مشیروں کو انتظامی اختیارات نہیں دیے جاسکتےسندھ ہائیکورٹ
آئین کے تحت مشیروں کووزیرکااختیارمل سکتاہے نہ وزیراعلیٰ ایسااختیاردینے کامجازہے
مشیرسے صرف مشاورت ہوسکتی ہے ان کے ذریعے فیصلوں پرعمل درآمدنہیں کرایاجاسکتا۔ فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مشیروں کوانتظامی اختیارات نہیں دیے جاسکتے۔
آئین کے تحت وزیر اعلیٰ کے مشیروں کو وزیر کا اختیار نہیں دیاجاسکتا،خود وزیر اعلیٰ بھی مشیروں کو وزیرکو اختیاردینے کے مجاز نہیں،مشیرسے صرف مشاورت کی جاسکتی ہے ان کے ذریعے فیصلوں پرعمل درآمدنہیں کرایاجاسکتا،چیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں2رکنی بینچ نے یہ رائے مشیروںکی تقرری سے متعلق حکومت سندھ کی نظرثانی کی درخواست نمٹاتے ہوئے دی، حکومت سندھ نے اپنی نظرثانی کی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ فاضل عدالت نے گزشتہ سال30مئی کوزائدمشیروںکی تقرری سے متعلق درخواست نمٹادی تھی۔
تاہم اس درخواست میں ایڈیشنل یڈووکیٹ جنرل نے غلطی سے یہ بیان دیدیاتھاکہ وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیروںکوکوئی قلمدان نہیں دیاگیا۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل یہ بیان دیناچاہتے تھے کہ مشیروں کووزیر کے اختیارات نہیں دیے گئے،آئین کے آرٹیکل130(11)کے تحت وزیر اعلیٰ5مشیرتقرر کر سکتے ہیں تاہم انہیں وزیرکے اختیارات تفویض نہیں کیے گئے۔
حکومت سندھ کی نظرثانی کی درخواست میں موقف اختیارکیاگیاکہ سندھ ایڈوائزرایکٹ 2003کے تحت وزیر اعلیٰ کی سفارش پرصوبے کے گورنرکو وزیر اعلیٰ کے لیے مشیر مقرر کرنے کا اختیار ہے اور 18مئی2003کے گزٹ نوٹیفکیشن کے تحت مشیر، وزیر اعلیٰ کی جانب سے تفویض کردہ اختیارات کااستعمال کرسکتاہے اوروزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے تفویض کردہ اختیارات کااستعمال قانونی وآئینی ہے۔
آئین کے تحت وزیر اعلیٰ کے مشیروں کو وزیر کا اختیار نہیں دیاجاسکتا،خود وزیر اعلیٰ بھی مشیروں کو وزیرکو اختیاردینے کے مجاز نہیں،مشیرسے صرف مشاورت کی جاسکتی ہے ان کے ذریعے فیصلوں پرعمل درآمدنہیں کرایاجاسکتا،چیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں2رکنی بینچ نے یہ رائے مشیروںکی تقرری سے متعلق حکومت سندھ کی نظرثانی کی درخواست نمٹاتے ہوئے دی، حکومت سندھ نے اپنی نظرثانی کی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ فاضل عدالت نے گزشتہ سال30مئی کوزائدمشیروںکی تقرری سے متعلق درخواست نمٹادی تھی۔
تاہم اس درخواست میں ایڈیشنل یڈووکیٹ جنرل نے غلطی سے یہ بیان دیدیاتھاکہ وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیروںکوکوئی قلمدان نہیں دیاگیا۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل یہ بیان دیناچاہتے تھے کہ مشیروں کووزیر کے اختیارات نہیں دیے گئے،آئین کے آرٹیکل130(11)کے تحت وزیر اعلیٰ5مشیرتقرر کر سکتے ہیں تاہم انہیں وزیرکے اختیارات تفویض نہیں کیے گئے۔
حکومت سندھ کی نظرثانی کی درخواست میں موقف اختیارکیاگیاکہ سندھ ایڈوائزرایکٹ 2003کے تحت وزیر اعلیٰ کی سفارش پرصوبے کے گورنرکو وزیر اعلیٰ کے لیے مشیر مقرر کرنے کا اختیار ہے اور 18مئی2003کے گزٹ نوٹیفکیشن کے تحت مشیر، وزیر اعلیٰ کی جانب سے تفویض کردہ اختیارات کااستعمال کرسکتاہے اوروزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے تفویض کردہ اختیارات کااستعمال قانونی وآئینی ہے۔