سرمایہ کاری حکمت عملی 201720 متعارف کرانے کا فیصلہ
نئی سرمایہ کاری پر ڈیوٹی ٹیکسز میں رعایت ودیگر مراعات فراہم، تقاضے پوری کرنے کیلیے نیاڈپارٹمنٹ قائم کیا جائے گا
3سالہ اسٹریٹجی کا ابتدائی مسودہ تیار،22 مارچ کو بی اوآئی کی ایگزیکٹوکمیٹی کو پیش کیا جائے گا،اجلاس میں10نکاتی ایجنڈے پرغورہوگا۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
وفاقی حکومت نے ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے نئی 3سالہ انویسٹمنٹ اسٹریٹجی 2017-20 متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ملکی وغیر ملکی سرمایہ کاروں کو نئی سرمایہ کاری پر ڈیوٹی و ٹیکسوں میں رعایت سمیت دیگر مراعات دی جائیں گی۔
'ایکسپریس' کو دستیاب دستاویز کے مطابق وفاقی حکومت نے نئی 3 سالہ انویسٹمنٹ اسٹریٹجی کا ابتدائی مسودہ تیار کرلیا ہے جو 22 مارچ کو سرمایہ کاری بورڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ دستاویز کے مطابق سرمایہ کاری بورڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس 22 مارچ 2017کو وزیر مملکت و چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ مفتاح اسماعیل کی زیر صدارت منعقد ہوگا جس میں10نکاتی ایجنڈے کا جائزہ لیا جائے گا تاہم حکومت نے انویسٹمنٹ پالیسی 2017 پر بھی نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دستاویز میں بتایا گیا کہ ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے دوران انویسٹمنٹ پالیسی میں مجوزہ ترامیم کا بھی جائزہ لیا جائیگا تاکہ ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور پورٹ فولیو انویسٹمنٹ کے ساتھ ساتھ مقامی سرمایہ کاری کو بھی فروغ دیا جاسکے جبکہ اجلاس میں سرمایہ کاری بورڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چوتھے اجلاس کے منٹس آف میٹنگ کی بھی منظوری دی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی 3سالہ انویسٹمنٹ اسٹریٹجی 2017-20 کے تحت سرمایہ کاروں کو ملک میں نئی سرمایہ کاری پر ڈیوٹی و ٹیکسوں میں چھوٹ اور رعایت سمیت دیگر مراعات فراہم کرنے کا اعلان کیا جائے گا۔ اس پالیسی کے تحت ملک میں سرمایہ کاری کے لیے ون ونڈو آپریشن کو موثر بنایا جائے گا تاکہ سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کرنے میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے، اس کے علاوہ ایک تجویز یہ بھی زیر غور ہے کہ سرمایہ کاری بورڈ کے ماتحت ایسا ڈپارٹمنٹ قائم کیا جائے جس میں سرمایہ کاری کے لیے درکار قانونی تقاضے پورے کرنے سے متعلق تمام اداروں کے متعلقہ افسران تعینات ہوں اور سرمایہ کاروں کی جانب سے نئی سرمایہ کاری کے لیے یا انڈسٹریل یونٹ لگانے کے لیے جو درخواست بھی آئے اس پر فوری ایکشن ہو اور ایک چھت تلے موجود تمام متعلقہ اداروں اور ڈپارٹمنٹس کے افسران کی طرف سے موقع پر ہی منظوری دی جائے تاکہ کاسٹ آف ڈوئنگ بزنس اور کاروبار شروع کرنے کے لیے درکار مدت میں بھی زیاہ سے زیادہ کمی ہوسکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔
وفاقی حکومت نے ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے نئی 3سالہ انویسٹمنٹ اسٹریٹجی 2017-20 متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ملکی وغیر ملکی سرمایہ کاروں کو نئی سرمایہ کاری پر ڈیوٹی و ٹیکسوں میں رعایت سمیت دیگر مراعات دی جائیں گی۔
'ایکسپریس' کو دستیاب دستاویز کے مطابق وفاقی حکومت نے نئی 3 سالہ انویسٹمنٹ اسٹریٹجی کا ابتدائی مسودہ تیار کرلیا ہے جو 22 مارچ کو سرمایہ کاری بورڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ دستاویز کے مطابق سرمایہ کاری بورڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس 22 مارچ 2017کو وزیر مملکت و چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ مفتاح اسماعیل کی زیر صدارت منعقد ہوگا جس میں10نکاتی ایجنڈے کا جائزہ لیا جائے گا تاہم حکومت نے انویسٹمنٹ پالیسی 2017 پر بھی نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دستاویز میں بتایا گیا کہ ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے دوران انویسٹمنٹ پالیسی میں مجوزہ ترامیم کا بھی جائزہ لیا جائیگا تاکہ ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور پورٹ فولیو انویسٹمنٹ کے ساتھ ساتھ مقامی سرمایہ کاری کو بھی فروغ دیا جاسکے جبکہ اجلاس میں سرمایہ کاری بورڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چوتھے اجلاس کے منٹس آف میٹنگ کی بھی منظوری دی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی 3سالہ انویسٹمنٹ اسٹریٹجی 2017-20 کے تحت سرمایہ کاروں کو ملک میں نئی سرمایہ کاری پر ڈیوٹی و ٹیکسوں میں چھوٹ اور رعایت سمیت دیگر مراعات فراہم کرنے کا اعلان کیا جائے گا۔ اس پالیسی کے تحت ملک میں سرمایہ کاری کے لیے ون ونڈو آپریشن کو موثر بنایا جائے گا تاکہ سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کرنے میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے، اس کے علاوہ ایک تجویز یہ بھی زیر غور ہے کہ سرمایہ کاری بورڈ کے ماتحت ایسا ڈپارٹمنٹ قائم کیا جائے جس میں سرمایہ کاری کے لیے درکار قانونی تقاضے پورے کرنے سے متعلق تمام اداروں کے متعلقہ افسران تعینات ہوں اور سرمایہ کاروں کی جانب سے نئی سرمایہ کاری کے لیے یا انڈسٹریل یونٹ لگانے کے لیے جو درخواست بھی آئے اس پر فوری ایکشن ہو اور ایک چھت تلے موجود تمام متعلقہ اداروں اور ڈپارٹمنٹس کے افسران کی طرف سے موقع پر ہی منظوری دی جائے تاکہ کاسٹ آف ڈوئنگ بزنس اور کاروبار شروع کرنے کے لیے درکار مدت میں بھی زیاہ سے زیادہ کمی ہوسکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