جمہوریت کے ماڈل اور ورائیٹیاں

اس بات کا ٹھیک ٹھیک پتہ تو ان بین الاقوامی اداروں کو ہو گا جو دن بھر ہندسے لڑاتے ہیں

barq@email.com

اس بات کا ٹھیک ٹھیک پتہ تو ان بین الاقوامی اداروں کو ہو گا جو دن بھر ہندسے لڑاتے ہیں کہ کس ملک کا کس معاملے میں کونسا نمبر ہے یا کہ پاکستان کا کس کام، معاملے یا بات میں کونسا واں نمبر ہے لیکن صرف ایک معاملے میں ہم یقینی طور پر بتا سکتے ہیں کہ اس میں پاکستان کا نمبر سب سے پہلا ہے اور وہ معاملہ ہے جمہوریت کا، اب تک جمہوریت کی جتنی اقسام اور ورائیٹیاں پاکستان نے متعارف کرائی ہیں اتنی ساری دنیا کے سارے چھوٹے بڑے ممالک نے مل کر بھی نکالی نہیں ہوں گی بلکہ ہم دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ اتنی اقسام اور ورائیٹیاں گنے یا آم یا خربوزوں کی بھی نہیں ہوں گی جتنی پاکستان میں جمہوریت کی پیدا کی گئی ہیں۔

ایوب خان کی بنیادی جمہوریت سے لے کر پیپلز پارٹی کی خاندانی جمہوریت تک اور غلام محمد سے لے کر پی ٹی آئی جمہوریت تک ایسی کونسی جمہوریت ہے جو یہاں متعارف نہیں کی گئی ہیں۔ عالموں کا کہنا ہے کہ آبی مخلوق یا مچھلیوں میں اتنی اقسام ہیں کہ انسان کے ذہن میں جو بھی تصور آ سکتا ہے ایسی ہی مچھلی یا آبی مخلوق ممکن ہو سکتی ہے۔ لیکن پاکستان میں جمہوریت کا معاملہ آبی مخلوق سے بھی کچھ زیادہ بڑھ کر ہے کیونکہ انسان کے ذہن میں آیندہ بھی جو جمہوریت کا تصور ابھرے گا وہ بھی پاکستان میں پائی جاتی ہے۔

ایک مرتبہ ایک شخص سے ہماری بحث بھی ہو گئی تھی اس سے ہم نے جب جمہوریت کے معاملے میں اپنے ملک کی زرخیزی کا ذکر کیا تو وہ مان کر نہیں دے رہا تھا کہ جمہورتیوں کے معاملے میں پاکستان اتنا نمبرون ہے چنانچہ وہ کاغذ پر شکلیں بناتا رہاکہ ایسی جمہوریت تمہارے ہاں ہے اور ہم بتا دیتے کہ ہاں ہے بچارے نے دنیا بھر کی شکلیں بنائیں اور ویسی ہی جمہوریت ہم نے پاکستان میں ثابت کر دی آخر میں وہ اتنا تنگ آ گیا کہ کاغذ کا ایک گولہ سا بنا کر اور ایک طرف پھینک کر بولا،کہ کیا ایسی جمہوریت تمہارے ہاں ہے؟ ہم نے کہا ہاں ہے، بولا کہاں ہے ہم نے کہا یہی ہے نا جو تم نے ابھی بنا کر پھینکی ہے، زچ ہو کر اس نے اپنا سر پیٹ لیا۔ ہم نے کہا ہاں ایسی ہی سر پیٹ جمہوریت بھی ہمارے ہاں ہو گی اور اگر اب حاضر اسٹاک میں نہ بھی ہو تو آگے چل کر پیدا ہو سکتی ہے۔

اس معاملے میں ویسے تو تقریباً ہر پارٹی ایک دوسرے سے بڑھ کر ہے لیکن مارکیٹ پر اجارہ داری اب بھی پی پی پی کو حاصل ہے۔ یوں کہئے کہ جس طرح موٹر سازی میں ایک بڑی کار کمپنی کے پاس سب سے زیادہ ماڈل اور ورائیٹیاں ہیں اتنی ہی پی پی پی کے پاس بھی ہیں۔ ہم اگر پاکستان کی سیاست کوا یک انڈسٹری فرض کر لیں اور فرض کی بھی کیا ضرورت ہے حقیقت میں ایسا ہی ہے کیونکہ دوسرا کوئی اس سے زیادہ موزوں نام اس کا ہو ہی نہیں سکتا۔

