شعبہ تعلیم منصوبہ بندی کے بغیر

پاکستان میں اب تک سائنس ٹیکنالوجی اورتحقیق کے شعبوں میں سناٹا رہا ہے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

سالانہ ریسرچ ڈے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ارشاد علی ، ڈاؤ یونیورسٹی کے بانی وائس چانسلر پروفیسر مسعود حمیدخان اورکراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسر اجمل خان نے اپنے خطابات میںکہا کہ سالانہ ریسرچ ڈے کے انعقاد کا مقصد طلبا و طالبات اور فیکلٹی اراکین میں تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور ان کے مابین تعاون کو بڑھانا ہے، ریسرچ ڈے کی تقریب میں 370 طلبا نے اپنے تحقیقی منصوبے پیش کیے۔ ایک اور خبر کے مطابق علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے ملک بھر میں ریسرچ کلچر کے فروغ اور تحقیق کو معیاری بنانے کے لیے شعبہ فزکس میں میٹریل ٹیسٹنگ لیبارٹری قائم کردی ہے لیبارٹری کی اس سہولت کو ملک بھر کی جامعات کے اسکالرز اپنے تحقیقی کام کے لیے استعمال کرسکیں گے۔

پاکستان میں اب تک سائنس ٹیکنالوجی اورتحقیق کے شعبوں میں سناٹا رہا ہے پچھلے کچھ عرصے سے اس سناٹے میں جو ارتعاش پیدا ہورہا ہے، مذکورہ دوخبروں کو اسی تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ پاکستان کو قائم ہوئے اب 69 سال ہورہے ہیں اس طویل عرصے میں پاکستانی حکمران طبقے نے کبھی ان انتہائی ضروری شعبوں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان ان شعبوں میں پسماندہ ملکوں سے بھی پسماندہ رہا ہے۔ ہم ہزاروں سال سے جس تصوراتی دنیا میں جی رہے ہیں،اس کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں بلکہ تصورات اورمفروضات ہی ہماری ترقی کی معراج بنے ہوئے ہیں جب کہ دنیا تیزی کے ساتھ زندگی کے ہر شعبے میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور تحقیق، دریافتوں اورانکشافات نے ماضی کے اندھیروں کو اٹھاکر باہر پھینک دیا ہے۔ پاکستان میں چونکہ قبائلی اورجاگیردارانہ کلچر مستحکم رہا ہے اور عموماً جاگیردار اور وڈیرے ہی سیاست اور اقتدار پر قابض رہے ہیں لہٰذا سائنس ٹیکنالوجی تحقیق کے شعبوں میں الّو بولنا ایک فطری بات ہے۔

ترقی یافتہ ملکوں ہی میں نہیں بلکہ پسماندہ ملکوں میں بھی سائنس اورٹیکنالوجی کی اہمیت کو محسوس کیا جا رہا ہے اوران شعبوں میں ترقی کے لیے بجٹ میں بھاری رقوم رکھی جا رہی ہیں بھارت ہمارا پڑوسی ملک ہے جہاں غربت اور بے روزگاری کا وہی حال ہے جو ہمارے ملک میں موجود ہے لیکن بھارت کا حکمران طبقہ اپنی تمام تر خامیوں اورکوتاہیوں کے باوجود سائنس ٹیکنالوجی آئی ٹی اور خلائی سائنس میں تیزی سے پیش رفت کررہا ہے۔ ابھی حال میں بھارت نے خلا میں ایک ساتھ سب سے زیادہ سیارچے بھیجنے کا ریکارڈ کارنامہ انجام دیا ہے۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہاں ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والے جاگیردارانہ نظام کو آزادی ملتے ہی ختم کردیا گیا تھا۔ اس کے برخلاف ہمارے ملک میں جاگیردار طبقہ سیاست اور اقتدار پر اپنی مضبوط گرفت رکھتا ہے اور اس کے ایجنڈے میں اسکولوں کو مویشی خانے بنانا تو ہے اسکولوں میں غریب کسانوں کے بچوں کو حصول تعلیم سے روکنا وڈیرہ شاہی کی ضرورت اس لیے ہے کہ کسانوں کے بچے اگر تعلیم سے لیس ہونے لگیں تو پھر انھیں زندگی کے ہر شعبے میں آگے آنے سے روکنا ممکن نہیں رہے گا۔ اسی لیے یہ طبقہ پوری منصوبہ بندی کے ساتھ دیہی علاقوں میں اسکولوں کو مویشی خانوں اور اوطاقیں بنانے میں مصروف ہے۔


