اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل عرفان سے باز پُرس آج ہوگی شاہ زیب کی کل پیشی

بکی کیساتھ کس طرح رابطہ ہوا، کیا باتیں ہوئی؟ پیسر کو تندوتیز سوالوں کا سامنا ہو گا۔

حیران کن طور پر معاملے سے جڑے ایک اور پلیئر ذوالفقار بابرکو بلانے سے گریز کیا گیا۔ فوٹو؛ فائل

پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کی مزید پرتیں کھولنے کی کوشش پیر کو ہوگی، محمد عرفان پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کے سامنے پیش ہوں گے۔

پی ایس ایل 2 کے پہلے ہی میچ کے بعد اسلام آباد یونائیٹڈ کے بیٹسمینوں شرجیل خان اور خالد لطیف کو اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں معطل کرتے ہوئے وطن واپس روانہ کردیا گیا تھا، پی سی بی اینٹی کرپشن کا دعوٰی تھا کہ انھوں نے کرکٹرز کے بکی کیساتھ روابط کی کھوج لگائی ہے، اسی ٹیم کے بولر محمد عرفان، کراچی کنگز کے شاہ زیب حسن اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرزکے ذوالفقار بابر بھی شکوک کی زد میں آئے اور ان سے بھی تفتیش کی گئی، بعد ازاں پی ایس ایل کی گورننگ کونسل کے سربراہ نجم سیٹھی نے کہا تھا کہ ان تینوں کرکٹرز کو کلیئرقرار دیدیا گیا، ان کے علاہ دیگر کو بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

چیئرمین پی سی بی شہریار خان کا کہنا تھا کہ دیگر کلیئر لیکن محمد عرفان سے تحقیقات ہونگی، طویل قامت پیسر صرف ایک میچ سے ڈراپ کیے جانے کے بعد مسلسل میچز کھیلتے نظر آئے، پی سی بی نے شرجیل خان اور خالد لطیف کو 18فروری کو چارج شیٹ جاری کرتے ہوئے 14دن میں جواب طلب کیا، دونوں کرکٹرز نے فکسنگ اور بدعنوانی کے الزامات کو مسترد کردیا، ان کا کہنا تھا کہ فکسنگ کی، نہ ملک کا نام داغدار کیا، صرف بکی کے رابطے کی اطلاع نہ کرنے کے قصور وار ہیں، الزامات سے انکار پر پی سی بی نے جسٹس(ر)اصغر حیدر، سابق چیئرمین پی سی بی توقیر ضیا اور سابق کپتان و منیجر وسیم باری پر مشتمل ٹریبیونل قائم کردیا تھا۔

دوسری جانب اسی کیس سے متعلق مزید پرتیں کھولنے کیلیے محمد عرفان اور شاہ زیب کو اینٹی کرپشن یونٹ کے سامنے پیش ہونے کیلیے سمن جاری کیاگیا تھا، طویل قامت پیسر پیر کو پی سی بی کو رپورٹ کریں گے جبکہ شاہ زیب حسن کومنگل کے دن تندوتیزسوالوں کا سامنا رہے گا۔


ذرائع کے مطابق دونوں کھلاڑیوںسے بکیز کیساتھ رابطے اور اسپاٹ فکسنگ کی تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی،حکام ثبوتوں اور اب تک کی جانے والی انکوائری کو سامنے رکھتے ہوئے جوابات طلب کرینگے، ان سے پوچھا جائے گا کہ بکی سے کس طرح رابطہ ہوا، کیا باتیں ہوئیں، تسلی بخش جواب نہ ملنے پر چارج شیٹ تیار کی جائے گی، بیانات کا ویڈیو ریکارڈ بھی رکھا جائے گا۔ یاد رہے کہ سابق کرکٹرزکی اکثریت اس بات پرحیرت کا اظہار کر رہی ہے کہ ایک جرم میں 2کرکٹرز کو معطل کردیا گیا جبکہ دیگرکیخلاف کارروائی میں اتنی تاخیر کردی گئی۔

نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ شرجیل خان نے اپنی اننگزمیں ویسا ہی کیا جس کا سراغ اینٹی کرپشن یونٹ لگاچکا تھا لیکن خالد لطیف تومیچ ہی نہیں کھیلے، محمد عرفان اور شاہ زیب حسن سے معلومات حاصل کرنے کا مقصد دونوں معطل کرکٹرز کیخلاف کیس مضبوط کرنا بھی ہوسکتا ہے، حیرت کی بات ہے کہ اسی اسکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث ذوالفقار بابر کو بلانے سے گریز کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق شرجیل خان اور خالد لطیف کے کیس کی سماعت کیلیے تشکیل دیے جانے والے 3رکنی ٹریبیونل نے بھی رواں ہفتے کارروائی کا آغاز کرنا ہے تاہم پی سی بی کی جانب سے تاحال باقاعدہ طور پر کوئی شیڈول جاری نہیں کیا گیا جبکہ محمد عرفان اور شاہ زیب حسن سے تفتیش میں مزید ثبوت ہاتھ لگنے پر کارروائی میں تیزی آسکتی ہے۔

 
Load Next Story