دہشت گردوں نے کوئٹہ اور مینگورہ کو خون میں نہلادیا 4دھماکوں میں 115جاں بحق 285زخمی
مکی مسجد مینگورہ میںنماز مغرب کے بعدبمبار نے خود کو اڑا دیا، 22 شہید ، 110 زخمی،انسانی اعضا بکھر گئے
کوئٹہ:باچاخان چوک پر ہونے والے بم دھماکے کے بعد جائے وقوع پر رضاکار امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں جبکہ تباہ ہونے والی موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں بھی نظرآرہی ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
دہشت گردوں نے کوئٹہ اور مینگورہ کو خون میں نہلا دیا، 4 بم دھماکوں میں 115فراد جاں بحق 285زخمی ہوگئے۔
کوئٹہ میں 3 بم دھماکوں کے نتیجے میں 93 افراد جاں بحق اور 175 سے زائد زخمی ہوئے ۔ جمعرات کی سہہ پہر باچا خان چوک پر ایف سی کی چیک پوسٹ کے قریب بم دھماکے میں 3 اہلکاروں ، ایک بچے سمیت 12 افراد جاں بحق اور 56 زخمی ہو گئے۔ دھماکے کی آواز کئی کلو میٹر دور تک سنی گئیں، دھماکے سے سڑک پر گہرا گڑھا پڑ گیا جبکہ قریبی عمارتوں، دکانوں اور 10 سے زائد گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا، ایف سی کی گاڑی بھی تباہ ہو گئی۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق دھماکے میں 20 سے 25 کلو گرام بارودی مواد استعمال اور ٹائم ڈیوائس کے ذریعے بلاسٹ کیا گیا، مواد گاڑی کے نیچے نصب کیا گیا تھا۔
پہلے دھماکے کے چند گھنٹوں بعد رات 9 بجے کے قریب ایئر پورٹ کو جانے والے علمدار روڈ پر یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے، جس میں ایس پی قائد آباد طارق مسعود، ڈی ایس پی مجاہد حسین ، ایس ایچ او ظفر علی،5 پولیس اہلکاروں ، ایک نجی ٹی وی سماء کے کیمرہ مین عمران شیخ ، ایک مقامی رپورٹر، ایدھی کے چار رضا کاروں سمیت 81 افراد جاں بحق او121 سے زائد زخمی ہوگئے۔ پولیس نے علاقے کا محاصرہ کرلیا ہے۔ پہلا دھماکا رحمت اللہ چوک پر واقع اسنوکر کلب میں ہوا، دھماکے کے بعد امدادی ٹیمیں اور پولیس کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ امدادی ٹیموں نے زخمی افراد کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا۔
اس اثناء میں عمارت کے باہر گاڑی میں نصب دھماکا ہو گیا۔ پولیس حکام کے مطابق علمدار روڈ پر ہونے والے دونوں دھماکے خودکش تھے ، جبکہ بعض حکام کے مطابق پہلا دھماکا خودکش تھا ، جبکہ دوسرا بارود سے بھری گاڑی کا ہو سکتا ہے۔ ڈی آئی جی کوئٹہ حامد شکیل کے مطابق علمدار روڈ پر ہونے والا پہلا دھماکا خودکش تھا، جبکہ دوسرا کسی گاڑی کو بارود سے اڑانے کا ہو سکتا ہے۔دھماکوں سے ایمبولینسوں کو بھی نقصان پہنچا۔ زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، علمدار روڈ دھماکوں کے شدید زخمیوں کو سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ دھماکوں کے بعد اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔این این آئی کے مطابق کالعدم لشکرجھنگوی نے علمدار روڈ پر دونوں بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کرلی، ترجمان ابوبکرصدیق نے جمعرات کی شب نامعلوم مقام سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے دفاتر ٹیلیفون کر کے کہاکہ پہلا فدائی حملہ خودکش جیکٹس اور دوسرا گاڑی کے ذریعے کیاگیا۔مینگورہ کے نواحی علاقہ تختہ بند میں تبلیغی مکی مسجد میں نماز مغرب کے فوری بعد خودکش حملہ میں 22 افراد شہید جبکہ 110 سے زائد زخمی ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق جب مغرب کی نماز سے لوگ فارغ ہوکر وعظ سننے کیلیے جمع ہونا شروع ہوئے تھے کہ دوسری صف میںاور 13 نمبر ستون کیساتھ بیٹھے حملہ آور نے خود کو اڑا دیا،دھماکہ کے بعد ہرطرف چیخ وپکار شروع ہوگئی، اور ہرطرف خون اور انسانی بکھر گئے ،کئی افراد نے موقع پر ہی دم توڑ دیا، جبکہ زخمیوں کو سید وشریف کے سینٹرل اسپتال منتقل کیا گیا، اسپتال ذرائع کے مطابق دھماکے میں 22 افراد شہید اور 110 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے،جن میں سے متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
