہجرت کرتاہے ،تو کسی کو ریاستی مظالم ہجرت کرنے پر مجبورکردیتے ہیں،لہٰذا ہماری معزز ومحترم عدلیہ اورمقننہ کودہری شہریت کے معاملے کے فیصلوں پرنظر ثانی کرنی چاہیے اورعلامہ ڈاکٹر طاہر القادری سمیت کسی بھی پاکستانی شہری کے دوسرے ملک کی شہریت اختیار کرنے کے عمل کوشک کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے ان حالات اورمشکلات کو پیش نظر رکھناچاہیے۔
میں ان بیان کردہ حقائق کی روشنی میں تمام دانشوروں اوراہل قلم حضرات کو دعوت فکر دیتاہوں کہ وہ میرے بیان کردہ حقائق اور پیش کردہ ثبوت وشواہد کے جواب میں مجھ پر جتنی چاہیں شوق سے تنقیدکریں میں ان کی تنقید کاخوش دلی سے خیرمقدم کروں گالیکن میری درخواست ہوگی کہ سوال جواب اوراعتراض جوبھی ہووہ دلائل اورثبوت وشواہدکی روشنی میں ہو،میں ان دعاؤںکے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ پاکستان پراپنارحم وکرم فرمائے اورعوام میرے بیان کردہ آج کے اس مقدمے کوجسے میں نے سیاسی ڈرون دھماکے سے تعبیر کیااس کے ایک ایک لفظ پر غورکرکے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کریں کہ میں کہاں تک درست ہوںاور کہاں تک غلط۔