شارع پاکستان 4 فلائی اوورز کے ویٹنگ کنسلٹنٹ کی ٹینڈرنگ پر اعتراضات

سب سے کم بولی دینے والی کمپنی کوکنسلٹنٹ تعینات کیا جائے،معترض حلقوں کا مطالبہ

سب سے کم بولی دینے والی کمپنی کوکنسلٹنٹ تعینات کیا جائے،معترض حلقوں کا مطالبہ, فوٹو فائل

RAWALPINDI:
شاہراہ پاکستان پر تعمیر کیے جانے والے چار فلائی اوورز کے ویٹنگ کنسلٹنٹ کیلیے ہونے والے ٹینڈرنگ کے عمل پر مختلف حلقوں کی طرف سے اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، اعتراض کرنے والے حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ویٹنگ کنسلٹنگ میں سب سے کم بولی دینے والی کمپنی کوکنسلٹنٹ تعینات کیا جائے۔


ذرائع نے بتایا کہ بلدیہ عظمیٰ نے ویٹنگ کنسلٹنٹ کے ٹینڈر میں کم بولی دینے والی کمپنی کے بجائے دوسرے نمبر پر بولی دینے والی کمپنی کا تقرر کردیا ہے اور یہ جواز پیش کیا ہے کہ ٹینڈرنگ کے عمل میں ٹیکنیکل اور فنانشل دو بولیاں طلب کی گئی تھیں جس کمپنی کو ٹینڈر دیا گیا ہے اگرچہ وہ سب سے کم بولی دینے والی کمپنی نہیں تھی تاہم ٹیکنیکل گراؤنڈ پر اس کے نمبر سب سے کم بولی دینے والے سے زیادہ تھے جس پر اس کو یہ کام ایوارڈ کیا گیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر بلدیہ عظمیٰ کے انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کی اس منطق کو تسلیم کرلیا جائے تو پھر ٹیکنیکل گراؤنڈ پر سب سے زیادہ نمبر نیسپاک کے تھے۔

نیسپاک انجینئرنگ کے حوالے سے پاکستان کا سب سے معتبر ادارہ ہے لہٰذا پھر یہ کام نیسپاک کو دیا جائے، ٹینڈرنگ کے عمل پر نظر رکھنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ سارا عمل فلائی اوور کا کام حاصل کرنے والے ٹھیکیداروں کی خواہش پر کیا گیا ہے، ان حلقوں نے بتایا کہ اب یہ کنسلٹنٹ کمپنی ان منصوبوں کا ڈیزائن تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہے جبکہ ویٹنگ کنسلٹنٹ ڈیزائن کی استعداد کا جائزہ لیتی ہے اور تعمیراتی کام کی نگرانی کرتی ہے، اگر ان منصوبوں کا ڈیزائن تبدیل کردیا گیا تو اس کا براہ راست فائدہ ٹھیکیداروں کو پہنچے گا اور وہ ڈیزائن کی تبدیلی کے بعد نئے نرخوں کی بنیاد پر یہ کام کریں گے۔
Load Next Story