مردم شماری آئینی و قومی ذمے داری

شہری سندھ اور کراچی میں سیاسی کشمکش اور آبادی کو دانستہ کم ظاہر کرنے کی تشویش بھی موجود ہے

: فوٹو : فائل

ملک بھر میں مردم شماری بدھ سے شروع ہورہی ہے۔ مردم شماری محض آبادی کا شماریاتی ڈیٹا جمع کرنے تک محدود نہیں بلکہ مردم شماری قومی اقتصادی ترقی اور کثیرالمقاصد وطویل المیعاد منصوبہ بندی سے منسلک ایک ٹھوس بنیاد ہے جس پر شفاف ترقیاتی میکنزم استوار ہوتا ہے اور وفاق و صوبوں کو دستیاب افرادی قوت کے روڈ میپ کے تناسب اور اعداد وشمار کے آئینہ میں مستقبل کی سماجی اور انسانی وسائل کی بنیاد پر منصوبہ بندی کے لیے ایک باقاعدہ شماریاتی نقشہ مل جاتا ہے جس کے ذریعے حکومت کے لیے معاشی منزل تک پہنچنا آسان ہوجاتا ہے۔ تاہم کتنی بڑی بد نصیبی ہے کہ 19 سال کے بعد مردم و خانہ شماری ہورہی ہے ۔ حکومتی اعلان کے مطابق 15مارچ سے اس کا آغاز ہوگا جو25 مئی تک مرحلہ وار مہم مکمل کرلی جائے گی۔

2 لاکھ فوجیوں کی خدمات حاصل کی جا چکی ہیں، مردم شماری میں دہری شہریت حاصل کرنے والوں سمیت سب کو شمار کیا جائے گا، مردم شماری عملے کو غلط معلومات دینے پر 6 ماہ قید اور50 ہزار روپے جرمانہ ہوگا، مردم شماری پر 18.5 ارب روپے لاگت آئیگی، انتظامات کے وسیع تر تناظر میں سیکیورٹی اور شفاف مردم شماری کو ہر قیمت پر یقینی بنانے کا پختہ عہد کیا گیا ہے اور یہی وہ پیمانہ ہے جس پر عمل کرکے تمام سیاسی سٹیک ہولڈرز اور عوام کو مطمئن کیا جا سکتا ہے تاہم اس قومی کاز کی تکمیل میں جتنا ہوسکتا ہے سیاسی رہنماؤں ، مذہبی اکابرین، قبائلی عمائدین اور سول سوسائٹی کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مردم شماری کے لیے ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

چنانچہ مردم شماری کے لیے فارموں کی تقسیم اور انھیں پر کرنے کے بعد واپس عملہ کو لوٹانے کا میکنزم انتہائی سہل اور فالٹ فری طریقے سے روبہ عمل لایا جائے، سیکیورٹی پوائنٹ آف ویو سے یہ طے ہوا ہے کہ ہر شمار کنندہ کے ساتھ ایک فوجی ہوگا ، سیکیورٹی حکام نے ہر خطرے سے نمٹنے کی بھرپور تیاری کررکھی ہے، یہ پیشگی اقدامات دہشتگردی اور بعض سیاسی جماعتوں کے خدشات اور تحفظات کے پیش نظر ناگزیر ہیں، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں زمینی حقائق، بارشوں ، سیلاب، قدرتی آفات اور مختلف گھرانوں کی نقل مکانی یا عدم دستیابی کے حوالے سے مردم شماری کو کچھ وقت کے لیے موخر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ، افغان پناہ گزینوں کی واپسی پر بھی زور دیا جارہا ہے جب کہ شہری سندھ اور کراچی میں سیاسی کشمکش اور آبادی کو دانستہ کم ظاہر کرنے کی تشویش بھی موجود ہے جس کا فوری ازالہ ہونا چاہیے تاکہ کسی قسم کا تعطل پیدا نہ ہو، کوشش ہونی چاہیے کہ اس عمل کی تکمیل بلا روک ٹوک ہو اور کسی کو مردم شماری کی شفافیت پر کوئی شکایت نہ ہو ۔


وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ مردم شماری کے لیے سندھ میں اضافی سیکیورٹی کے لیے وفاق کو وسائل فراہم کرنے ہوں گے کیونکہ مردم شماری کے لیے صوبوں کو وسائل سے وفاق کٹوتی کرچکا ہے ، وزیراعلیٰ سندھ نے مردم شماری کے لیے شناختی کارڈ کی شرط کو نرم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے،ان کا کہنا ہے کہ شناختی کارڈ نہ ہونے کی صورت میں دیگردستاویزات سے تصدیق کرلی جائے۔ یہ جائز تجویز ہے کیونکہ لاکھوں شہریوں کو تاحال اپنے شناختی کارڈ نہیں ملے ، لیاری گینگ وار کے باعث خاندان تقسیم ہوئے، ہزاروں افراد روپوش ہیں، گمشدہ کارڈز کے ڈپلیکیٹ اتنی جلدی نہیں بن سکتے، اس لیے برتھ سرٹیفکیٹس بطور شواہد قابل قبول ہونے چاہئیں۔

یہ بھی صائب تجویزہے کہ مردم شماری قومی جذبہ اور بلا خوف اس طرح کرائی جائے کہ ہر شہری شمار ہو سکے، مردم شماری کا ڈیٹا روزانہ عام کیا جائے، ویب سائٹ کے ساتھ ڈسٹرکٹ آفسز میں فہرست لگائی جائے، مردم شماری کے حوالے سے شکایات کا فوری طور پرازالہ کیا جائے۔ یہ کام احسن طریقے سے ان ایک لاکھ 18 ہزار900 افراد کے ذریعہ مکمل کیا جاسکتا ہے جنہیں اس تکنیکی کام کی خصوصی تربیت دی جاچکی ہے۔مردم شماری کی شفافیت کے لیے ہر شمارکنندہ کے ساتھ موجود سپاہی کا لنک نادرا سے ہوگا۔

وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اورڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اتوار کو ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مردم شماری آئینی ذمے داری ہے، 19 سال بعد اس عمل سے گزر رہے ہیں، مریم اورنگزیب نے کہا کہ پہلے صوبائی نتائج شایع ہوںگے پھر مرحلہ وار مرد وخواتین کا تناسب ، دیہی و شہری تناسب اور خواجہ سراؤں کی تعداد کے حوالے سے نتائج شایع کیے جائیں گے ۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ملک دشمن عناصر مردم شماری کے دوران تخریب کاری کرسکتے ہیں، اس لیے مختلف شہروں اور دیہات میں مردم شماری کے لیے پاک فوج کے دستے پہنچ گئے ہیں۔ ملک بھر میں ہونے والی چھٹی مردم شماری کے سلسلہ میں جہاں ضلعی انتظامیہ کے مختلف محکموں کے افسران اور محکمہ تعلیم کے اساتذہ کی ایک بڑی تعداد مردم شماری میں حصہ لے رہی ہے وہاں ان کی معاونت اور سیکیورٹی کو فول پروف بنانے کے لیے پاک فوج کی خدمات حاصل کرکے قوم کو اس بات کی ضمانت دی گئی کہ مردم شماری میں انشا اﷲ اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق مکمل کی جائے گی۔
Load Next Story