عوامی تحریکوں کا جائزہ
اسلم خواجہ نے پاکستان میں چلنے والی عوامی تحریکوں پر انگریزی میں 648 صفحات پر مشتمل کتاب تحریرکردی
tauceeph@gmail.com
اسلم خواجہ نے پھر تہلکہ مچادیا۔ پاکستان میں چلنے والی عوامی تحریکوں پر انگریزی میں 648 صفحات پر مشتمل کتاب تحریرکردی۔ اسلم جنہوں نے کالج جانے کے بجائے ایم آرڈی کی تحریک میں جیل جانے کو اہمیت دی تھی۔ وہ سندھی اوراردو میں ادبی اورتاریخی موضوعات پر متعددکتابیں لکھ چکے ہیں۔ People's Movements in Pakistan ، 8 ابواب پر مشتمل ہے۔انھوں نے کتاب میں بلوچستان ایم آرڈی ٹریڈ یونین، کسان، خواتین، آزادئ صحافت اور طلبہ تحریکوں کا ذکرکیا ہے اور آرٹ ،کلچر اور ادیبوں کا ملک میں چلنے والی تحریکوں کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔کتاب کا پہلا باب بلوچستان میں مختلف تحریکوں سے متعلق ہے۔
اس میں انھوں نے بلوچستان کا تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ 531 A.D میں ایران کے بادشاہ نوشیروان نے بلوچستان کے کچھ حصوں پر قبضہ کیا۔ نوشیروان کے بیٹے خسرو نے مکران میں زراعت رائج کی۔ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ کے ادوار میں عربوں نے مکران اورقلات پر فوج کشی کی۔ قلات میں 20 ہزار بلوچوں پر مشتمل فوج نے مزاحمت کی مگر عرب فتح یاب ہوئے۔ وہ لکھتے ہیں کہ 22 دسمبر 1857 کو خان قلات،خواد خان اور دیگر قبائل کے درمیان جنگ شروع ہوئی جو 21 سال تک جاری رہی۔ برطانوی فوج نے 1876 میں کوئٹہ میں چھاؤنی قائم کی تاکہ خضداراورقلات کی نگرانی کی جائے۔ بالیشوک انقلاب کے بلوچستان پر اثرات پڑے۔ مشرقی بلوچستان سے کئی بلوچ جوان سوویت یونین گئے، یوں باکوکانفرنس میں مصری خان کی قیادت میں نوجوان شریک ہوئے۔
مصری خان پھر کابل آئے اور برصغیرکی پہلی انقلابی جماعت کی تشکیل میں حصہ لیا، یوں مصنف یوسف مگسی، عبدالعزیز کرد، فیض محمد، محمد حسین عنقا، نسیم تلوی، عبدالکریم شورش، میرمحمداعظم شہوانی کا ذکر کرتے ہیں، قلات کی پہلی سیکیولر سیاسی جماعت قائم ہوئی۔ عبدالعزیزکرد کو پمفلٹ لکھنے پر 3 سال قیدکی سزا ہوئی۔اس وقت عبدالصمد خان اچکزئی کو سیاسی سرگرمیوں پر 3 سال سزا ہوئی۔ نواب یوسف مگسی نے کوئٹہ میں ایک پریس قائم کیا اوراردو میں ایک رسالہ استقلال شایع کیا۔
عبدالصمد اچکزئی اورمحمد حسین نظامی اس کے ایڈیٹر رہے۔ یوسف مگسی 1935 کے کوئٹہ میں آنے والے زلزلے میں انتقال کرگئے۔ اس رسالے پر 1950 میں پابندی لگادی گئی۔ مصنف نے 1977 تک بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والی گوریلا مزاحمت اور فوجی آپریشن کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ ان تفصیلات میں افغانستان میں جلاوطنی کے دوران سردارخیربخش مری اور کمانڈر میرہزارخان مری اور شیر محمد مری کے درمیان ہونے والے اختلافات کا ذکر شامل ہے۔ اس باب میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت تک کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔
اس کتاب کا دوسرا اہم باب 1981 سے 1988 تک جنرل ضیاء الحق کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک سے متعلق ہے۔ دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں اور بائیں بازو کے چند گروپوں نے ذوالفقارعلی بھٹو کے خلاف جنرل ضیاء الحق کی حمایت کی۔ مصنف نے ایم آر ڈی کا پس منظر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کمیٹی نے 6 پیراگراف پر مشتمل مسودہ تیارکیا۔اس مسودے میں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کی مذمت اور 1973 کے آئین کے تحت انتخابات کرانے کے مطالبے کیے گئے تھے۔ این ڈی پی کے سردار شیر باز مزاری، میر غوث بخش بزنجو نے مزید صوبائی خودمختاری دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ ایم آر ڈی کا پہلا اجلاس 70 کلفٹن میں ہوا۔ اجلاس کے شرکاء نوابزادہ نصر اﷲ خان، شیر بازمزاری سمیت تمام رہنماؤں نے ذوالفقارعلی بھٹو کی پھانسی پر بیگم نصرت بھٹو سے تعزیت کی۔ ایم آر ڈی نے سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا کہ پی آئے اے کا طیارہ اغواء ہوگیا۔
الذوالفقار نامی تنظیم نے جہازکے اغواء کی ذمے داری قبول کرلی۔اسی دوران آزاد کشمیر کے سابق صدر مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عبدالقیوم خان ایم آر ڈی سے علیحدہ ہوگئے۔ جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے ایم آر ڈی کے کارکنوں کے خلاف کارروائی شروع کردی۔ اس آپریشن کی زد میں ہزاروں افراد آئے، انھیں گرفتارکیا گیا۔ 3جون 1983 کو ایم آر ڈی کی جماعتوں کا لاہور میں اجلاس ہوا۔ تحریکِ استقلال نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ اجلاس میں 31 نکات پر مشتمل بنیادی چارٹرکی منظوری دی گئی۔ پیپلز پارٹی کے رہنما سید قائم علی شاہ جو 2 برسوں سے روپوش تھے منظرعام پر آئے۔ ایم آر ڈی نے 14اگست 1983کو سول نافرمانی کی تحریک شروع کردی۔
اس تحریک کے دوران پورے ملک میں جلسے جلوس منعقد ہوئے اورکارکنوں نے مختلف شہروں میں رضاکارانہ گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا۔ حکومت نے اخبارات پر سنسر عائد کردیا۔ اس تحریک کے دوران اندرونِ سندھ احتجاج شدت اختیارکرگیا۔ نواب شاہ، مورو، دادو، پنھل خان چانڈیو ،کنڈیارو وغیرہ میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آتشی اسلحہ استعمال کیا گیا۔ پولیس اور ایجنسیوں کے اہلکاروں کی فائرنگ سے متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ پنجاب، پختون خواہ اور بلوچستان سے ہزاروں کارکنوں کوگرفتار کیا گیا۔
آزادی کے بعد اکتوبر 1947 کو ایک خصوصی قانون کے ذریعے مزدوروں کے حق ہڑتال ، اجلاس اور مظاہروں پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ بہار سے آئے ہوئے کمیونسٹ کارکن شبیر الحسن عرف پیکر نقوی نے خیرپورمیں ٹیکسٹائل مل میں مزدور یونین قائم کی تھی مگرگرفتاری اور رہائی کے بعد وہ کراچی آگئے اور صحافی بن گئے تھے۔ 1954 میں حکومت نے کمیونسٹ پارٹی سے منسلک پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن (P.T.U.F) پر پابندی لگادی تھی۔ مصنف نے جنرل یحییٰ خان کے دور میں ایئرمارشل نور خان کے نافذکردہ انڈسٹریل ریلیشن آرڈیننس (I.R.O) کو ایک بہتر قانون قرار دیا ہے۔ اس قانون سے مزدور یونین تحریک کو تقویت حاصل ہوئی۔
وہ لکھتے ہیں کہ 1953 میں کراچی یونیورسٹی نے سندھی زبان میں امتحان دینے پر پابندی عائد کردی مگر حکومت سندھ کی مخالفت کی وجہ سے اس وقت اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوا مگر ون یونٹ بننے کے بعد 1957-58 میں اس فیصلے پر عملدرآمد ہوگیا۔ اس کتاب کی ایک دلچسپ بات آرٹ ،کلچر اور لٹریچرکے لیے مختص کیا گیا ہے۔ ان ادیبوں اور دانشوروں کے حالات بیان کیے گئے ہیں جنہوں نے اپنی زبان اور ثقافت کے تحفظ کے لیے آواز اٹھالی۔ اسلم لکھتے ہیں کہ فروری 1948 میں آئین ساز اسمبلی کے بنگالی اراکین نے قوانین میں ایک ترمیم پیش کی، جس میں کہا گیا تھا کہ بنگالی زبان کو اردو کی طرح اسمبلی کے اجلاس میں بولنے کی اجازت دی جائے مگر ایوان نے یہ تجویز مستردکردی۔