کچھ پرانے وقتوں کے لوگ اسے تجارتی اور انوسمنٹ کمپنی بھی کہتے ہیں کہ وہ اب پرانی بات ہو چکی ہے اس میں تو ہر سال نئی انوسمنٹ کرنا پڑتی تھی۔ لیکن انڈسٹری میں ایک کارخانہ لگا لیا، مشینری فٹ، پھر پروڈکشن ہی پروڈکشن، اور پھر ان میں کامیاب انڈسٹری وہ ہوتی ہے جس کے پاس نئی نئی ورائیٹیاں اور ماڈل ہوتے ہیں، مثال کے طور پر باقی دنیا کو یوں فرض کر لیں کہ ایک جرمن کمپنی کی طرح وہی ایک ماڈل مدت سے چلا رہی ہیں اگر کبھی کبھار کچھ نیا کرنے کو جی چاہا تو معمولی سی تبدیلی کر دی ورنہ وہی پرانا ماڈل ہی چلایا جاتا ہے۔


اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جس کے پاس جمہوریت کی بے شمار ورائیٹیاں ہیں ہر سال ایک نیا ماڈل متعارف کرایا جاتا ہے جب کہ باقی دنیا وہیں کی وہیں رہی ہے جمہوریت کا وہی پرانا ماڈل چلا رہی ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہو جاتا ہے کہ دنیا کے وہ سارے ممالک جو جمہوریت کا وہی ایک ماڈل چلا رہے ہیں تخلیقی ذہن سے بالکل عاری ہیں لیکن پاکستان میں بے پناہ ٹیلنٹ اور تخلیقی ذہن ہے، اسی ایک جمہوریت کی اتنی ڈشیں بنائی جا چکی ہیں جیسے ان میں پرانے نوابوں کے باورچیوں کی روح حلول کر گئی ہو جو ایک دال کو سو طرح سے پکاتے ہیں۔ ایک چاول کے سیکڑوں پکوان پکتے تھے اور ایک ہی بینگن کی درجنوں ترکاریاں ہوتی تھیں۔

ویسے تو جمہوریت سازی میں تقریباً تمام پارٹیاں ید طولیٰ رکھتی ہیں لیکن پی پی پی اور مسلم لیگ دونوں کا جواب نہ تھا نہ ہے، اور نہ پیدا ہونے کا امکان ہے۔

ذرا اندازہ لگائیے کہ وہی آئین ہے لیکن جب فضل القادر چوہدری وڑائچ ... صاحب صدر ہوتے ہیں تو قیدی بن جاتے ہیں لیکن اسی عہدے پر اسی آئین کے تحت اگر مشرف یا زرداری صاحب آ جائیں تو سب پر بھاری ہو جاتے ہیں اتنے بھاری کہ پورا ملک ہانپنے لگتا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ ایک مرتبہ پھر پاکستان کی سیاست ''امید'' سے ہے اور اب کے کوئی ایسا جمہوری بچہ جننے والی ہے جو پچھلے تمام بچوں سے بڑھ کر ہو گا۔ اگر جناب خان صاحب کی واحد اور زندگی بھر کی آرزو پوری ہو گئی تو بچہ دیکھنے کے لائق ہو گا کیونکہ خان صاحب کی کتاب میں، گا، گے، گی کے الفاظ ہیں ہی نہیں، صرف ہے'' ہی ہے یعنی کوئی یہ نہیں کہے گا کہ بڑا نام کرے گا بلکہ پاپا اس کے پیدا ہوتے ہی چلائے گا، بیٹا ہمارا بڑا کام کر گیا۔ اور اگر شاہی خاندان میںپیدائش ہوئی تو دنیا کو ایک اور قسم کی نئی جمہوریت دیکھنے کو مل جائے گی جس کا سب کچھ تو شاہی ہو گا لیکن تخلص جمہوریت کا کرے گا۔ مطلب کہنے کا ہمارا یہ ہے کہ جمہوریت کے نئے نئے ماڈلوں میں اور ورائیٹیوں میں پاکستان کی پوزیشن بدستور نمبرون کی رہے گی۔

ہم سخن فہم ہیں غالبؔ کے طرف دار نہیں
دیکھیں اس سہرے سے کہدے کوئی بڑھ کر سہرا
Load Next Story