مقبوضہ کشمیر پلوامہ میں ہڑتال جاری یاسین ملک گرفتار

پلوامہ میں مظاہرے، سری نگر سے گرفتارحریت رہنما یاسین ملک سینٹر جیل منتقل کردیا گیا

انتظامیہ کپواڑہ کے عبدالاحد پرہ سمیت 9 افراد کو فوری رہا کرے، ہائیکورٹ۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں نوجوانوں کی شہادت پر پلوامہ میں اتوار کو چوتھے روز بھی مکمل ہڑتال کی گئی، اس موقع پر علاقے میں تمام کاروباری مراکز بند، شاہراہوں پر ٹریفک معطل رہی۔

ضلع پلوامہ کے علاقے ٹہاب میں لوگ احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے اور بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں زبردست نعرے لگائے جس کے بعد بھارتی فوجیوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس کی شدید شیلنگ کی جس کے باعث متعدد افراد زخمی ہو گئے۔

دوسری جانب سری نگر میں بھارتی پولیس نے جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو رہائش گاہ سے گرفتار کرلیا، یاسین ملک کو حریت رہنماؤں اور کارکنوں سمیت بڑی تعداد میں عام کشمیریوں کی مسلسل غیرقانونی نظربندی کے خلاف آج سرینگر کے علاقے لال چوک میں ایک احتجاجی دھرنے میں شرکت کرنا تھی۔ دھرنے کی کال متحدہ مزاحمتی قیادت نے دے رکھی ہے۔

ادھر یاسین ملک کو گرفتاری کے بعد سینٹرل جیل سرینگر منتقل کیا گیا۔ یاد رہے کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق پہلے ہی سرینگر میں اپنے گھروں میں نظر بند ہیں۔ دریں اثنا سرینگر میں مقبوضہ کشمیر میں ہائیکورٹ نے مسلم لیگ جموں وکشمیر کے سینئر رہنما عبدالاحد پرہ سمیت9 بیگناہ کشمیریوں کی نظربندی کو کاالعدم قراردیا ہے جنھیں کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔


علاوہ ازیں ضلع کپواڑہ کے علاقے کرالہ گنڈ سے تعلق رکھنے والے عبدالاحد پرہ کی نظربندی کو کالعدم قراردیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ متعلقہ حکام نے قیدی کے آئینی اور قانونی حقوق سلب کیے ہیں اور حکام کو عبدالاحد پرہ کو فوری طور پررہا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے نثار احمدپرے، سمیر احمدڈار، عرفان مجید لون، محمد عباس بٹ، مدثر احمد وگے، فاروق احمد وگے، زبیر احمد تانترے اور منظور احمد لون کی نظربندی کے احکام کو بھی کالعدم قراردیا۔

کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بھارت کشمیری حریت رہنماؤں اور کارکنوں کو جموںکشمیر پراس کے جبری قبضے کے خلاف جدوجہد کی پاداش میں جھوٹے مقدمات میں ملوث کر رہا ہے۔ میر واعظ عمرفاروق کی صدارت میں سرینگر میں منعقدہ ایک اجلاس میںآزادی پسند رہنماؤ ںکی پرامن سیاسی سرگرمیوں پر پابندی ، پرامن مظاہروں میں رکاوٹیں ، پیلٹ بندوقوں کے مسلسل استعمال ، قتل ، تشدد ، گرفتاریوں اور جبر و استبداد کے دیگر بھارتی ہتھکنڈوں کی شدید مذمت کی۔

دریں اثنا ادھر کشمیری نمائندے سید فیض نقشبندی نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 34ویں اجلاس کے موقع پر مذہبی حقوق سے متعلق عالمی ادارے کے خصوصی نمائندے احمد شہید کے ساتھ ملاقات کی اور انھیں مقبوضہ کشمیرمیں بھارت کی طرف سے عائد مذہبی پابندیوںکے بارے میں آگاہ کیا۔

 
Load Next Story