خواتین: برابری اور حقوق کے باب میں مصنف لکھتے ہیں کہ طاہر مظہرعلی خان، ہاجرہ مسرور، خدیجہ مستور وغیرہ نے خواتین کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور انجمن ترقی پسند خواتین قائم کی۔ آزادئ صحافت اوراظہار کی آزادی کے باب میں لکھتے ہیں کہ پاکستان میں آزادئ صحافت کی راہ میں بے پناہ مشکلات کھڑی کی گئیں۔ مصنف نے طلبہ تحریکوں کے باب کا آغاز آزادی سے پہلے طلبہ تحریکوں کے تناظر میں کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ سندھ اور پنجاب میں آزادی سے پہلے مختلف سوشلسٹ گروپ متحرک تھے مگر آزادی کے بعد ہندوؤں اور سکھوں کی ہجرت کے بعد ہندوستان سے آنے والے طالب علموں نے کراچی، لاہور اور راولپنڈی میں یہ خلاء پرکیا۔ 6 اگست 1948 کو شیخ مجیب الرحمن نے ایسٹ پاکستان طلباء ایکشن کمیٹی قائم کی۔ کتاب میں فروری 1950 میں ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے قیام کا ذکرکیا ہے۔
ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن (D.S.F) نے جنوری 1953 کو پہلی طلبہ تحریک کو منظم کیا۔ ڈی ایس ایف کی اس تحریک کو حکومت نے سرکاری طاقت سے کچلا مگر حکومت کو مطالبات ماننے پڑے۔ 1954 میں کمیونسٹ پارٹی پر پابندی کے بعد ڈی ایس ایف پرپابندی لگادی گئی۔کتاب میں سندھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے قیام اور اغراض ومقاصد واضح کیے گئے۔ اسی طرح 1967 میں ون یونٹ کے خلاف طلبہ نے تحریک شروع کی۔ اس وقت کے کمشنر مسرور حسن نے سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر حسن علی عبدالرحمن کو برطرف کیا تو سندھ یونیورسٹی اور لیاقت میڈیکل کالج کے طلبہ نے تحریک شروع کی۔ پولیس نے طاقت استعمال کی جس پر پورے سندھ میں احتجاج ہوا۔ مصنف نے ایم آر ڈی کی تحریک میں طلبہ کے کردار اورطلبہ کی دوسری تحریکوں کا ذکرکیا ہے۔ خواجہ اسلم کی یہ کتاب آسان انگریزی میں ہے۔ بلوچستان میں چلنے والی تحریکوں اور ایم آر ڈی کی تحریک کے ابواب لاجواب ہیں۔
ملک کے سیاسی حالات سے دلچسپی رکھنے والے افراد اور محققین کے لیے یہ ایک بہترین ریفرنس کتاب ہے۔ اسلم نے مشکل حالات میں یہ کتاب لکھ کر ثابت کیا ہے کہ ایک سیاسی کارکن بہترمحقق بھی ہوسکتا ہے۔
اس میں انھوں نے بلوچستان کا تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ 531 A.D میں ایران کے بادشاہ نوشیروان نے بلوچستان کے کچھ حصوں پر قبضہ کیا۔ نوشیروان کے بیٹے خسرو نے مکران میں زراعت رائج کی۔ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ کے ادوار میں عربوں نے مکران اورقلات پر فوج کشی کی۔ قلات میں 20 ہزار بلوچوں پر مشتمل فوج نے مزاحمت کی مگر عرب فتح یاب ہوئے۔ وہ لکھتے ہیں کہ 22 دسمبر 1857 کو خان قلات،خواد خان اور دیگر قبائل کے درمیان جنگ شروع ہوئی جو 21 سال تک جاری رہی۔ برطانوی فوج نے 1876 میں کوئٹہ میں چھاؤنی قائم کی تاکہ خضداراورقلات کی نگرانی کی جائے۔ بالیشوک انقلاب کے بلوچستان پر اثرات پڑے۔ مشرقی بلوچستان سے کئی بلوچ جوان سوویت یونین گئے، یوں باکوکانفرنس میں مصری خان کی قیادت میں نوجوان شریک ہوئے۔
مصری خان پھر کابل آئے اور برصغیرکی پہلی انقلابی جماعت کی تشکیل میں حصہ لیا، یوں مصنف یوسف مگسی، عبدالعزیز کرد، فیض محمد، محمد حسین عنقا، نسیم تلوی، عبدالکریم شورش، میرمحمداعظم شہوانی کا ذکر کرتے ہیں، قلات کی پہلی سیکیولر سیاسی جماعت قائم ہوئی۔ عبدالعزیزکرد کو پمفلٹ لکھنے پر 3 سال قیدکی سزا ہوئی۔اس وقت عبدالصمد خان اچکزئی کو سیاسی سرگرمیوں پر 3 سال سزا ہوئی۔ نواب یوسف مگسی نے کوئٹہ میں ایک پریس قائم کیا اوراردو میں ایک رسالہ استقلال شایع کیا۔
