آٹو شو گاڑیوں کی تجارتی درآمد روکنے کے مطالبے سے شروع
حکومت آٹو سیکٹر کی بقا کیلیے پرانی کاروں کی درآمدی پالیسی میں حالیہ تبدیلی برقرار رکھے۔
کراچی: پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ اسسریز مینوفیکچررز (پاپام) کے زیر اہتمام ایکسپو سینٹر میں پاکستان آٹو شو 2013 کے مہمان خصوصی نسرین جلیل اور دیگر مہمان افتتاح کررہے ہیں، نمائش میں 120کمپنیاں شرکت کررہی ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس
پاکستان میں آٹو سیکٹر کی مقامی صلاحیت اجاگر کرنے کے لیے تین روزہ آٹو شو کراچی ایکسپو سینٹر میں شروع ہوگیا ہے۔
نمائش میں 120 سے زائد کمپنیاں شرکت کررہی ہیں، پاکستان میں پرزہ جات بنانے والی وینڈر انڈسٹری اور گاڑیاں تیار کرنے والی صنعت نئی سرمایہ کاری کیلیے تیار ہے تاہم اس کیلیے پالیسیوں میں تسلسل اور استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی مقاصد کیلیے منظم درآمد کی روک تھام ضروری ہے۔ آٹو شو کے افتتاحی تقریب میں پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے چیئرمین پرویز غیاث، پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ اسسریز مینوفیکچررز (پاپام) کے چیئرمین منیر کے بانا، وینڈر انڈسٹری کے نمائندوں شارق سہیل، سید نبیل ہاشمی اور عثمان ملک نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ آٹو سیکٹر کی بقا اور ترقی کے لیے استعمال شدہ کاروں کی درآمدی پالیسی میں کی جانے والی تبدیلی برقرار رکھی جائے۔
سمندر پار پاکستانیوں کیلیے دی گئی سہولت کا غلط استعمال کیا جارہا ہے اور تجارتی مقاصد کیلیے بڑے پیمانے پر استعمال شدہ کاریں درآمد کی جارہی ہیں جس سے آٹو انڈسٹری کے ساتھ صارفین کو بھی خسارے کا سامنا ہے۔ آٹو انڈسٹری کے نمائندوں نے کہا کہ درآمدی کاریں پاکستان کی سڑکوں اور ماحول کے مطابق تیار نہیں کی جاتیں، پاکستان میں سیفٹی اسٹینڈرڈز کیلیے حکومت کی جانب سے کوئی پالیسی نہیں دی گئی تاہم آٹو کمپنیاں اپنے طور پر کاروں کو عالمی معیارات سے ہم آہنگ رکھتی ہیں، اسی طرح پاکستان میں ریفائنریز کی جانب سے یورو معیار کے مطابق ڈیزل تیار نہیں کیا جارہا جس سے گاڑیوں کو یورو اسٹینڈرڈ کے مطابق لانے کے بھی خاطر خواہ فوائد نہیں مل رہے۔
پاما کے سربراہ پرویز غیاث نے کہا کہ استعمال شدہ کاروں کی برآمد میں چھوٹ کی حکومتی پالیسیوں میں اچانک تبدیلی نے آٹو موبائل صنعت کی نمو پر بہت برا اثر ڈالا ہے اور اس کے نتیجے میں OEMs اور وینڈرز کی صنعت کی فروخت اور پیداوار میں انتہائی کمی واقع ہوئی ہے جس کے نتیجے میں چھوٹے اور درمیانے سائز کے کاروباری یونٹس بند ہو گئے ہیں اور ہزاروں تجربہ کار کارکن بے روزگار ہو کر رہ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو لازمی طور پراپنی متضاداور غلط منصوبہ بندی سے سبق حاصل کرنا چاہیے جو نہ صرف مقامی آٹو موبائل صنعت کی نشوونما کو متاثر کر رہی ہے بلکہ انہیں پیداوار کی کم سطح کے حوالے سے کئی برس پیچھے دھکیل دیا ہے۔
اس موقع پر اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پاپام کے چیئرمین منیر بانا نے کہا کہ مقامی صنعت سرمایہ کاری کیلیے تیار ہے لیکن حکومت کی پالیسیوں میں عدم تسلسل کی وجہ سے اس سے قبل کی گئی سرمایہ کاری بھی متاثر ہورہی ہے، روپے کی قدر گرنے، خام مال مہنگا ہونے اور درآمدی کاروں سے مسابقت کے باوجود پاکستان میں دنیا کی سب سے کم قیمت کاریں تیار کی جارہی ہی۔، بھارت کے ساتھ تجارت کے حوالے سے پاپام کے سابق چیئرمین سید نبیل ہاشمی نے کہا کہ بھارت نے ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں کے ذریعے اپنی مارکیٹ کو پاکستانی آٹو سیکٹر کیلیے بند رکھا ہے، بھارت کے ساتھ تجارت کے لیے نیشنل ٹیرف کمیشن،انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ اور پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول کو بہتر بنانا ہوگا۔
