اجمل پہاڑی نے نظر بندی کیخلاف ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

درخواست گزار 102دنوں سے غیر قانونی حراست میں ہے،محمد فاروق ایڈووکیٹ.

محکمہ داخلہ ، آئی جی سندھ ، آئی جی جیل خانہ جات ودیگرکو نوٹس جاری کردیے گئے. فوٹو: فائل

متحدہ قومی موومنٹ کے اجمل پہاڑی نے 102 دنوں سے زائد کی نظر بندی کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

جسٹس سجاد علیشاہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے انکی درخواست پر محکمہ داخلہ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ وسیم احمد ، آئی جی سندھ ، آئی جی جیل خانہ جات اور سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل کراچی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے ، محمدفاروق ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر درخواست میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ درخواست گزارکو18مارچ2011 کو گرفتار کیا گیا ، درخواست گزار کے خلاف سیاسی بنیادوں پر 15مقدمات قائم کیے تھے جن میں قتل، اغوا، جلائو گھیرائو اور دیگر مقدمات شامل تھے۔


مختلف عدالتوں نے درخواست گزار کو 11مقدمات میں بری کردیا جبکہ 4مقدمات میں عدالتوں نے ضمانت منظور کرلی مگر رہا کرنے کے بجائے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ وسیم احمد کے حکم پر اجمل پہاڑی کو 20ستمبر2011کوویسٹ پاکستان آف پبلک آرڈیننس 1960کی دفعہ 3(1)کے تحت 30دن کیلیے نظربند کردیاگیا،مخصوص مدت سے زیادہ نظربندی کیلیے مذکورہ آرڈیننس کی دفعہ5(9)کے تحت بورڈ تشکیل دیا جانا ضروری تھا مگر بورڈ کی تشکیل اور منظوری کے بغیر غیر قانونی طور پر نظربندی میں توسیع کردی گئی۔



بعدازاںنظر بندی میں 18 اکتوبر 2012 اور 16 نومبر 2012کو مزید 30,30دن کی توسیع کردی گئی،محمد فاروق ایڈووکیٹ نے موقف اختیارکیا کہ درخواست گزار گذشتہ102دنوں سے غیر قانونی حراست میں ہے، نظربندی آئین کی دفعات 4,14,15,19اور25 کی خلاف ورزی ہے،خدشہ ہے کہ درخواست گزار کے خلاف مزید مقدمات درج کیے جائیں گے، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اجمل پہاڑی کی نظر بندی ختم کی جائے اور مزید مقدمات درج کرنے سے روکا جائے۔
Load Next Story