عبدالصمد اچکزئی اورمحمد حسین نظامی اس کے ایڈیٹر رہے۔ یوسف مگسی 1935 کے کوئٹہ میں آنے والے زلزلے میں انتقال کرگئے۔ اس رسالے پر 1950 میں پابندی لگادی گئی۔ مصنف نے 1977 تک بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والی گوریلا مزاحمت اور فوجی آپریشن کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ ان تفصیلات میں افغانستان میں جلاوطنی کے دوران سردارخیربخش مری اور کمانڈر میرہزارخان مری اور شیر محمد مری کے درمیان ہونے والے اختلافات کا ذکر شامل ہے۔ اس باب میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت تک کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔
اس کتاب کا دوسرا اہم باب 1981 سے 1988 تک جنرل ضیاء الحق کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک سے متعلق ہے۔ دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں اور بائیں بازو کے چند گروپوں نے ذوالفقارعلی بھٹو کے خلاف جنرل ضیاء الحق کی حمایت کی۔ مصنف نے ایم آر ڈی کا پس منظر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کمیٹی نے 6 پیراگراف پر مشتمل مسودہ تیارکیا۔اس مسودے میں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کی مذمت اور 1973 کے آئین کے تحت انتخابات کرانے کے مطالبے کیے گئے تھے۔ این ڈی پی کے سردار شیر باز مزاری، میر غوث بخش بزنجو نے مزید صوبائی خودمختاری دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ ایم آر ڈی کا پہلا اجلاس 70 کلفٹن میں ہوا۔ اجلاس کے شرکاء نوابزادہ نصر اﷲ خان، شیر بازمزاری سمیت تمام رہنماؤں نے ذوالفقارعلی بھٹو کی پھانسی پر بیگم نصرت بھٹو سے تعزیت کی۔ ایم آر ڈی نے سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا کہ پی آئے اے کا طیارہ اغواء ہوگیا۔
الذوالفقار نامی تنظیم نے جہازکے اغواء کی ذمے داری قبول کرلی۔اسی دوران آزاد کشمیر کے سابق صدر مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عبدالقیوم خان ایم آر ڈی سے علیحدہ ہوگئے۔ جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے ایم آر ڈی کے کارکنوں کے خلاف کارروائی شروع کردی۔ اس آپریشن کی زد میں ہزاروں افراد آئے، انھیں گرفتارکیا گیا۔ 3جون 1983 کو ایم آر ڈی کی جماعتوں کا لاہور میں اجلاس ہوا۔ تحریکِ استقلال نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ اجلاس میں 31 نکات پر مشتمل بنیادی چارٹرکی منظوری دی گئی۔ پیپلز پارٹی کے رہنما سید قائم علی شاہ جو 2 برسوں سے روپوش تھے منظرعام پر آئے۔ ایم آر ڈی نے 14اگست 1983کو سول نافرمانی کی تحریک شروع کردی۔
اس تحریک کے دوران پورے ملک میں جلسے جلوس منعقد ہوئے اورکارکنوں نے مختلف شہروں میں رضاکارانہ گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا۔ حکومت نے اخبارات پر سنسر عائد کردیا۔ اس تحریک کے دوران اندرونِ سندھ احتجاج شدت اختیارکرگیا۔ نواب شاہ، مورو، دادو، پنھل خان چانڈیو ،کنڈیارو وغیرہ میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آتشی اسلحہ استعمال کیا گیا۔ پولیس اور ایجنسیوں کے اہلکاروں کی فائرنگ سے متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ پنجاب، پختون خواہ اور بلوچستان سے ہزاروں کارکنوں کوگرفتار کیا گیا۔