نمائش میں 120 سے زائد کمپنیاں شرکت کررہی ہیں، پاکستان میں پرزہ جات بنانے والی وینڈر انڈسٹری اور گاڑیاں تیار کرنے والی صنعت نئی سرمایہ کاری کیلیے تیار ہے تاہم اس کیلیے پالیسیوں میں تسلسل اور استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی مقاصد کیلیے منظم درآمد کی روک تھام ضروری ہے۔ آٹو شو کے افتتاحی تقریب میں پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے چیئرمین پرویز غیاث، پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ اسسریز مینوفیکچررز (پاپام) کے چیئرمین منیر کے بانا، وینڈر انڈسٹری کے نمائندوں شارق سہیل، سید نبیل ہاشمی اور عثمان ملک نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ آٹو سیکٹر کی بقا اور ترقی کے لیے استعمال شدہ کاروں کی درآمدی پالیسی میں کی جانے والی تبدیلی برقرار رکھی جائے۔
سمندر پار پاکستانیوں کیلیے دی گئی سہولت کا غلط استعمال کیا جارہا ہے اور تجارتی مقاصد کیلیے بڑے پیمانے پر استعمال شدہ کاریں درآمد کی جارہی ہیں جس سے آٹو انڈسٹری کے ساتھ صارفین کو بھی خسارے کا سامنا ہے۔ آٹو انڈسٹری کے نمائندوں نے کہا کہ درآمدی کاریں پاکستان کی سڑکوں اور ماحول کے مطابق تیار نہیں کی جاتیں، پاکستان میں سیفٹی اسٹینڈرڈز کیلیے حکومت کی جانب سے کوئی پالیسی نہیں دی گئی تاہم آٹو کمپنیاں اپنے طور پر کاروں کو عالمی معیارات سے ہم آہنگ رکھتی ہیں، اسی طرح پاکستان میں ریفائنریز کی جانب سے یورو معیار کے مطابق ڈیزل تیار نہیں کیا جارہا جس سے گاڑیوں کو یورو اسٹینڈرڈ کے مطابق لانے کے بھی خاطر خواہ فوائد نہیں مل رہے۔
پاما کے سربراہ پرویز غیاث نے کہا کہ استعمال شدہ کاروں کی برآمد میں چھوٹ کی حکومتی پالیسیوں میں اچانک تبدیلی نے آٹو موبائل صنعت کی نمو پر بہت برا اثر ڈالا ہے اور اس کے نتیجے میں OEMs اور وینڈرز کی صنعت کی فروخت اور پیداوار میں انتہائی کمی واقع ہوئی ہے جس کے نتیجے میں چھوٹے اور درمیانے سائز کے کاروباری یونٹس بند ہو گئے ہیں اور ہزاروں تجربہ کار کارکن بے روزگار ہو کر رہ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو لازمی طور پراپنی متضاداور غلط منصوبہ بندی سے سبق حاصل کرنا چاہیے جو نہ صرف مقامی آٹو موبائل صنعت کی نشوونما کو متاثر کر رہی ہے بلکہ انہیں پیداوار کی کم سطح کے حوالے سے کئی برس پیچھے دھکیل دیا ہے۔
اس موقع پر اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پاپام کے چیئرمین منیر بانا نے کہا کہ مقامی صنعت سرمایہ کاری کیلیے تیار ہے لیکن حکومت کی پالیسیوں میں عدم تسلسل کی وجہ سے اس سے قبل کی گئی سرمایہ کاری بھی متاثر ہورہی ہے، روپے کی قدر گرنے، خام مال مہنگا ہونے اور درآمدی کاروں سے مسابقت کے باوجود پاکستان میں دنیا کی سب سے کم قیمت کاریں تیار کی جارہی ہی۔، بھارت کے ساتھ تجارت کے حوالے سے پاپام کے سابق چیئرمین سید نبیل ہاشمی نے کہا کہ بھارت نے ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں کے ذریعے اپنی مارکیٹ کو پاکستانی آٹو سیکٹر کیلیے بند رکھا ہے، بھارت کے ساتھ تجارت کے لیے نیشنل ٹیرف کمیشن،انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ اور پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول کو بہتر بنانا ہوگا۔