فوج کی نگرانی میں انتخابی فہرستیں درست کی جائیں سیاسی ومذہبی رہنما

ووٹرلسٹوں کی تصدیق کے عمل میںفوج کوشامل نہ کرکے دھاندلی کی راہ ہموارکی گئی.

جماعت اسلامی کے تحت اے پی سی سے سلیم ضیاء،محمد حسین محنتی ودیگر کاخطاب. فوٹو: فائل

مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے رہنمائو ں نے الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی فہرستوں کی درستگی کیلیے جانبدارانہ اورغیر شفاف عمل کو مسترد کرتے ہوئے اسے سپریم کورٹ کے احکامات کی صریحاً خلاف ورزی اور سیاسی جماعتوں کو کرائی جانے والی یقین دہانیوں کے منافی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ووٹر لسٹوں کی تصدیق کے عمل میں فوج کو شامل نہ کرکے پری پول ریگنگ کی راہ ہموار کی گئی ہے جس پرایک مرتبہ پھر احتجاج اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔

فوج کی نگرانی میںانتخابی فہرستیں درست کی جائیں،ان خیالات کا اظہار مقررین نے جماعت اسلامی کے تحت ادارہ نورحق میں '' سپریم کورٹ کا فیصلہ انتخابی فہرستوں کی اصلاح'' کے زیر عنوان منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما سلیم ضیاء، برجیس احمد، لئیق خان اور دیگر نے خطاب کیا، اس موقع پر جماعت اسلامی کراچی کے ڈپٹی سیکریٹری مسلم پرویز نے ایک قرارداد بھی پیش کی۔




محمد حسین محنتی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے عوامی احساسات کی ترجمانی کرتے ہوئے انتخابی فہرستوں کو نئے سرے سے مرتب کرنے کے احکامات دیے تھے اورکہا تھا کہ فوج کی نگرانی میں انتخابی فہرستیں درست کی جائیں مگر الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو مذاق بنا کر رکھ دیا ،انھوںنے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ ہم اشتہار دیں گے مگر اس پر بھی عمل نہیں کیا گیا، انھوں نے کہاکہ کراچی میں جو کچھ ہورہا ہے وہ توہین عدالت ہے ، سپریم کورٹ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے ووٹر لسٹوں کو درست نہ کیا گیا تو الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر احتجاج کیا جائے گا۔

 
Load Next Story