آزادی کے بعد اکتوبر 1947 کو ایک خصوصی قانون کے ذریعے مزدوروں کے حق ہڑتال ، اجلاس اور مظاہروں پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ بہار سے آئے ہوئے کمیونسٹ کارکن شبیر الحسن عرف پیکر نقوی نے خیرپورمیں ٹیکسٹائل مل میں مزدور یونین قائم کی تھی مگرگرفتاری اور رہائی کے بعد وہ کراچی آگئے اور صحافی بن گئے تھے۔ 1954 میں حکومت نے کمیونسٹ پارٹی سے منسلک پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن (P.T.U.F) پر پابندی لگادی تھی۔ مصنف نے جنرل یحییٰ خان کے دور میں ایئرمارشل نور خان کے نافذکردہ انڈسٹریل ریلیشن آرڈیننس (I.R.O) کو ایک بہتر قانون قرار دیا ہے۔ اس قانون سے مزدور یونین تحریک کو تقویت حاصل ہوئی۔
وہ لکھتے ہیں کہ 1953 میں کراچی یونیورسٹی نے سندھی زبان میں امتحان دینے پر پابندی عائد کردی مگر حکومت سندھ کی مخالفت کی وجہ سے اس وقت اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوا مگر ون یونٹ بننے کے بعد 1957-58 میں اس فیصلے پر عملدرآمد ہوگیا۔ اس کتاب کی ایک دلچسپ بات آرٹ ،کلچر اور لٹریچرکے لیے مختص کیا گیا ہے۔ ان ادیبوں اور دانشوروں کے حالات بیان کیے گئے ہیں جنہوں نے اپنی زبان اور ثقافت کے تحفظ کے لیے آواز اٹھالی۔ اسلم لکھتے ہیں کہ فروری 1948 میں آئین ساز اسمبلی کے بنگالی اراکین نے قوانین میں ایک ترمیم پیش کی، جس میں کہا گیا تھا کہ بنگالی زبان کو اردو کی طرح اسمبلی کے اجلاس میں بولنے کی اجازت دی جائے مگر ایوان نے یہ تجویز مستردکردی۔
خواتین: برابری اور حقوق کے باب میں مصنف لکھتے ہیں کہ طاہر مظہرعلی خان، ہاجرہ مسرور، خدیجہ مستور وغیرہ نے خواتین کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور انجمن ترقی پسند خواتین قائم کی۔ آزادئ صحافت اوراظہار کی آزادی کے باب میں لکھتے ہیں کہ پاکستان میں آزادئ صحافت کی راہ میں بے پناہ مشکلات کھڑی کی گئیں۔ مصنف نے طلبہ تحریکوں کے باب کا آغاز آزادی سے پہلے طلبہ تحریکوں کے تناظر میں کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ سندھ اور پنجاب میں آزادی سے پہلے مختلف سوشلسٹ گروپ متحرک تھے مگر آزادی کے بعد ہندوؤں اور سکھوں کی ہجرت کے بعد ہندوستان سے آنے والے طالب علموں نے کراچی، لاہور اور راولپنڈی میں یہ خلاء پرکیا۔ 6 اگست 1948 کو شیخ مجیب الرحمن نے ایسٹ پاکستان طلباء ایکشن کمیٹی قائم کی۔ کتاب میں فروری 1950 میں ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے قیام کا ذکرکیا ہے۔
ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن (D.S.F) نے جنوری 1953 کو پہلی طلبہ تحریک کو منظم کیا۔ ڈی ایس ایف کی اس تحریک کو حکومت نے سرکاری طاقت سے کچلا مگر حکومت کو مطالبات ماننے پڑے۔ 1954 میں کمیونسٹ پارٹی پر پابندی کے بعد ڈی ایس ایف پرپابندی لگادی گئی۔کتاب میں سندھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے قیام اور اغراض ومقاصد واضح کیے گئے۔ اسی طرح 1967 میں ون یونٹ کے خلاف طلبہ نے تحریک شروع کی۔ اس وقت کے کمشنر مسرور حسن نے سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر حسن علی عبدالرحمن کو برطرف کیا تو سندھ یونیورسٹی اور لیاقت میڈیکل کالج کے طلبہ نے تحریک شروع کی۔ پولیس نے طاقت استعمال کی جس پر پورے سندھ میں احتجاج ہوا۔ مصنف نے ایم آر ڈی کی تحریک میں طلبہ کے کردار اورطلبہ کی دوسری تحریکوں کا ذکرکیا ہے۔ خواجہ اسلم کی یہ کتاب آسان انگریزی میں ہے۔ بلوچستان میں چلنے والی تحریکوں اور ایم آر ڈی کی تحریک کے ابواب لاجواب ہیں۔
ملک کے سیاسی حالات سے دلچسپی رکھنے والے افراد اور محققین کے لیے یہ ایک بہترین ریفرنس کتاب ہے۔ اسلم نے مشکل حالات میں یہ کتاب لکھ کر ثابت کیا ہے کہ ایک سیاسی کارکن بہترمحقق بھی ہوسکتا ہے۔