بمبار کا آدھا سر، ٹانگیں برآمد ہوئیں جسے پولیس نے قبضے میں لے لیا، ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور کی عمر 25 سے30 سال تھی اور پستہ قد تھا،شکل سے غیر ملکی لگ رہا تھا، ذرائع کے مطابق بمبار نے چار سے پانچ کلو بارودی مواد جسم سے باندھ رکھا تھا۔ادھر ڈی پی او گل افضل آفریدی نے میڈیا کو بتایا کہ مکی مسجد میں دھماکہ گیس سیلنڈر کی وجہ سے ہوا ۔بم دھماکوں کی صدر،وزیراعظم و دیگر نے مذمت کی۔
کوئٹہ میں 3 بم دھماکوں کے نتیجے میں 93 افراد جاں بحق اور 175 سے زائد زخمی ہوئے ۔ جمعرات کی سہہ پہر باچا خان چوک پر ایف سی کی چیک پوسٹ کے قریب بم دھماکے میں 3 اہلکاروں ، ایک بچے سمیت 12 افراد جاں بحق اور 56 زخمی ہو گئے۔ دھماکے کی آواز کئی کلو میٹر دور تک سنی گئیں، دھماکے سے سڑک پر گہرا گڑھا پڑ گیا جبکہ قریبی عمارتوں، دکانوں اور 10 سے زائد گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا، ایف سی کی گاڑی بھی تباہ ہو گئی۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق دھماکے میں 20 سے 25 کلو گرام بارودی مواد استعمال اور ٹائم ڈیوائس کے ذریعے بلاسٹ کیا گیا، مواد گاڑی کے نیچے نصب کیا گیا تھا۔
پہلے دھماکے کے چند گھنٹوں بعد رات 9 بجے کے قریب ایئر پورٹ کو جانے والے علمدار روڈ پر یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے، جس میں ایس پی قائد آباد طارق مسعود، ڈی ایس پی مجاہد حسین ، ایس ایچ او ظفر علی،5 پولیس اہلکاروں ، ایک نجی ٹی وی سماء کے کیمرہ مین عمران شیخ ، ایک مقامی رپورٹر، ایدھی کے چار رضا کاروں سمیت 81 افراد جاں بحق او121 سے زائد زخمی ہوگئے۔ پولیس نے علاقے کا محاصرہ کرلیا ہے۔ پہلا دھماکا رحمت اللہ چوک پر واقع اسنوکر کلب میں ہوا، دھماکے کے بعد امدادی ٹیمیں اور پولیس کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ امدادی ٹیموں نے زخمی افراد کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا۔
اس اثناء میں عمارت کے باہر گاڑی میں نصب دھماکا ہو گیا۔ پولیس حکام کے مطابق علمدار روڈ پر ہونے والے دونوں دھماکے خودکش تھے ، جبکہ بعض حکام کے مطابق پہلا دھماکا خودکش تھا ، جبکہ دوسرا بارود سے بھری گاڑی کا ہو سکتا ہے۔ ڈی آئی جی کوئٹہ حامد شکیل کے مطابق علمدار روڈ پر ہونے والا پہلا دھماکا خودکش تھا، جبکہ دوسرا کسی گاڑی کو بارود سے اڑانے کا ہو سکتا ہے۔دھماکوں سے ایمبولینسوں کو بھی نقصان پہنچا۔ زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، علمدار روڈ دھماکوں کے شدید زخمیوں کو سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ دھماکوں کے بعد اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔این این آئی کے مطابق کالعدم لشکرجھنگوی نے علمدار روڈ پر دونوں بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کرلی، ترجمان ابوبکرصدیق نے جمعرات کی شب نامعلوم مقام سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے دفاتر ٹیلیفون کر کے کہاکہ پہلا فدائی حملہ خودکش جیکٹس اور دوسرا گاڑی کے ذریعے کیاگیا۔مینگورہ کے نواحی علاقہ تختہ بند میں تبلیغی مکی مسجد میں نماز مغرب کے فوری بعد خودکش حملہ میں 22 افراد شہید جبکہ 110 سے زائد زخمی ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق جب مغرب کی نماز سے لوگ فارغ ہوکر وعظ سننے کیلیے جمع ہونا شروع ہوئے تھے کہ دوسری صف میںاور 13 نمبر ستون کیساتھ بیٹھے حملہ آور نے خود کو اڑا دیا،دھماکہ کے بعد ہرطرف چیخ وپکار شروع ہوگئی، اور ہرطرف خون اور انسانی بکھر گئے ،کئی افراد نے موقع پر ہی دم توڑ دیا، جبکہ زخمیوں کو سید وشریف کے سینٹرل اسپتال منتقل کیا گیا، اسپتال ذرائع کے مطابق دھماکے میں 22 افراد شہید اور 110 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے،جن میں سے متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
بمبار کا آدھا سر، ٹانگیں برآمد ہوئیں جسے پولیس نے قبضے میں لے لیا، ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور کی عمر 25 سے30 سال تھی اور پستہ قد تھا،شکل سے غیر ملکی لگ رہا تھا، ذرائع کے مطابق بمبار نے چار سے پانچ کلو بارودی مواد جسم سے باندھ رکھا تھا۔ادھر ڈی پی او گل افضل آفریدی نے میڈیا کو بتایا کہ مکی مسجد میں دھماکہ گیس سیلنڈر کی وجہ سے ہوا ۔بم دھماکوں کی صدر،وزیراعظم و دیگر نے مذمت کی۔