شہری علاقوں میں دیہی علاقوں کے مقابلے میں تعلیم کی زیادہ سہولتیں موجود ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ شہری علاقوں میں پرائیویٹ انگلش میڈیم اسکولوں کی شکل میں جو کاٹج انڈسٹری پھیلی ہوئی ہے وہ نہ سائنسدان پیدا کرسکتی ہے نہ ٹیکنالوجسٹ نہ محقق۔ وہ زیادہ سے زیادہ جو پیدا کرسکتی ہے وہ بابو پیدا کرسکتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا حکمران طبقہ اول تو تعلیمی شعبے کو سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں دیتا اوراگر اس حوالے سے کچھ کیا جاتا ہے تو اس کا بنیادی مقصدپروپیگنڈا اور سیاسی مفادات کا حصول ہے۔ اس شعبے میں کوئی منصوبہ بندی نہیں، کوئی اہداف نہیں ہیں کوئی سمت نہیں ہے۔ اس شعبے کو شتر بے مہارکی طرح چھوڑ دیا گیا ہے۔

ہمارے ملک کی ایک اور بدقسمتی یہ ہے کہ اس ملک میں مذہب کا غیرضروری اور منفی استعمال عام ہے۔ اس حوالے سے ملک میں دینی مدارس پر نظر ڈالیں تو یہ افسوسناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ مدارس ملک کے ہر حصے حتیٰ کہ کراچی جیسے ترقی یافتہ شہر میں ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں۔ اندازہ ہے کہ ان اسکولوں میں 30 لاکھ سے زیادہ بچے زیرتعلیم ہیں۔ ان بچوں کا عمومی تعلق ایسے غریب اور نادار طبقات سے ہوتا ہے جو اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کی سکت نہیں رکھتے۔

ان غریب اور نادار بچوں کو ان مدرسوں میں خوراک، رہائش وغیرہ کی مفت سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ بلاشبہ یہ نیکی کا کام ہے لیکن ان مدرسوں میں جو نصاب پڑھایا جاتا ہے وہ نصاب قاری حافظ عالم وغیرہ تو پیدا کرسکتاہے لیکن سائنٹسٹ، ٹیکنالوجسٹ، آئی ٹی اسپیشلسٹ، خلائی ماہر، ڈاکٹر، انجینئر اور محقق نہیں پیدا کرسکتا۔کیونکہ ان مدارس میں جدید علوم کی رسائی ممکن نہیں۔ اس صورتحال کا ایک افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان مدارس کو بعض مسلم ملکوں کی طرف سے بھاری مالی امداد ملنے کی خبریں میڈیا میں آتی رہتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ بیرونی امداد مخصوص فقہوں کی ترویج سے مشروط ہوتی ہے۔

پاکستان کا شمار انتہائی پسماندہ ملکوں میں ہوتا ہے لیکن کئی پسماندہ ملک تعلیم کے شعبے میں تیزی سے ترقی کر رہے ہیں کیونکہ ان ملکوں کے حکمران تعلیم کی اہمیت سے واقف ہیں۔

اسی لیے اپنے بجٹ میں شعبہ تعلیم کے لیے معقول رقم رکھتے ہیں جیساکہ ہم نے نشان دہی کی ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، آئی ٹی، خلائی سائنس اور طبی سائنس ایسے شعبے ہیں جن میں ایک منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ ہمارے شعبہ تعلیم میں کچھ بہتری آرہی ہے لیکن ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہونے کے لیے سائنس ٹیکنالوجی تحقیق وریاضت کا کلچر پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کام اس وقت ممکن ہے جب اس کے لیے منصوبہ بندی کے ساتھ بجٹ میں ضروری رقم مختص کی جائے۔
Load Next Story