دہشت گردی عالمی لائحہ عمل کی ضرورت

امن و ترقی کے دشمنوں کو مادر وطن کے امن و سلامتی میں خلل ڈالنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی

امن و ترقی کے دشمنوں کو مادر وطن کے امن و سلامتی میں خلل ڈالنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی. فوٹو: فائل

پیر کو وزیراعظم نوازشریف کی زیر صدارت سیکیورٹی سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔ ملک کی سیکیورٹی سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ امن و ترقی کے دشمنوں کو مادر وطن کے امن و سلامتی میں خلل ڈالنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی ۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے، آپریشن ردالفساد کی رفتار مزید تیز کی جائے۔

اجلاس میں آپریشن ''ردالفساد'' پر پیشرفت اور کامیابیوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں متفقہ طور پر اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ دہشت گردی اور انتہاء پسندی کا خاتمہ پاکستان کی سلامتی کے لیے پالیسی تقاضا ہے۔ اجلاس میں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کے علاوہ دیگر سینئر سول و عسکری حکام بھی موجود تھے۔

دہشت گردی کے عالمی عفریت کے تناظر میں سیکیورٹی اجلاس ایک قومی ضرورت کی ترجمانی بھی کرتا ہے اور ایک واشگاف پیغام بھی ہے جو پاکستان داخلی دشمنوں کے ساتھ ساتھ ان عالمی قوتوں کو جانا چاہیے جن کو امن و استحکام کی جدوجہد میں مصروف جمہوری ملکوں کو نہ صرف انتہا پسندوں سے محفوط رکھنے مین تعاون کرنا چاہیے بلکہ ان تمام جنگجویانہ انسانیت بیزار مسلح گروہوں کے قلع قمع کرنے میں مشترکہ انٹیلی جنس اور موثر دفاعی حکمت عملی میں معاونت کے وسائل مہیا کرنے چاہئیں تاکہ ایک ملک کا دشمن ساری انسانیت کا دشمن قرار پائے اور دہشتگردوں کو کہیں چھپنے کا راستہ نہ ملے، ایسی عالمگیر مشترکہ اسٹرٹیجی ہی دہشتگردوں کے عالمی مالیاتی اور اسلحہ فراہمی کا منظم گٹھ جوڑ کو توڑ کرسکتی ہے، اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ داعش ، طالبان سمیت دیگر مقامی ، بین الملکی اور عالمی دہشتگرد تنظیموں کا تعاقب بھی مربوط طریقے سے ہونا چاہیے ۔


عہد حاضر میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر ملک غیر قانونی اسلحے کی نوک پر آزاد و خود مختار جمہوریتوں کی مخالف مسلح تنظیموں سے مشترکہ طور پر نمٹنے کے وسائل یکجاکرے تاکہ امن عالم اور ملکی داخلی نظم کو سبوتاژ کرنے والوں کو صفایا ہو کیونکہ دفاعی میکنزم کی مشترکہ بنیاد پر اتفاق رائے ملکی سالمیت اور داخلی و خارجی خطرات سے نمٹنے کے لیے نسخہ کیمیا ہے۔ گزشتہ دنوںدہشتگردوںنے مزارات اور دیگر مقامات کو نشانہ بنا کر سیکیورٹی حکام کو للکارا جس کے بعد اس محاذ پر چوکس رہنے کی سیکیورٹی فورسز کو تقویت ملی ہے اور اب کوئی چارہ نہیں کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کو جنگی حکمت عملی اور غیر اعلانیہ جنگ کی صورت میں جاری رکھا جائے جب کہ ریاست مخالف عناصر جو بدامنی ، تخریب کاری ، دہشت گردی اور انارکی اور خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کررہے ہوں ان کوگربہ کشتن روز اول کے مصداق کچل دیا جائے۔

وزیراعظم نے پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی طرف سے اب تک کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ حکومتی اقدامات پر عملدرآمد کی رفتار مزید تیز کی جائے۔ اجلاس میں انسداد دہشت گردی کاوشوں سے متعلق مختلف قوانین کا بھی جائزہ لیا گیا اور ان قوانین کو مزید مؤثر بنانے کے طریقوں پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء نے فوج اور سول سیکیورٹی اہلکاروں اور پاکستان کے امن پسند لوگوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ امن اور ترقی کے دشمنوں کو کبھی بھی ملک کے امن و سلامتی کی صورتحال کو خراب کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ خوش آیند حقیقت ہے کہ مملکت خداداد میں انتہا پسندوں کے خلاف جس فعال اور جارحانہ و ہمہ گیر حکمت عملی کی ضرورت ایک عرصے سے محسوس کی جارہی تھی اس کے حقیقی ادارک کی جانب موجودہ سیاسی و عسکری قیادت کے مابین ہم آہنگی نے اہم کردار ادا کیا ہے، اس لیے دو طرفہ تعلقات کار اور مشترکہ وژن نے قوم کی صفوں میں اتفاق و اتحاد کی ایک نئی تحریک پیدا کی ہے اور پہلی بار وطن عزیز کے دشمنوں کے خلاف ایک واضح اور ہر قسم کے ابہام سے پاک ڈیٹرنس اور دفاعی تیاریوں کا نظام فعالیت کا مرکز بنا ہے جسے پوری معنویت کے ساتھ قومی فکر اور موثر دفاعی اسٹرٹیجی سے مربوط نظر آنے کی مزید ضرورت ہے تاہم یہ کھلی حقیقت ہے کہ ملکی سلامتی کی ضمانت ، معاشی استحکام اور جمہوری عمل کی کامیاب اور بہ سرعت پیش رفت ہی ملکی مفاد میں ہے اور جتنی توجہ اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر ہے اسی درجے کی مستعدی اور عملی پیش قدمی دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے انہدام اور مکمل خاتمے میں مضمر ہے۔

اس انداز نظر کو بھی غالباً ارباب حکومت اور عسکری قیادت نے اپنے سامنے رکھا ہے کہ دہشتگرد دو بدو مقابلہ نہیں کرتے، وہ غیر لچکدار اور کسی کے دوست نہیں ہوتے،ان کے سفاکانہ اہداف تک رسائی کے حیلے بہانے اور چور راستے بھی مخفی ہوتے ہیں، وہ گوریلا طرز جنگ سے بھی اجتناب برتتے ہیں اور عموماً بزدلانہ خود کش حملوں اور بم دھماکوں سے اپنے نرم ٹارگٹ کی تلاش میں رہتے ہیں، لہٰذا اب ان ہیں کوئی سافٹ ٹارگٹ بھی ہاتھ نہیں لگنا چاہیے۔
Load Next Story