داڑھی سنت انبیا ہے مصری مفتی اعظم کا فتویٰ درست نہیںعلما

داڑھی رکھنا واجب ہے، احادیث میں داڑھی بڑھانے کے واضح احکام ہیں

چیئرمین مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ مصر کے مفتی اعظم کا فتویٰ شریعت کے خلاف ہے فوٹو: فائل

مختلف مکاتب فکر کے علما ئے کرام نے مصر کے مفتی اعظم علی جمعہ کی جانب سے داڑھی کی شرعی حیثیت پر جاری فتوے کو اسلام اور نبی آخرالزماں حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات کے منافی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ داڑھی سنت انبیا ہے اور مستند احادیث میں داڑھی بڑھانے کا حکم دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ داڑھی رکھنے کے معاملے میں فقہ کرام، آئمہ، بزرگان دین اور مفتیان کرام مکمل طور پر متفق ہیں۔دارالعلوم کراچی کے مہتمم مفتی رفیع عثمانی نے کہا ہے کہ یہ فتویٰ بالکل غلط ہے۔ رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ مصر کے مفتی اعظم کا فتویٰ شریعت کے خلاف ہے، یہ فتویٰ کسی صورت تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ امیر جمیعت اہلحدیث پاکستان مفتی عبیداﷲ عفیف نے کہا کہ داڑھی انبیا کرام کی سنت ہے۔




ترمذی، نسای، بخاری میں داڑھی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، حضرت موسیٰ ؑ کے واقعے سے بھی ثابت ہے کہ انھوں نے کوہ طور سے واپسی پر حضرت ہارون کی داڑھی کو پکڑا تھا، امام شافعی، امام مالک سمیت تمام فقہ کرام اس معاملے پر متفق ہیں بعض مفتیان کرام داڑھی رکھنے کو فرض تک قرار دیتے ہیں۔ مولانا سید علی محمد نقوی نے کہا ہے کہ فقہ جعفریہ میں داڑھی مونڈھنا حرام ہے،جامعۃ الازہر کی جانب سے دیا جانے فتویٰ شریعت کے منافی ہے۔
Load Next Story